@irfanquets6: جنگل میں اگر ایک ہی درخت دوبارہ نظر آ جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ انسان آگے بڑھنے کے بجائے بار بار اُسی جگہ واپس آ رہا ہے۔ زندگی میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہم وہی غلطیاں دہراتے ہیں، وہی فیصلے کرتے ہیں، وہی راستے چنتے ہیں اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ انجام ہر بار ایک جیسا کیوں ہے۔ کبھی ایک ہی طرح کے لوگ زندگی میں آتے ہیں، وہی وعدے کرتے ہیں، وہی امید دلاتے ہیں اور آخرکار وہی تکلیف دے جاتے ہیں۔ پھر بھی انسان خود کو یہ سمجھاتا رہتا ہے کہ شاید اس بار سب کچھ مختلف ہوگا۔ اصل مسئلہ راستہ کھو دینا نہیں، بلکہ یہ سمجھ نہ پانا ہے کہ ہم راستہ کھو چکے ہیں۔ انسان جب اپنی غلط سمت کو ہی درست سمجھنے لگے تو پھر کوئی نشان، کوئی تجربہ اور کوئی حقیقت اسے آسانی سے قائل نہیں کر پاتی۔ وہ ہر بار خود کو تسلی دیتا رہتا ہے، حالانکہ اندر کہیں اُسے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ٹھیک نہیں۔ شاید اسی لیے کبھی کبھی منزل سے زیادہ ضروری یہ پہچاننا ہوتا ہے کہ ہم جس راستے پر چل رہے ہیں، وہ واقعی ہمیں منزل کی طرف لے جا رہا ہے یا صرف ایک ہی جگہ گھما رہا ہے۔ کیونکہ ہر بار وہی درخت نظر آنا اس بات کی علامت نہیں کہ جنگل بدل گیا ہے… شاید ہم نے اپنا راستہ بدلا ہی نہیں۔ ❤️🩹🥀