@user2777723993387:

lenir_ana_lunardi
lenir_ana_lunardi
Open In TikTok:
Region: BR
Sunday 27 September 2026 11:12:36 GMT
1634
9
2
0

Music

Download

Comments

airesedir2
Donato De Negreiro :
🦕🔴🦈
2026-09-27 12:21:32
0
wormergloriann5
Kely Celidonio :
🤝
2026-09-27 12:21:44
0
To see more videos from user @user2777723993387, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ہم صحابہؓ کو وہ لوگ مانتے ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، آپ ﷺ کے ساتھ زندگی گزاری، آپ ﷺ کے لیے اپنے گھر، مال اور جان تک قربان کیے۔ لیکن پھر ایک سوال ایسا ہے جس سے بہت سے مسلمان گھبرا کر گزر جاتے ہیں۔ اگر یہ وہی صحابہؓ تھے جن کی تربیت خود رسول اللہ ﷺ نے کی تھی، تو پھر ان کے درمیان جنگیں کیوں ہوئیں؟ حضرت علیؓ ایک طرف تھے، حضرت عائشہؓ، حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ دوسری طرف تھے، پھر حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان صفین کا واقعہ پیش آیا۔ آخر ایسا کیوں ہوا؟ اس سوال کا جواب جذبات سے نہیں، تاریخ اور دین دونوں کو سامنے رکھ کر سمجھنا ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد اسلام ختم نہیں ہوا تھا، بلکہ ایک بہت بڑی اسلامی ریاست وجود میں آ چکی تھی۔ مختلف علاقوں میں مختلف قبائل، لشکر، سیاسی حالات اور نئے مسلمان موجود تھے۔ پھر حضرت عثمانؓ کے آخری دور میں حالات انتہائی پیچیدہ ہوگئے اور بالآخر حضرت عثمانؓ شہید کر دیے گئے۔ اس کے بعد حضرت علیؓ خلیفہ بنے، لیکن انہیں ایک ایسا معاشرہ ملا جس میں پہلے ہی شدید انتشار پیدا ہو چکا تھا۔ حضرت علیؓ کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کے معاملے میں فوری کارروائی کیسے کی جائے اور ایک بکھری ہوئی ریاست میں نظم کیسے قائم کیا جائے۔ ایک طرف یہ مطالبہ تھا کہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے فوراً قصاص لیا جائے، جبکہ دوسری طرف حضرت علیؓ کی پوزیشن یہ تھی کہ پہلے ریاست کو سنبھالا جائے اور حالات کو قابو میں لایا جائے، کیونکہ اس وقت قاتلوں اور باغیوں کی صورتحال پوری طرح واضح اور قابو میں نہیں تھی۔ حضرت معاویہؓ، جو حضرت عثمانؓ کے قریبی رشتہ دار بھی تھے، قصاصِ عثمانؓ پر زور دے رہے تھے، جبکہ حضرت علیؓ اپنے خلیفہ ہونے کی حیثیت سے پہلے ریاستی نظم بحال کرنا چاہتے تھے۔ یہی اختلاف آگے چل کر بڑے تصادم کا سبب بنا۔ لیکن یہاں ایک بات بہت اہم ہے۔ ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ دونوں طرف کے لوگ اسلام سے نکل گئے تھے یا سب لوگ دنیا اور اقتدار کے لیے لڑ رہے تھے۔ خود قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرائی جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ﴾ “اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو۔” غور کیجیے، قرآن نے لڑنے والے دونوں گروہوں کو مومن کہا۔ پھر جنگِ جمل کا واقعہ پیش آیا۔ اس کے بعد حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان صفین میں بڑا تصادم ہوا۔ یہ صرف ایک سادہ سیاسی جھگڑا نہیں تھا، بلکہ حضرت عثمانؓ کے قتل، خلافت کی اطاعت اور ریاستی نظم جیسے پیچیدہ مسائل اس کے پیچھے موجود تھے۔ اور صفین کے بارے میں ایک نہایت اہم حدیث بھی ہمارے سامنے ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمار بن یاسرؓ کے بارے میں فرمایا تھا کہ “عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔” صحیح مسلم میں یہ حدیث موجود ہے۔ حضرت عمارؓ بعد میں صفین میں حضرت علیؓ کے لشکر میں تھے اور وہیں شہید ہوئے۔ یہ حدیث تاریخ کے اس واقعے کو سمجھنے میں اہم ہے، لیکن یہاں بھی ہمیں انصاف سے کام لینا ہوگا۔ ایک گروہ کے بارے میں کسی خاص شرعی وصف کا ذکر کرنا اور ہر فرد کو کافر یا منافق قرار دینا ایک ہی چیز نہیں۔ اسی لیے صحابہؓ کے باہمی اختلافات کو سمجھتے ہوئے ہمیں اپنی زبان کو قابو میں رکھنا چاہیے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے خود فرمایا: “میرے صحابہ کو برا نہ کہو۔” اور فرمایا کہ اگر کوئی شخص اُحد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کرے تو وہ صحابہؓ کے ایک معمولی سے انفاق کے برابر نہیں پہنچ سکتا۔ تو پھر ہمیں کیا سمجھنا چاہیے؟ یہ سمجھنا چاہیے کہ صحابہؓ معصوم نہیں تھے۔ معصوم صرف انبیاء علیہم السلام ہوتے ہیں۔ صحابہؓ انسان تھے، ان سے اجتہادی خطا بھی ہو سکتی تھی، لیکن وہ عام لوگوں جیسے لوگ بھی نہیں تھے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دین لیا، دین کے لیے قربانیاں دیں، اور قرآن خود ابتدائی مہاجرین و انصار کے بارے میں فرماتا ہے کہ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ اسی لیے تاریخ کے ان واقعات کو آج کی سیاسی لڑائیوں کی طرح دیکھنا خطرناک ہے۔ ہم آج بیٹھ کر چودہ سو سال پرانے اختلافات کو اپنی دشمنی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ کوئی حضرت علیؓ کے نام پر دوسرے صحابہؓ کو برا کہتا ہے، کوئی حضرت معاویہؓ کے نام پر حضرت علیؓ کے مقام کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور یوں وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ زندگی گزاری، ہمارے آج کے جھگڑوں کا ایندھن بن جاتے ہیں۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صحابہؓ کی توہین سے روکا۔ اور ایک عجیب بات دیکھیے۔ بعد میں حضرت حسن بن علیؓ نے حضرت معاویہؓ کے ساتھ صلح کی۔  #islamic #deenurdustories #taybiivibes #foryoupage #viral
ہم صحابہؓ کو وہ لوگ مانتے ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، آپ ﷺ کے ساتھ زندگی گزاری، آپ ﷺ کے لیے اپنے گھر، مال اور جان تک قربان کیے۔ لیکن پھر ایک سوال ایسا ہے جس سے بہت سے مسلمان گھبرا کر گزر جاتے ہیں۔ اگر یہ وہی صحابہؓ تھے جن کی تربیت خود رسول اللہ ﷺ نے کی تھی، تو پھر ان کے درمیان جنگیں کیوں ہوئیں؟ حضرت علیؓ ایک طرف تھے، حضرت عائشہؓ، حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ دوسری طرف تھے، پھر حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان صفین کا واقعہ پیش آیا۔ آخر ایسا کیوں ہوا؟ اس سوال کا جواب جذبات سے نہیں، تاریخ اور دین دونوں کو سامنے رکھ کر سمجھنا ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد اسلام ختم نہیں ہوا تھا، بلکہ ایک بہت بڑی اسلامی ریاست وجود میں آ چکی تھی۔ مختلف علاقوں میں مختلف قبائل، لشکر، سیاسی حالات اور نئے مسلمان موجود تھے۔ پھر حضرت عثمانؓ کے آخری دور میں حالات انتہائی پیچیدہ ہوگئے اور بالآخر حضرت عثمانؓ شہید کر دیے گئے۔ اس کے بعد حضرت علیؓ خلیفہ بنے، لیکن انہیں ایک ایسا معاشرہ ملا جس میں پہلے ہی شدید انتشار پیدا ہو چکا تھا۔ حضرت علیؓ کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کے معاملے میں فوری کارروائی کیسے کی جائے اور ایک بکھری ہوئی ریاست میں نظم کیسے قائم کیا جائے۔ ایک طرف یہ مطالبہ تھا کہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے فوراً قصاص لیا جائے، جبکہ دوسری طرف حضرت علیؓ کی پوزیشن یہ تھی کہ پہلے ریاست کو سنبھالا جائے اور حالات کو قابو میں لایا جائے، کیونکہ اس وقت قاتلوں اور باغیوں کی صورتحال پوری طرح واضح اور قابو میں نہیں تھی۔ حضرت معاویہؓ، جو حضرت عثمانؓ کے قریبی رشتہ دار بھی تھے، قصاصِ عثمانؓ پر زور دے رہے تھے، جبکہ حضرت علیؓ اپنے خلیفہ ہونے کی حیثیت سے پہلے ریاستی نظم بحال کرنا چاہتے تھے۔ یہی اختلاف آگے چل کر بڑے تصادم کا سبب بنا۔ لیکن یہاں ایک بات بہت اہم ہے۔ ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ دونوں طرف کے لوگ اسلام سے نکل گئے تھے یا سب لوگ دنیا اور اقتدار کے لیے لڑ رہے تھے۔ خود قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرائی جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ﴾ “اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو۔” غور کیجیے، قرآن نے لڑنے والے دونوں گروہوں کو مومن کہا۔ پھر جنگِ جمل کا واقعہ پیش آیا۔ اس کے بعد حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان صفین میں بڑا تصادم ہوا۔ یہ صرف ایک سادہ سیاسی جھگڑا نہیں تھا، بلکہ حضرت عثمانؓ کے قتل، خلافت کی اطاعت اور ریاستی نظم جیسے پیچیدہ مسائل اس کے پیچھے موجود تھے۔ اور صفین کے بارے میں ایک نہایت اہم حدیث بھی ہمارے سامنے ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمار بن یاسرؓ کے بارے میں فرمایا تھا کہ “عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔” صحیح مسلم میں یہ حدیث موجود ہے۔ حضرت عمارؓ بعد میں صفین میں حضرت علیؓ کے لشکر میں تھے اور وہیں شہید ہوئے۔ یہ حدیث تاریخ کے اس واقعے کو سمجھنے میں اہم ہے، لیکن یہاں بھی ہمیں انصاف سے کام لینا ہوگا۔ ایک گروہ کے بارے میں کسی خاص شرعی وصف کا ذکر کرنا اور ہر فرد کو کافر یا منافق قرار دینا ایک ہی چیز نہیں۔ اسی لیے صحابہؓ کے باہمی اختلافات کو سمجھتے ہوئے ہمیں اپنی زبان کو قابو میں رکھنا چاہیے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے خود فرمایا: “میرے صحابہ کو برا نہ کہو۔” اور فرمایا کہ اگر کوئی شخص اُحد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کرے تو وہ صحابہؓ کے ایک معمولی سے انفاق کے برابر نہیں پہنچ سکتا۔ تو پھر ہمیں کیا سمجھنا چاہیے؟ یہ سمجھنا چاہیے کہ صحابہؓ معصوم نہیں تھے۔ معصوم صرف انبیاء علیہم السلام ہوتے ہیں۔ صحابہؓ انسان تھے، ان سے اجتہادی خطا بھی ہو سکتی تھی، لیکن وہ عام لوگوں جیسے لوگ بھی نہیں تھے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دین لیا، دین کے لیے قربانیاں دیں، اور قرآن خود ابتدائی مہاجرین و انصار کے بارے میں فرماتا ہے کہ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ اسی لیے تاریخ کے ان واقعات کو آج کی سیاسی لڑائیوں کی طرح دیکھنا خطرناک ہے۔ ہم آج بیٹھ کر چودہ سو سال پرانے اختلافات کو اپنی دشمنی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ کوئی حضرت علیؓ کے نام پر دوسرے صحابہؓ کو برا کہتا ہے، کوئی حضرت معاویہؓ کے نام پر حضرت علیؓ کے مقام کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور یوں وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ زندگی گزاری، ہمارے آج کے جھگڑوں کا ایندھن بن جاتے ہیں۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صحابہؓ کی توہین سے روکا۔ اور ایک عجیب بات دیکھیے۔ بعد میں حضرت حسن بن علیؓ نے حضرت معاویہؓ کے ساتھ صلح کی۔ #islamic #deenurdustories #taybiivibes #foryoupage #viral

About