@blackworksofficial: Muchos de nosotros seguimos aquí 🥵 Sin palabras @Fantasm B2B @winsonngoh en Blackworks VII anniversary #technotok #rave #hardtechno #blackworks

blackworksofficial
blackworksofficial
Open In TikTok:
Region: ES
Sunday 27 September 2026 11:49:48 GMT
22232
4668
38
380

Music

Download

Comments

__samuu31
samuu31 :
El que toque la mesa pierde
2026-09-27 14:42:08
31
xnagini1
N A G I N I :
TAKE ME BACK
2026-09-27 17:45:40
0
not_xndy
NotXndy | SUPERMOTO🔱 :
It was mental🤩🤩🤩
2026-09-27 19:56:34
0
jusseppeee
SPYDER :
Que heavyyy
2026-09-27 15:24:56
0
dheivanimaina
Dhei :
Que bien me lo he pasado! Espero seguir yendo en muchas blackworks 🎂❤️
2026-09-27 12:22:36
3
costaanah
costa🦧 :
2026-09-27 11:55:12
4
mf.umm
:) :
me volvi loca
2026-09-27 12:49:56
11
amyrodriguez_16
Amy𓆰𓆪❤️‍🔥 :
Me lo e pasado increíble para ser mi primera vez en blackworks ❤️🔥
2026-09-27 18:34:25
5
corimartinv
Coraima✨ :
2026-09-27 14:04:10
2
ppatri.navarro2
ppatri.navarro2 :
2026-09-27 12:05:17
2
peroquequemiras
Que miras :
Brutal usb
2026-09-27 15:16:16
4
paaaula._68
444 :
2026-09-27 14:30:20
2
sofipnl1996
Sofía ✨ :
Brutal
2026-09-27 13:11:05
12
robertoo28__
Roberto Petcu :
2026-09-27 12:53:10
1
joomiranda8
João Miranda :
2026-09-27 12:41:25
1
sergio.nava93
Sergionavarro93 :
Locuraaaaaaaaaaaaaaaa🙈
2026-09-28 14:16:09
0
nikitamulder_
★ 𝐍𝐈𝐊𝐈𝐓𝐀 ★ :
2026-09-27 21:21:13
0
alexxjordan17
ᴊᴏʀᴅᴀɴ :
2026-09-27 12:18:00
1
mauricioportilhoo07
Maurii Otero 🥷 :
2026-09-27 15:52:11
0
sebasbarreraa_
Sebastián Barrera :
2026-09-27 22:53:40
0
cyupuf_312
ᗪ尺卂匚ㄖ ᗰ卂ㄥ千ㄖㄚ :
🖤
2026-09-29 10:03:14
0
techno.avenger
TECHNO.AVENGER :
2026-09-27 18:48:16
0
magym.beyker
Príncipe Saiyagym :
2026-09-27 21:18:45
0
raqueel_0909
Reeicheel😎 :
2026-09-27 19:57:52
0
gael___fernando
G.F🇲🇿 :
2026-09-28 18:40:41
0
To see more videos from user @blackworksofficial, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

سسکیاں لیتا ہے وجود میرا نوچ کر کھا گئیں یادیں تیری رات کا کوئی خاص وقت نہیں ہوتا جب یہ شروع ہوتا ہے۔ کبھی آنکھ بند کرتے ہی، کبھی کسی معمولی سی آواز پر، کبھی کسی خوشبو کے گزرنے سے، اور کبھی بالکل بےسبب۔ بس ایک لمحہ کافی ہوتا ہے۔ اور پھر یادیں آتی ہیں۔ نرم نہیں۔ محبت بھری نہیں۔ درندوں کی طرح۔ ٹوٹ پڑتی ہیں مجھ پر، نوچتی ہیں، کاٹتی ہیں، اور جاتے جاتے میرے اندر کا وہ حصہ بھی ساتھ لے جاتی ہیں جسے میں دن بھر بڑی مشکل سے سلامت رکھتا ہوں۔ لوگ سمجھتے ہیں وقت گزر گیا ہے۔ شاید انہیں لگتا ہے زخم بھی وقت کے ساتھ تھک جاتے ہیں۔ انہیں کیا معلوم، کچھ زخم بھرنے کے بجائے آدمی کے اندر خاموش رہنا سیکھ لیتے ہیں۔ میں بھی سیکھ گیا ہوں۔ دن کو ہنس لیتا ہوں، لوگوں میں بیٹھ لیتا ہوں، باتیں کر لیتا ہوں، ایسے چلتا پھرتا ہوں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ بس رات ہوتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ دن بھر جس شخص کو میں زندہ رکھے پھر رہا تھا، وہ اندر سے کب کا زخمی پڑا ہے۔ کبھی کوئی جملہ تمہاری طرف لے جاتا ہے، کبھی کوئی آواز، کبھی وہی پرانی خاموشی۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ یادیں مجھ سے اجازت نہیں مانگتیں۔ انہیں معلوم ہے میں انہیں روک نہیں سکتا۔ وہ آتی ہیں، بیٹھتی بھی نہیں، سیدھا وہیں ہاتھ ڈالتی ہیں جہاں زخم ابھی زندہ ہوتا ہے۔ میں نے کئی بار خود کو سمجھایا کہ یہ صرف یادیں ہیں، حقیقت نہیں۔ مگر دل منطق سے کہاں چلتا ہے؟ اسے تو وہی چہرہ یاد رہتا ہے، وہی آواز، وہی وقت، وہی شخص۔ اور پھر وہی سب کچھ ایک بار پھر میرے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ جیسے وقت گزرا ہی نہ ہو۔ جیسے تم گئی ہی نہ ہو۔ جیسے میں آج بھی وہیں کھڑا ہوں جہاں تم نے مجھے چھوڑا تھا۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں، انسان آخر یادوں سے بھی کب تک لڑ سکتا ہے؟ وہ دشمن بھی تو عجیب ہیں جنہیں ہم خود اپنے اندر جگہ دیتے ہیں۔ انہیں نکالنے کی کوشش کرو تو وہ اور گہری اتر جاتی ہیں۔ بھلانا چاہو تو کوئی پرانا لمحہ سامنے لا کھڑا کرتی ہیں۔ اور اگر خود کو مصروف کر لو تو رات کو حساب لینے آ جاتی ہیں۔ دنیا سے تو چھپ سکتا ہوں، اپنی یادوں سے کہاں چھپوں؟ سو اب سسکنا بھی آتا ہے۔ خاموشی سے۔ بغیر کسی کو بتائے۔ کیونکہ ہر درد سنایا بھی تو نہیں جا سکتا۔ کچھ تکلیفیں لفظوں میں آ جائیں تو چھوٹی لگنے لگتی ہیں، اور میں اپنی اذیت کو چھوٹا نہیں کرنا چاہتا۔ اس لیے صبح پھر وہی چہرہ لے کر اٹھتا ہوں۔ لوگ سمجھتے ہیں میں ٹھیک ہوں۔ میں بھی انہیں یہی سمجھنے دیتا ہوں۔ کون ہر ایک کو بتائے کہ رات بھر کوئی شخص اپنے ہی ماضی کے ہاتھوں نوچا جاتا رہا ہے؟ کون سمجھائے کہ کچھ لوگ زندگی سے چلے جاتے ہیں، مگر ان کی یادیں انسان کے اندر رہ کر بھی اسے جینے نہیں دیتیں۔ تم چلی گئیں۔ یہ حقیقت تھی۔ مگر تمہاری یادیں؟ وہ شاید میری سزا بن کر رہ گئیں۔ سسکیاں لیتا ہے وجود میرا، نوچ کر کھا گئیں یادیں تیری۔
سسکیاں لیتا ہے وجود میرا نوچ کر کھا گئیں یادیں تیری رات کا کوئی خاص وقت نہیں ہوتا جب یہ شروع ہوتا ہے۔ کبھی آنکھ بند کرتے ہی، کبھی کسی معمولی سی آواز پر، کبھی کسی خوشبو کے گزرنے سے، اور کبھی بالکل بےسبب۔ بس ایک لمحہ کافی ہوتا ہے۔ اور پھر یادیں آتی ہیں۔ نرم نہیں۔ محبت بھری نہیں۔ درندوں کی طرح۔ ٹوٹ پڑتی ہیں مجھ پر، نوچتی ہیں، کاٹتی ہیں، اور جاتے جاتے میرے اندر کا وہ حصہ بھی ساتھ لے جاتی ہیں جسے میں دن بھر بڑی مشکل سے سلامت رکھتا ہوں۔ لوگ سمجھتے ہیں وقت گزر گیا ہے۔ شاید انہیں لگتا ہے زخم بھی وقت کے ساتھ تھک جاتے ہیں۔ انہیں کیا معلوم، کچھ زخم بھرنے کے بجائے آدمی کے اندر خاموش رہنا سیکھ لیتے ہیں۔ میں بھی سیکھ گیا ہوں۔ دن کو ہنس لیتا ہوں، لوگوں میں بیٹھ لیتا ہوں، باتیں کر لیتا ہوں، ایسے چلتا پھرتا ہوں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ بس رات ہوتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ دن بھر جس شخص کو میں زندہ رکھے پھر رہا تھا، وہ اندر سے کب کا زخمی پڑا ہے۔ کبھی کوئی جملہ تمہاری طرف لے جاتا ہے، کبھی کوئی آواز، کبھی وہی پرانی خاموشی۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ یادیں مجھ سے اجازت نہیں مانگتیں۔ انہیں معلوم ہے میں انہیں روک نہیں سکتا۔ وہ آتی ہیں، بیٹھتی بھی نہیں، سیدھا وہیں ہاتھ ڈالتی ہیں جہاں زخم ابھی زندہ ہوتا ہے۔ میں نے کئی بار خود کو سمجھایا کہ یہ صرف یادیں ہیں، حقیقت نہیں۔ مگر دل منطق سے کہاں چلتا ہے؟ اسے تو وہی چہرہ یاد رہتا ہے، وہی آواز، وہی وقت، وہی شخص۔ اور پھر وہی سب کچھ ایک بار پھر میرے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ جیسے وقت گزرا ہی نہ ہو۔ جیسے تم گئی ہی نہ ہو۔ جیسے میں آج بھی وہیں کھڑا ہوں جہاں تم نے مجھے چھوڑا تھا۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں، انسان آخر یادوں سے بھی کب تک لڑ سکتا ہے؟ وہ دشمن بھی تو عجیب ہیں جنہیں ہم خود اپنے اندر جگہ دیتے ہیں۔ انہیں نکالنے کی کوشش کرو تو وہ اور گہری اتر جاتی ہیں۔ بھلانا چاہو تو کوئی پرانا لمحہ سامنے لا کھڑا کرتی ہیں۔ اور اگر خود کو مصروف کر لو تو رات کو حساب لینے آ جاتی ہیں۔ دنیا سے تو چھپ سکتا ہوں، اپنی یادوں سے کہاں چھپوں؟ سو اب سسکنا بھی آتا ہے۔ خاموشی سے۔ بغیر کسی کو بتائے۔ کیونکہ ہر درد سنایا بھی تو نہیں جا سکتا۔ کچھ تکلیفیں لفظوں میں آ جائیں تو چھوٹی لگنے لگتی ہیں، اور میں اپنی اذیت کو چھوٹا نہیں کرنا چاہتا۔ اس لیے صبح پھر وہی چہرہ لے کر اٹھتا ہوں۔ لوگ سمجھتے ہیں میں ٹھیک ہوں۔ میں بھی انہیں یہی سمجھنے دیتا ہوں۔ کون ہر ایک کو بتائے کہ رات بھر کوئی شخص اپنے ہی ماضی کے ہاتھوں نوچا جاتا رہا ہے؟ کون سمجھائے کہ کچھ لوگ زندگی سے چلے جاتے ہیں، مگر ان کی یادیں انسان کے اندر رہ کر بھی اسے جینے نہیں دیتیں۔ تم چلی گئیں۔ یہ حقیقت تھی۔ مگر تمہاری یادیں؟ وہ شاید میری سزا بن کر رہ گئیں۔ سسکیاں لیتا ہے وجود میرا، نوچ کر کھا گئیں یادیں تیری۔

About