عشقِ بُلہ نوہ نچاوا یار تے نچنا پیندا اے۔
سامنا ہو وے یار تے نچنا پیندا اے،🫠❤️🩹
2026-09-28 19:17:34
2
♍ :
2026-09-28 15:29:16
6
. :
Hayeee🥺
2026-09-28 20:14:32
0
silent.dreams♥️ :
hyyy
2026-09-28 08:48:38
5
🤗kïtty🤗 :
2026-09-27 13:22:43
2
🤍 روحِ پوش 🕊️ :
پھولا ورگی زندگی نوح عشق رُلا چڑ دا
سرا بازار جے چاوے عشقِ نچا چڑ دا 🫠❤️🩹
2026-09-28 19:13:30
1
👑 :
😁😁😁
2026-09-28 12:36:43
4
Sumie_Noir🎀🦋 :
😩😩😩😩😢
2026-09-28 12:42:30
3
سید علی 313👑 :
❣️❣️❣️
2026-09-28 08:33:32
3
SARDAR_ZADA💫👑 :
❤️❤️❤️
2026-09-28 14:33:46
2
🥀 :
اُداسیوں سے بھری کچی عمر کی یہ نسل
شاعری نہ کرتی تو دُکھوں سے مر جاتی،
جو آنکھوں میں چھپا لیتی ہے ہر درد اپنا،
وہ لفظوں میں نہ ڈھالتی تو بکھر جاتی۔
یہ وہ لوگ ہیں جو ہنستے ہوئے بھی
اپنے اندر کئی ماتم لیے پھرتے ہیں،
کسی کے پوچھنے پر "ٹھیک ہوں" کہہ کر
رات بھر اپنی ہی یادوں سے لڑتے ہیں۔
کسی کو محبت میں جدائی ملی،
کسی کو اپنوں کی بے رُخی کا صدمہ،
کسی نے خواب سجائے تھے عمر بھر کے،
مگر وقت نے دے دیا صرف اندھیرا۔
یہ عمر تو خوابوں کے موسم کی تھی،
مگر یہاں نیند بھی قرض لگتی ہے،
جس دل کو محبت کا حق تھا ملنا،
وہ دل اب خاموش رہنا سیکھتا ہے۔
کچھ لوگ بچھڑ کر بھی دل میں رہتے ہیں،
کچھ لوگ مل کر بھی اپنے نہیں ہوتے،
کچھ زخم نظر آتے نہیں کبھی،
مگر عمر بھر کے لیے گہرے ہوتے ہیں۔
یہ نسل بھی عجیب نسل ہے شاید،
درد کو ہنسی میں چھپا لیتی ہے،
کوئی پوچھے تو کہتی ہے "کچھ نہیں"،
پھر تنہائی میں غزل بنا لیتی ہے۔
کاغذ پہ گرتے ہوئے لفظوں میں
کتنے لوگوں کی چیخیں سنائی دیتی ہیں،
ہر شعر کے پیچھے اک ٹوٹا دل ہے،
ہر نظم میں کچھ یادیں روتی ہیں۔
شاعری ان کے لیے صرف شاعری نہیں،
یہ سانس لینے کا بہانہ ہے،
جو بات کسی سے کہہ نہیں سکتے،
اسے لفظوں سے کہہ دینا سہارا ہے۔
کبھی کوئی مصرعہ ماں کی یاد ہے،
کبھی کوئی شعر بچھڑے یار کا غم،
کبھی کسی کے لوٹ آنے کی امید،
کبھی خود سے بچھڑ جانے کا ماتم۔
اُداسیوں سے بھری اس کچی عمر میں
ہم نے بھی قلم کو دوست بنا لیا،
جو درد کسی انسان کو نہ کہہ سکے،
وہ کاغذ کے حوالے کر دیا۔
شاید اسی لیے یہ نسل زندہ ہے،
ورنہ غم بہت تھے، عمر بہت کم،
ہم شعر لکھتے رہے رات بھر
اور صبح کو پھر مسکرا دیے ہم۔
کہنے کو تو یہ صرف چند لفظ ہیں،
مگر ان میں کئی زندگیاں دفن ہیں،
کسی کی محبت، کسی کا انتظار،
کسی کے ادھورے خواب کفن ہیں۔
سو شاعری کرتے رہنے دو ہمیں،
یہ دل کا بوجھ ہلکا کرتی ہے،
جو آنکھ نمی سے بھر جائے تو
یہی لفظوں میں بارش کرتی ہے۔
اُداسیوں سے بھری کچی عمر کی یہ نسل
شاعری نہ کرتی تو دُکھوں سے مر جاتی،
یہ لفظ نہیں، ہماری سانسیں ہیں شاید،
ہم لکھتے نہ رہتے تو روح بکھر جاتی۔
2026-09-27 14:43:28
9
To see more videos from user @deeplines_xo, please go to the Tikwm
homepage.