@miaanime:

🌛 Lonor Neptune 🌟
🌛 Lonor Neptune 🌟
Open In TikTok:
Region: US
Sunday 27 September 2026 15:33:00 GMT
640
0
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @miaanime, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#انسانیت کی ایک روشن مثال: جامع مسجد کے مسلمانوں نے بیمار بچی کے علاج کے لیے کروڑوں روپے جمع کر دیے بھارت کی تاریخی جامع مسجد دہلی سے ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے جس نے مذہب، ذات اور فرقے کی تمام تفریق سے بالاتر ہو کر انسانیت کی ایک خوبصورت تصویر پیش کی ہے۔ ایک کمسن بچی ایک نایاب اور خطرناک بیماری میں مبتلا ہے، جس کے علاج کے لیے انتہائی مہنگی دوا درکار ہے۔ اس علاج کی لاگت کروڑوں بھارتی روپے بتائی گئی ہے، جو ایک عام خاندان کے لیے ادا کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ بچی کے علاج کے لیے سوشل میڈیا کے ذریعے چندہ مہم شروع کی گئی۔ اس مہم کو اس وقت مزید تقویت ملی جب دہلی کی جامع مسجد میں نمازیوں سے بھی اس بچی کی زندگی بچانے کے لیے تعاون کی اپیل کی گئی۔ رپورٹس کے مطابق لوگوں نے اپنی استطاعت کے مطابق عطیات دینا شروع کیے۔ کسی نے نقد رقم دی تو کسی نے آن لائن ذرائع سے اپنا حصہ ڈالا۔ دیکھتے ہی دیکھتے چندہ لاکھوں سے کروڑوں روپے تک پہنچ گیا۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 6 کروڑ 50 لاکھ بھارتی روپے جمع کیے جا چکے تھے۔ اس واقعے کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ مدد حاصل کرنے والی بچی کا تعلق مسلمان خاندان سے نہیں بتایا جاتا، لیکن اس کے باوجود مسلمانوں نے اس کی زندگی کو ایک انسانی مسئلہ سمجھا اور اس کے علاج کے لیے دل کھول کر عطیات دیے۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانیت کسی ایک مذہب، قوم یا برادری کی میراث نہیں۔ بیماری جب کسی بچے کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے تو اس کے سامنے مذہب، ذات اور زبان کی تفریق بے معنی ہو جاتی ہے۔ ایک معصوم زندگی کو بچانا سب سے بڑی ترجیح بن جاتا ہے۔ جامع مسجد میں جمع ہونے والے یہ عطیات صرف رقم نہیں بلکہ ہمدردی، رحم اور انسانی بھائی چارے کی علامت ہیں۔ چند کروڑ روپے شاید اعداد و شمار میں ایک بڑی رقم ہوں، لیکن اس کے پیچھے موجود جذبہ اس سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ آج ایسے واقعات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ نفرت اور تقسیم کی باتیں بہت جلد پھیل جاتی ہیں، لیکن انسانیت، محبت اور باہمی تعاون کی ایسی خبریں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ معاشرے میں اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو کسی انسان کی مدد اس لیے کرتے ہیں کہ وہ انسان ہے۔ اگر اس بچی کے علاج کے لیے یہ کوشش کامیاب ہوتی ہے اور اسے زندگی کی نئی امید ملتی ہے، تو یہ صرف ایک خاندان کی خوشی نہیں ہوگی بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے بھی باعثِ مسرت ہوگی جنہوں نے اس معصوم زندگی کو بچانے میں اپنا حصہ ڈالا۔ انسانیت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، اور کبھی کبھی ایک معصوم بچے کی زندگی بچانے کے لیے اٹھایا گیا ہاتھ پوری انسانیت کا چہرہ روشن کر دیتا ہے۔#
#انسانیت کی ایک روشن مثال: جامع مسجد کے مسلمانوں نے بیمار بچی کے علاج کے لیے کروڑوں روپے جمع کر دیے بھارت کی تاریخی جامع مسجد دہلی سے ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے جس نے مذہب، ذات اور فرقے کی تمام تفریق سے بالاتر ہو کر انسانیت کی ایک خوبصورت تصویر پیش کی ہے۔ ایک کمسن بچی ایک نایاب اور خطرناک بیماری میں مبتلا ہے، جس کے علاج کے لیے انتہائی مہنگی دوا درکار ہے۔ اس علاج کی لاگت کروڑوں بھارتی روپے بتائی گئی ہے، جو ایک عام خاندان کے لیے ادا کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ بچی کے علاج کے لیے سوشل میڈیا کے ذریعے چندہ مہم شروع کی گئی۔ اس مہم کو اس وقت مزید تقویت ملی جب دہلی کی جامع مسجد میں نمازیوں سے بھی اس بچی کی زندگی بچانے کے لیے تعاون کی اپیل کی گئی۔ رپورٹس کے مطابق لوگوں نے اپنی استطاعت کے مطابق عطیات دینا شروع کیے۔ کسی نے نقد رقم دی تو کسی نے آن لائن ذرائع سے اپنا حصہ ڈالا۔ دیکھتے ہی دیکھتے چندہ لاکھوں سے کروڑوں روپے تک پہنچ گیا۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 6 کروڑ 50 لاکھ بھارتی روپے جمع کیے جا چکے تھے۔ اس واقعے کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ مدد حاصل کرنے والی بچی کا تعلق مسلمان خاندان سے نہیں بتایا جاتا، لیکن اس کے باوجود مسلمانوں نے اس کی زندگی کو ایک انسانی مسئلہ سمجھا اور اس کے علاج کے لیے دل کھول کر عطیات دیے۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانیت کسی ایک مذہب، قوم یا برادری کی میراث نہیں۔ بیماری جب کسی بچے کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے تو اس کے سامنے مذہب، ذات اور زبان کی تفریق بے معنی ہو جاتی ہے۔ ایک معصوم زندگی کو بچانا سب سے بڑی ترجیح بن جاتا ہے۔ جامع مسجد میں جمع ہونے والے یہ عطیات صرف رقم نہیں بلکہ ہمدردی، رحم اور انسانی بھائی چارے کی علامت ہیں۔ چند کروڑ روپے شاید اعداد و شمار میں ایک بڑی رقم ہوں، لیکن اس کے پیچھے موجود جذبہ اس سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ آج ایسے واقعات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ نفرت اور تقسیم کی باتیں بہت جلد پھیل جاتی ہیں، لیکن انسانیت، محبت اور باہمی تعاون کی ایسی خبریں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ معاشرے میں اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو کسی انسان کی مدد اس لیے کرتے ہیں کہ وہ انسان ہے۔ اگر اس بچی کے علاج کے لیے یہ کوشش کامیاب ہوتی ہے اور اسے زندگی کی نئی امید ملتی ہے، تو یہ صرف ایک خاندان کی خوشی نہیں ہوگی بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے بھی باعثِ مسرت ہوگی جنہوں نے اس معصوم زندگی کو بچانے میں اپنا حصہ ڈالا۔ انسانیت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، اور کبھی کبھی ایک معصوم بچے کی زندگی بچانے کے لیے اٹھایا گیا ہاتھ پوری انسانیت کا چہرہ روشن کر دیتا ہے۔#

About