@silentstrength9661: محبت میں محبوب کا بچھڑنا ایسے ہے جیسے صحرا میں بارش کی آخری بوند کا بھی سوکھ جانا، جیسے قبر میں پڑے مردے کا کفن کا بھی چھن جانا، جیسے اندھی آنکھوں سے خوابوں کا بھی چھین جانا، جیسے ٹوٹے ہوئے دل میں امید کا بھی مر جانا۔ جیسے آخری سانس پر لبوں سے کلمہ بھی بھول جانا، جیسے زندہ لاش کا اپنے جنازے کو خود کندھا دینا۔ اس جدائی کو سہتے سہتے انسان ایسے ہو جاتا ہے جیسے قبرستان میں کوئی آخری چراغ بھی بجھ جائے، جیسے آئینے میں اپنا چہرہ بھی اجنبی لگنے لگے، جیسے دل تو دھڑکے پر جینے کی وجہ ختم ہو جائے، جیسے ہنستے ہنستے اچانک آنکھیں برسنے لگیں، جیسے سب کے ہوتے ہوئے بھی انسان بالکل اکیلا رہ جائے، جیسے زندہ ہو کر بھی اپنے اندر اپنی ہی میت اٹھائے پھرے۔ پھر خدا کے روبرو ہو کر بس،،، ہاتھ اٹھتے ہیں تو لفظ ختم ہو جاتے ہیں، آنکھ برستی ہے اور سجدہ بھیگ جاتا ہے، دل میں بس ایک ہی صدا رہ جاتی ہے... یا رب، میں نے تو بس محبت کی تھی، تو نے مجھے اتنی بڑی سزا کیوں دے دی۔