@shahbaba097hassan786: ہزارہ نیوز 24 (خصوصی رپورٹ)حطار انڈسٹریل اسٹیٹ: فیکٹری مالکان کا "ٹھیکیداری نظام"، غریب مزدوروں کے استحصال کی انتہا، کوئی پرسانِ حال نہیں: حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں غریب لیبر کے ساتھ ظلم اور معاشی استحصال کی داستانیں سنگین رخ اختیار کر گئیں۔ ذرائع سے ملنے والی پریشان کن معلومات کے مطابق، انڈسٹریل اسٹیٹ کے متعدد فیکٹری مالکان نے قانون اور اخلاقیات کو پسِ پشت ڈال کر ایک ایسا "ٹھیکیداری نظام" قائم کر رکھا ہے جس کی زد میں آ کر غریب مزدور طبقہ بری طرح پس رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے حقوق، تنخواہوں یا حادثات سے متعلق جب بھی کوئی سوال اٹھایا جاتا ہے یا مزدور اپنے جائز حق کی بات کرتے ہیں، تو فیکٹری مالکان انتہائی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صاف مکر جاتے ہیں۔ مالکان کا روایتی مؤقف ہوتا ہے کہ "یہ ہمارا بندہ نہیں ہے، یہ تو ٹھیکیدار کا بندہ ہے، جو بات کرنی ہے ٹھیکیدار سے کریں۔"اس مکروہ نظام کی وجہ سے غریب مزدور چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پس رہے ہیں۔ فیکٹری مالکان ذمہ داری ٹھیکیدار پر ڈال دیتے ہیں اور ٹھیکیدار غریب مزدوروں کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر ان کا معاشی قتل عام کرتے ہیں۔ کام کے دوران چوٹ لگنے، کم اجرت ملنے یا بغیر کسی نوٹس کے نوکری سے نکالے جانے پر ان بے سہارا مزدوروں کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا۔صنعتی زون میں غریب لیبر کے ساتھ روا رکھا جانے والا یہ سلوک ظلم کی انتہا ہے۔ غریب طبقہ صبح سے شام تک خون پسینہ بہانے کے باوجود اپنے بنیادی قانونی اور سماجی حقوق سے محروم ہے۔ ہزارہ نیوز 24 کے توسط سے متاثرہ مزدوروں اور سماجی حلقوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا، محکمہ لیبر اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں جاری اس ظلم کا فوری نوٹس لیا جائے، غیر قانونی ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ کیا جائے اور غریب مزدوروں کو ان کا جائز حق دلایا جائے۔