@immuhammadsohailafridi: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے ہمراہ ڈیرا اسماعیل خان اہم پریس کانفرنس۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس، فوجی جوان اور عام شہری شہید ہو رہے ہیں، گزشتہ روز درازندہ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں کئی پولیس اہلکار اور عام شہری شہید ہوئے، دہشت گردی کی واپسی کے خدشات پر ہم پہلے ہی امن پاسون کر چکے تھے، چیختے چلاتے رہے کہ ایک بار پھر پختونوں کے سر کا سودا ہو رہا ہے، ایک دفعہ پھر خیبر پختونخوا کو لہو لہان کرنے اور دہشت گردی مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کسی بھی کونے سے تعلق رکھنے والا فوجی جوان شہید ہو تو وہ ہمارا اپنا ہے، پولیس اہلکار اور عام شہری کسی بھی فرقے، صوبے یا وردی سے ہوں، ہمارے اپنے لوگ ہیں، دہشت گردی کے معاملے پر ہماری تنقید کسی نشست کی محتاج نہیں، خیبر پختونخوا کا نوجوان جانتا ہے کہ دہشت گردی واپس لانے والی پالیسیوں سے کس کو فائدہ پہنچ رہا ہے، ہمیں اپنا امن پیارا ہے، اسی لیے آتے ہی ترقیاتی بجٹ میں کٹ لگا کر امن و امان کے لیے 35 ارب روپے دیے، 2026-27 میں پولیس کے لیے 191.4 ارب روپے مختص کیے گئے، گزشتہ سال کے مقابلے میں 103 فیصد اضافہ ہوا، جب تک امن نہیں آئے گا، تب تک ترقی اور خوشحالی نہیں آئے گی، وفاقی اداروں کو ادائیگی کے باوجود خیبر پختونخوا کو اے پی سیز اور دیگر مطلوبہ آلات فراہم نہیں کیے جا رہے، کام تیز کیا جائے، خیبر پختونخوا کے لوگ اپنے شہداء کے جنازے اٹھا رہے ہیں، اس تکلیف کا احساس ہمیں ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت سنجیدہ ہے، بند کمروں میں بننے والی پالیسی 22 سال سے کارآمد ثابت نہیں ہوئی، 22 بڑے آپریشنز اور 14 ہزار چھوٹے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے باوجود دہشت گردی ختم نہیں ہوئی، خیبر پختونخوا حکومت اور عوام کو اعتماد میں لیے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے 100 دن میں عملی تبدیلی لا سکتے ہیں، ہماری پالیسی پر عمل کیا جائے، نفرتیں پھیلانے والی زبان پاکستان کو تقسیم کرنے کا باعث بن رہی ہے.