@2irxii: اخ مشهددي#daha17#تيومان_دينيز #teoden #لا_تزال_في_السابعة_عشر #fyp

دنـدن
دنـدن
Open In TikTok:
Region: SA
Sunday 27 September 2026 19:58:50 GMT
99185
5778
50
568

Music

Download

Comments

romaissa12343
Romaissa 🍓 :
حتى الثالثة مش ثابتة😂
2026-09-28 02:52:20
8
1_dsre
r :
شوفو بداوم الفجر ارجع ما القى الطلبات +٩٩ يويلكم اريلو اي شي خاص احبكم يحياتو😉🤙🏼
2026-09-27 22:03:32
21
aseelgirl4
أَسِيْــل 👸🏻 :
ياخي حلقه حلوه إعلان احلى نزل إيدك شتريد من الله بعد
2026-09-27 22:32:22
36
remandin5
R :
على اجتهاد تيومان احس بتكون المبادرة من دينيز
2026-09-28 01:52:16
38
elysian..51
. :
وش ذا محتل اكسبلوري ؟
2026-09-27 20:52:21
8
ill._93
ِ :
دندونه احبك
2026-09-27 20:02:01
2
zoz_e03
Zainab🌼🤍 :
2026-09-27 21:40:14
17
rnx7r
nona :
اي حلقه ؟
2026-09-27 20:10:38
6
x.ejijj
ديـمي :
خرافيي
2026-09-27 20:26:15
1
7_fiie_
XOSّ☃️ :
خيالللي
2026-09-27 20:05:59
1
ill._93
ِ :
شفته قبلكم
2026-09-27 20:01:37
3
ill._93
ِ :
العتيبي ذا قلبي والله
2026-09-27 20:02:21
4
ill._93
ِ :
مبددعتي
2026-09-27 20:01:29
2
ill._93
ِ :
اول
2026-09-27 20:01:22
2
7_fiie_
XOSّ☃️ :
رهيب
2026-09-27 20:05:56
1
7_fiie_
XOSّ☃️ :
فن
2026-09-27 20:05:48
1
x.ejijj
ديـمي :
فنانتييي
2026-09-27 20:26:18
1
x.ejijj
ديـمي :
خيالييي
2026-09-27 20:26:08
1
x.ejijj
ديـمي :
مبدعتتيي
2026-09-27 20:26:11
1
7_fiie_
XOSّ☃️ :
اسطوري
2026-09-27 20:05:55
1
x.ejijj
ديـمي :
اعششق فنكك
2026-09-27 20:26:29
1
maiva2321088
maiva :
لو تشوفي الاعلان يموووت وكمان الارلي انا عايشة احسن حالاتي حاليا ❤️😅
2026-09-27 22:58:30
1
7_fiie_
XOSّ☃️ :
مبدعتييي
2026-09-27 20:05:53
1
x.ejijj
ديـمي :
ابوس الفنن!
2026-09-27 20:26:23
1
roorfl
Rood :
متى اعتراف تعبت
2026-09-27 23:24:29
0
To see more videos from user @2irxii, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

...
... "Ối giồi ôi! Sáng sớm 17/2/1979, tao đang gác ca cuối thì thấy đỏ rực phía xa và phá.o nổ đì đẹt. Tao vào giường gọi đại đội trưởng: "Đại trưởng ôi, dậy đi đán.h nhau thôi. Trung Quốc nó đán.h mình rồi". Ông ấy đạ.p tao ra, bảo: "Nói năng linh tinh". Tao lại sang gọi chính viên (chính trị viên), ông này tiện buồn đá.i nên tao dắt được ra sân, chỉ về hướng Mường Khương xem phá.o bắ.n, thế mới tin. Ối giồi ôi! Ngày 17/2 Trung Quốc nó mới sang thì tao đang làm lính. 3 ngày sau, cán bộ chế.t hết, tao thì lại bắ.n được nhiều thằn.g Trung Quốc, nên đại trưởng cho làm tiểu trưởng, chỉ huy mấy thằng toàn thương bệnh binh giữ chốt 391, 393, đán.h nhau đì đẹt. Mấy ngày sau, đơn vị rút, quên không báo, để mỗi mình tao đì đọp bắ.n nhau với bọn Trung Quốc. May mà bọn đơn vị khác lên thay, thấy tiếng sún.g tìm đến, tao mới biết là mình bị bỏ quên. Lúc về hậu cứ, tao gặp đại trưởng, giận quá nên bảo: "Đại trưởng sống không bằng co.n ch.ó con ngựa", cán bộ tiểu đoàn phải can mãi. Ối giồi ôi! Đán.h nhau xong, tao phải về sở chỉ huy ở tỉnh báo cáo. Mấy ông Liên Xô tóc xanh mũi lõ cứ xì xồ bắt tao tường thuật, hướng này hướng kia. Tao hồi ấy biết chữ éo đâu, nên nói thẳng: "Các ông muốn biết thì đi mà đán.h nhau. Để cho tôi về đơn vị ăn cơm", mấy ông ấy cười ha ha. Ông phiên dịch ghé tai tao bảo: "Họ thấy cậu bực, cứ tưởng hạ quyết tâm chiến đấu đấy. Cậu cứ bực đi, để tớ cũng nhanh xong việc, còn về ăn cơm. Sáng giờ, đói bỏ mẹ"... Ối giồi ôi! Phong tao làm Anh hùng rồi bắt tao đi học. 5 thầy cô giáo với 5 thằng vệ binh suốt ngày canh bắt tao học. Tao sợ quá, tao bảo: "Tao trả Anh hùng đấy. Cho tao về đơn vị làm lính thôi. Đán.h nhau lo giữ gáo, é.o ai nghĩ đán.h nhau để làm anh hùng mà phải học nhiều"... mà cấp trên không cho, bắt tao học 1 năm mấy lớp để tốt nghiệp được cấp 3, bắt đi nói chuyện với các nước. Ối giồi ôi! Ông Tòng Văn Chô (năm nay 67 tuổi, hiện đang sống trên 1 quả đồi giữa lòng hồ thủy điện Bản Chát, Than Uyên, Lai Châu), được phong danh hiệu Anh hùng lực lượng vũ trang khi mới 24 tuổi, sau trận chiến đấu bảo vệ biên giới phía Bắc - đánh trả quân Trung Quốc xâm lược, tháng 2.1979, tại mặt trận Lào Cai. Đó là những lời kể hóm hỉnh, hài hước và mộc mạc của chú đã phần nào tái hiện lại cuộc chiến tranh một cách rất chân thực nhất, câu chuyện dường như đã chạm đến trái tim của nhiều người, đã khiến chúng ta nhận ra một điều vô cùng đáng quý trong con người chú cũng như những người lính chiến đấu anh dũng thời đó rằng: Những người lính chiến đấu vì nước nhà, vì độc lập tự do chứ đâu phải vì danh xưng này kia ❤ Theo: Báo Thanh Niên
بیٹی کی قبر پر شاید یہ لکھوانا چاہیے کہ وہ اپنے دل کی خواہشات، جذبات، اپنے درد اور تکلیفیں کسی کو بتائے بغیر رخصت ہو گئی۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ رخصت نہیں ہوئی، ہم نے اپنی عزت اور لوگوں کی باتوں کی خاطر اس کے جذبات، اس کی خواہشات اور اس کی خوشیوں کو اپنے ہاتھوں سے دفن کر دیا۔ آج ہمارے معاشرے میں بعض اوقات بیٹی کی خاموشی کو اس کی رضامندی سمجھ لیا جاتا ہے، اس کے دل کی بات پوچھنے کے بجائے اس کے لیے فیصلے کر دیے جاتے ہیں۔ وہ اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی بیان کرنا چاہے تو اسے خاموش کرا دیا جاتا ہے، ڈرایا جاتا ہے، یا یہ کہہ کر سمجھا دیا جاتا ہے کہ “اب تمہیں یہی گھر نبھانا ہے۔” یہاں تک کہ بعض بیٹیاں اپنے دل کی بات کہنا ہی چھوڑ دیتی ہیں۔ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کہیں ہم اپنی عزت اور لوگوں کی باتوں کی فکر میں اپنی بیٹی کی خوشی، اس کے جذبات اور اس کی زندگی کو تو نظر انداز نہیں کر رہے؟ بعض بیٹیاں صرف اس لیے اپنے دل کی بات، اپنے جذبات اور اپنی تکلیفیں دل میں چھپا لیتی ہیں کہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ ان کی بات سے خاندان کی عزت متاثر ہوگی۔ پھر وہ بہت کچھ سہتی رہتی ہیں اور اپنی تکلیف کسی سے کہہ نہیں پاتیں۔ حالانکہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے ہمیں بیٹی کی آواز دبانے کا طریقہ نہیں سکھایا، بلکہ نکاح کے معاملے میں اس کی اجازت لینے کی تعلیم دی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “بیوہ کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس سے مشورہ نہ کر لیا جائے، اور کنواری کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس سے اجازت نہ لے لی جائے۔” صحابہؓ نے عرض کیا: “یا رسول اللہ ﷺ! اس کی اجازت کیسے معلوم ہوگی؟” آپ ﷺ نے فرمایا: “اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔” صحیح بخاری: 5136 صحیح مسلم: 1419 اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں ہے کہ جب انہوں نے عرض کیا کہ کنواری شرم کرتی ہے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس کی خاموشی اس کی رضامندی ہے۔ صحیح بخاری: 5137، صحیح مسلم: 1420 اس سے ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ بیٹی کی رضامندی کو نظر انداز کرنا دین کی تعلیم نہیں۔ اسے سننا، اس کی کیفیت جاننا اور اس کے نکاح کے معاملے میں اس کی اجازت لینا ضروری ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنی بیٹیوں کے بارے میں صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ انہیں کب رخصت کرنا ہے، بلکہ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ وہ کیا چاہتی ہیں، ان کے دل میں کیا ہے، انہیں کس چیز سے خوف ہے اور ان کی خوشی کس میں ہے۔ بیٹی کی زندگی کا فیصلہ صرف “لوگ کیا کہیں گے” کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔ عزت صرف معاشرے کے سامنے چہرہ بچانے کا نام نہیں؛ اپنی بیٹی کے ساتھ انصاف، محبت، شفقت اور اس کے جائز حقوق کا خیال رکھنا بھی عزت ہے۔ اگر ہماری بیٹی کسی تکلیف میں ہے تو اسے جھوٹی تسلی دے کر خاموش کر دینا حل نہیں۔ اگر وہ کچھ کہنا چاہتی ہے تو اسے ڈانٹنے کے بجائے سننا چاہیے۔ اگر اس کے نکاح کا معاملہ ہے تو اس کی رضامندی اور دل کی کیفیت کو اہمیت دینی چاہیے۔ معذرت کے ساتھ، اس تحریر کا مقصد کسی والدین کی دل آزاری، کسی فرد پر تنقید یا کسی خاندان کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ ہم سب اپنے رویوں پر غور کریں اور دیکھیں کہ کہیں ہماری رسمیں، معاشرتی دباؤ یا “لوگ کیا کہیں گے” کا خوف ہماری بیٹیوں کی خوشیوں اور حقوق سے بڑا تو نہیں ہو گیا۔ ہمیں اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ بیٹی کو بوجھ سمجھنے کے بجائے رحمت سمجھیں، اس کی بات سنیں، اس کے جذبات کا احترام کریں اور اس کی زندگی کے اہم فیصلوں میں اس کی رضامندی کو نظر انداز نہ کریں۔ اے اللہ! ہمارے دلوں اور گھروں میں بیٹیوں کے لیے محبت، شفقت اور احترام پیدا فرما۔ ہمیں اپنی بیٹیوں کے حقوق سمجھنے اور انہیں ادا کرنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمیں ایسا والدین اور ایسا معاشرہ بنا دے جہاں بیٹی خوف کی وجہ سے خاموش نہ ہو بلکہ اپنے والدین کے سامنے اپنے دل کی بات اطمینان سے کہہ سکے۔ اے اللہ! ہماری بیٹیوں کو ہر جائز خوشی، امن، سکون اور عزت عطا فرما، اور ہمیں ان کے ساتھ انصاف کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔ #Haqeeqat#DaughterRights#Daughters#viewsproblem #Islam
بیٹی کی قبر پر شاید یہ لکھوانا چاہیے کہ وہ اپنے دل کی خواہشات، جذبات، اپنے درد اور تکلیفیں کسی کو بتائے بغیر رخصت ہو گئی۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ رخصت نہیں ہوئی، ہم نے اپنی عزت اور لوگوں کی باتوں کی خاطر اس کے جذبات، اس کی خواہشات اور اس کی خوشیوں کو اپنے ہاتھوں سے دفن کر دیا۔ آج ہمارے معاشرے میں بعض اوقات بیٹی کی خاموشی کو اس کی رضامندی سمجھ لیا جاتا ہے، اس کے دل کی بات پوچھنے کے بجائے اس کے لیے فیصلے کر دیے جاتے ہیں۔ وہ اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی بیان کرنا چاہے تو اسے خاموش کرا دیا جاتا ہے، ڈرایا جاتا ہے، یا یہ کہہ کر سمجھا دیا جاتا ہے کہ “اب تمہیں یہی گھر نبھانا ہے۔” یہاں تک کہ بعض بیٹیاں اپنے دل کی بات کہنا ہی چھوڑ دیتی ہیں۔ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کہیں ہم اپنی عزت اور لوگوں کی باتوں کی فکر میں اپنی بیٹی کی خوشی، اس کے جذبات اور اس کی زندگی کو تو نظر انداز نہیں کر رہے؟ بعض بیٹیاں صرف اس لیے اپنے دل کی بات، اپنے جذبات اور اپنی تکلیفیں دل میں چھپا لیتی ہیں کہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ ان کی بات سے خاندان کی عزت متاثر ہوگی۔ پھر وہ بہت کچھ سہتی رہتی ہیں اور اپنی تکلیف کسی سے کہہ نہیں پاتیں۔ حالانکہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے ہمیں بیٹی کی آواز دبانے کا طریقہ نہیں سکھایا، بلکہ نکاح کے معاملے میں اس کی اجازت لینے کی تعلیم دی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “بیوہ کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس سے مشورہ نہ کر لیا جائے، اور کنواری کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس سے اجازت نہ لے لی جائے۔” صحابہؓ نے عرض کیا: “یا رسول اللہ ﷺ! اس کی اجازت کیسے معلوم ہوگی؟” آپ ﷺ نے فرمایا: “اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔” صحیح بخاری: 5136 صحیح مسلم: 1419 اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں ہے کہ جب انہوں نے عرض کیا کہ کنواری شرم کرتی ہے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس کی خاموشی اس کی رضامندی ہے۔ صحیح بخاری: 5137، صحیح مسلم: 1420 اس سے ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ بیٹی کی رضامندی کو نظر انداز کرنا دین کی تعلیم نہیں۔ اسے سننا، اس کی کیفیت جاننا اور اس کے نکاح کے معاملے میں اس کی اجازت لینا ضروری ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنی بیٹیوں کے بارے میں صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ انہیں کب رخصت کرنا ہے، بلکہ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ وہ کیا چاہتی ہیں، ان کے دل میں کیا ہے، انہیں کس چیز سے خوف ہے اور ان کی خوشی کس میں ہے۔ بیٹی کی زندگی کا فیصلہ صرف “لوگ کیا کہیں گے” کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔ عزت صرف معاشرے کے سامنے چہرہ بچانے کا نام نہیں؛ اپنی بیٹی کے ساتھ انصاف، محبت، شفقت اور اس کے جائز حقوق کا خیال رکھنا بھی عزت ہے۔ اگر ہماری بیٹی کسی تکلیف میں ہے تو اسے جھوٹی تسلی دے کر خاموش کر دینا حل نہیں۔ اگر وہ کچھ کہنا چاہتی ہے تو اسے ڈانٹنے کے بجائے سننا چاہیے۔ اگر اس کے نکاح کا معاملہ ہے تو اس کی رضامندی اور دل کی کیفیت کو اہمیت دینی چاہیے۔ معذرت کے ساتھ، اس تحریر کا مقصد کسی والدین کی دل آزاری، کسی فرد پر تنقید یا کسی خاندان کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ ہم سب اپنے رویوں پر غور کریں اور دیکھیں کہ کہیں ہماری رسمیں، معاشرتی دباؤ یا “لوگ کیا کہیں گے” کا خوف ہماری بیٹیوں کی خوشیوں اور حقوق سے بڑا تو نہیں ہو گیا۔ ہمیں اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ بیٹی کو بوجھ سمجھنے کے بجائے رحمت سمجھیں، اس کی بات سنیں، اس کے جذبات کا احترام کریں اور اس کی زندگی کے اہم فیصلوں میں اس کی رضامندی کو نظر انداز نہ کریں۔ اے اللہ! ہمارے دلوں اور گھروں میں بیٹیوں کے لیے محبت، شفقت اور احترام پیدا فرما۔ ہمیں اپنی بیٹیوں کے حقوق سمجھنے اور انہیں ادا کرنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمیں ایسا والدین اور ایسا معاشرہ بنا دے جہاں بیٹی خوف کی وجہ سے خاموش نہ ہو بلکہ اپنے والدین کے سامنے اپنے دل کی بات اطمینان سے کہہ سکے۔ اے اللہ! ہماری بیٹیوں کو ہر جائز خوشی، امن، سکون اور عزت عطا فرما، اور ہمیں ان کے ساتھ انصاف کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔ #Haqeeqat#DaughterRights#Daughters#viewsproblem #Islam

About