@palmview956oficial: So Camellia wants to dye her pear pink!!?? Thoughts #hair #dye #pinkhair #camelia #fyp @Camelia & Khaleesi @𝒗𝒂𝒍𝒆𝒏𝒕𝒊𝒏𝒂 ♡ @Pablo Jr

Palmview956Oficial2.0
Palmview956Oficial2.0
Open In TikTok:
Region: US
Sunday 27 September 2026 22:01:20 GMT
284744
24625
163
273

Music

Download

Comments

curlyanncoffey
curlyanncoffey :
Manic panic works really good for pink
2026-09-27 22:48:32
1
bia.nay0209
🎭𝔅𝔦𝔞𝔫𝔠𝔞𝔊𝔬𝔫𝔷𝔞𝔩𝔢𝔷 :
My daughter was 4 & we dyed her hair purple (no bleach)
2026-09-27 22:48:03
574
tonyaflores2
Tonya Ramirez :
I feel like we don’t ever see this one
2026-09-27 22:54:42
19
cmadalynn
cali ⋆.𐙚 ̊ :
THERE NEVER TO YOUNG TO HAVE SOME FUN once in a life time
2026-09-27 23:28:29
112
rachelramirez377
Ramz :
not to young..all the girls are doing it♡
2026-09-27 22:54:10
101
tinymexican09
Tinymexican09 :
fun fact, virgin hair can lift up to 3 levels!!
2026-09-27 23:24:19
32
sylvia.carreon3
Sylvia Carreon :
If she dosent have to bleach it let her have fun with her hair !
2026-09-27 22:27:16
262
1966arce
Dolores Arce-Rodrigu :
Yes to young
2026-09-28 01:55:06
1
yo.no.se468
Yo No Se :
Part 2 please of the results😁
2026-09-28 04:33:24
0
lizbeth.pineda33
Lizbeth Noriega pineda :
Yes I say she’s young
2026-09-28 02:52:16
1
nina_lin61
Luna :
Can you make a tutorial when you dye it
2026-09-28 00:09:31
1
user9369905439423
user9369905439423 :
absolutely toooooo young she's pretty natural 🥰
2026-09-28 01:25:40
1
notteddybear
🧶ꩇׁׅ݊𝑀𝒾𝓈𝓈𝓉𝑒𝒹𝒹𝓎ꩇׁׅ݊🧶 :
And one more thing, my hair didn’t even last when I had my pink hair
2026-09-28 01:39:32
1
saq36974t0s
Cali🥑’s :
Camelia is the coolest ever!
2026-09-27 23:01:16
8
lyzza290
🚲🫰🏻🐐LYZZA THE GOAT🐐🫰🏻🚲 :
I dyed mine blue with bleach but I took it off early because it started to turn hot but it still looks pretty
2026-09-28 02:59:16
1
_juli.01
✨Juli🩷 :
Post part 2
2026-09-27 22:13:40
3
danivg161
Dani Venegas Garcia :
q hermosas.. 😍
2026-09-27 22:13:19
3
yeseniaca84
yeseniaca84 :
Yes to young!
2026-09-28 04:35:25
0
maddie_license_edits
maddie౨ৎ✧₊ ❀ ♱ :
No bleach
2026-09-27 22:55:43
8
la_kymm
la_kymm :
It’s hair. It grows back 🤷🏽‍♀️
2026-09-27 22:57:54
6
brit6594
BRITT :
Girl wth
2026-09-27 22:20:33
3
kique8253
kique82 :
My niece did it and she regretted it
2026-09-27 23:18:10
1
dessdanielleee
dess 🤍 :
I think underneath pink would be cute also because it’s her first time and she won’t be used to it all colored yet
2026-09-27 22:38:22
1
jjam0811
amberbrewsdailyy :
I let my baby add color at 4 or 5 every summer.
2026-09-28 04:12:23
0
allykins.spamaccount
👣 :
i dyed my hair in 2nd grade it was only like two itches
2026-09-28 04:34:36
0
To see more videos from user @palmview956oficial, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#انسانیت کی ایک روشن مثال: جامع مسجد کے مسلمانوں نے بیمار بچی کے علاج کے لیے کروڑوں روپے جمع کر دیے بھارت کی تاریخی جامع مسجد دہلی سے ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے جس نے مذہب، ذات اور فرقے کی تمام تفریق سے بالاتر ہو کر انسانیت کی ایک خوبصورت تصویر پیش کی ہے۔ ایک کمسن بچی ایک نایاب اور خطرناک بیماری میں مبتلا ہے، جس کے علاج کے لیے انتہائی مہنگی دوا درکار ہے۔ اس علاج کی لاگت کروڑوں بھارتی روپے بتائی گئی ہے، جو ایک عام خاندان کے لیے ادا کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ بچی کے علاج کے لیے سوشل میڈیا کے ذریعے چندہ مہم شروع کی گئی۔ اس مہم کو اس وقت مزید تقویت ملی جب دہلی کی جامع مسجد میں نمازیوں سے بھی اس بچی کی زندگی بچانے کے لیے تعاون کی اپیل کی گئی۔ رپورٹس کے مطابق لوگوں نے اپنی استطاعت کے مطابق عطیات دینا شروع کیے۔ کسی نے نقد رقم دی تو کسی نے آن لائن ذرائع سے اپنا حصہ ڈالا۔ دیکھتے ہی دیکھتے چندہ لاکھوں سے کروڑوں روپے تک پہنچ گیا۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 6 کروڑ 50 لاکھ بھارتی روپے جمع کیے جا چکے تھے۔ اس واقعے کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ مدد حاصل کرنے والی بچی کا تعلق مسلمان خاندان سے نہیں بتایا جاتا، لیکن اس کے باوجود مسلمانوں نے اس کی زندگی کو ایک انسانی مسئلہ سمجھا اور اس کے علاج کے لیے دل کھول کر عطیات دیے۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانیت کسی ایک مذہب، قوم یا برادری کی میراث نہیں۔ بیماری جب کسی بچے کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے تو اس کے سامنے مذہب، ذات اور زبان کی تفریق بے معنی ہو جاتی ہے۔ ایک معصوم زندگی کو بچانا سب سے بڑی ترجیح بن جاتا ہے۔ جامع مسجد میں جمع ہونے والے یہ عطیات صرف رقم نہیں بلکہ ہمدردی، رحم اور انسانی بھائی چارے کی علامت ہیں۔ چند کروڑ روپے شاید اعداد و شمار میں ایک بڑی رقم ہوں، لیکن اس کے پیچھے موجود جذبہ اس سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ آج ایسے واقعات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ نفرت اور تقسیم کی باتیں بہت جلد پھیل جاتی ہیں، لیکن انسانیت، محبت اور باہمی تعاون کی ایسی خبریں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ معاشرے میں اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو کسی انسان کی مدد اس لیے کرتے ہیں کہ وہ انسان ہے۔ اگر اس بچی کے علاج کے لیے یہ کوشش کامیاب ہوتی ہے اور اسے زندگی کی نئی امید ملتی ہے، تو یہ صرف ایک خاندان کی خوشی نہیں ہوگی بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے بھی باعثِ مسرت ہوگی جنہوں نے اس معصوم زندگی کو بچانے میں اپنا حصہ ڈالا۔ انسانیت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، اور کبھی کبھی ایک معصوم بچے کی زندگی بچانے کے لیے اٹھایا گیا ہاتھ پوری انسانیت کا چہرہ روشن کر دیتا ہے۔#
#انسانیت کی ایک روشن مثال: جامع مسجد کے مسلمانوں نے بیمار بچی کے علاج کے لیے کروڑوں روپے جمع کر دیے بھارت کی تاریخی جامع مسجد دہلی سے ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے جس نے مذہب، ذات اور فرقے کی تمام تفریق سے بالاتر ہو کر انسانیت کی ایک خوبصورت تصویر پیش کی ہے۔ ایک کمسن بچی ایک نایاب اور خطرناک بیماری میں مبتلا ہے، جس کے علاج کے لیے انتہائی مہنگی دوا درکار ہے۔ اس علاج کی لاگت کروڑوں بھارتی روپے بتائی گئی ہے، جو ایک عام خاندان کے لیے ادا کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ بچی کے علاج کے لیے سوشل میڈیا کے ذریعے چندہ مہم شروع کی گئی۔ اس مہم کو اس وقت مزید تقویت ملی جب دہلی کی جامع مسجد میں نمازیوں سے بھی اس بچی کی زندگی بچانے کے لیے تعاون کی اپیل کی گئی۔ رپورٹس کے مطابق لوگوں نے اپنی استطاعت کے مطابق عطیات دینا شروع کیے۔ کسی نے نقد رقم دی تو کسی نے آن لائن ذرائع سے اپنا حصہ ڈالا۔ دیکھتے ہی دیکھتے چندہ لاکھوں سے کروڑوں روپے تک پہنچ گیا۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 6 کروڑ 50 لاکھ بھارتی روپے جمع کیے جا چکے تھے۔ اس واقعے کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ مدد حاصل کرنے والی بچی کا تعلق مسلمان خاندان سے نہیں بتایا جاتا، لیکن اس کے باوجود مسلمانوں نے اس کی زندگی کو ایک انسانی مسئلہ سمجھا اور اس کے علاج کے لیے دل کھول کر عطیات دیے۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانیت کسی ایک مذہب، قوم یا برادری کی میراث نہیں۔ بیماری جب کسی بچے کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے تو اس کے سامنے مذہب، ذات اور زبان کی تفریق بے معنی ہو جاتی ہے۔ ایک معصوم زندگی کو بچانا سب سے بڑی ترجیح بن جاتا ہے۔ جامع مسجد میں جمع ہونے والے یہ عطیات صرف رقم نہیں بلکہ ہمدردی، رحم اور انسانی بھائی چارے کی علامت ہیں۔ چند کروڑ روپے شاید اعداد و شمار میں ایک بڑی رقم ہوں، لیکن اس کے پیچھے موجود جذبہ اس سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ آج ایسے واقعات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ نفرت اور تقسیم کی باتیں بہت جلد پھیل جاتی ہیں، لیکن انسانیت، محبت اور باہمی تعاون کی ایسی خبریں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ معاشرے میں اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو کسی انسان کی مدد اس لیے کرتے ہیں کہ وہ انسان ہے۔ اگر اس بچی کے علاج کے لیے یہ کوشش کامیاب ہوتی ہے اور اسے زندگی کی نئی امید ملتی ہے، تو یہ صرف ایک خاندان کی خوشی نہیں ہوگی بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے بھی باعثِ مسرت ہوگی جنہوں نے اس معصوم زندگی کو بچانے میں اپنا حصہ ڈالا۔ انسانیت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، اور کبھی کبھی ایک معصوم بچے کی زندگی بچانے کے لیے اٹھایا گیا ہاتھ پوری انسانیت کا چہرہ روشن کر دیتا ہے۔#

About