میاں سعید اور راؤ انور
دونوں میں کوئی فرق نہیں۔۔راؤ انوار نے 400 سے زیادہ جعلی پولیس مقابلوں میں پاکستانی شہریوں کو مارا۔اور وہ بھی کہتا ھے یہ سب کچھ ملک کے مفاد میں کیا۔اب خیبر پختون خواہ میں یہ صاحب بڑے شوق سے یہی کام سرانجام دے رہے ہیں ۔۔ہمیں کسی دہشت گرد۔بدمعاشی۔غنڈے۔قبضہ مافیاں۔بھتہ خور سے کوئی ہمدردی نہیں۔۔لیکن یہ سب کچھ صرف عام شہریوں کیلئے ہیں ۔۔کسی وڈیرے ۔جاگیردار۔خان ۔سیاستدان۔فوجی ۔جج ۔جرنیلوں کے بچوں کیلئے خاندان کیلئے یہ سب کچھ ممکن ہی نہیں کہ یہ کریں۔۔لیکن ہمارے پاکستانی جاہل اور جذباتی قوم یہ سب کچھ بھول جاتے ہیں اور جذبات میں ہر ناجائز اور غیر قانونی کام کو سپوٹ کرتے ہیں۔۔اور ایسے لوگوں کو ہیرو بناتے ہیں
اگر ایسا کرنا ہے تو ججوں اور عدالتوں کو بند کریں ان پر کھربوں روپے کا بجٹ کیوں لگاتے ہو ...