@abduligadafff:

abduligadafff
abduligadafff
Open In TikTok:
Region: TZ
Monday 28 September 2026 10:27:31 GMT
233
30
0
3

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @abduligadafff, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

عرب کے سب سے وژنز اور ذہین ترین سپہ سالار، جنہوں نے مصر کو فتح کر کے اسلام کا پرچم لہرایا اور جن کے دورِ حکومت میں عدل و انصاف کی ایسی تاریخ رقم ہوئی جو دنیا کے لیے مثال بن گئی۔ ​مرکزی اور تفصیلی واقعہ: حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا شمار عرب کے ان چند انتہائی ذہین، تدبر والے اور بااثر لوگوں میں ہوتا تھا جن کی عقل اور حکمت کی مثالیں پورے عرب میں دی جاتی تھیں۔ قبولِ اسلام سے پہلے آپ قریش کے سفیر بن کر نجاشی کے دربار میں مسلمانوں کے خلاف گئے تھے، لیکن حق کا نور ایسا پھیلا کہ فتحِ مکہ سے پہلے آپ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ جا کر رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ ​جب آپ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور بیعت کے لیے ہاتھ بڑھایا، تو آپ نے ایک شرط رکھی کہ
عرب کے سب سے وژنز اور ذہین ترین سپہ سالار، جنہوں نے مصر کو فتح کر کے اسلام کا پرچم لہرایا اور جن کے دورِ حکومت میں عدل و انصاف کی ایسی تاریخ رقم ہوئی جو دنیا کے لیے مثال بن گئی۔ ​مرکزی اور تفصیلی واقعہ: حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا شمار عرب کے ان چند انتہائی ذہین، تدبر والے اور بااثر لوگوں میں ہوتا تھا جن کی عقل اور حکمت کی مثالیں پورے عرب میں دی جاتی تھیں۔ قبولِ اسلام سے پہلے آپ قریش کے سفیر بن کر نجاشی کے دربار میں مسلمانوں کے خلاف گئے تھے، لیکن حق کا نور ایسا پھیلا کہ فتحِ مکہ سے پہلے آپ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ جا کر رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ ​جب آپ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور بیعت کے لیے ہاتھ بڑھایا، تو آپ نے ایک شرط رکھی کہ "یا رسول اللہ! میرے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں۔" اس پر رحمتِ عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے مسکرا کر ارشاد فرمایا: "اے عمرو! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اسلام لانا، ہجرت کرنا اور حج کرنا انسان کے پچھلے تمام گناہ مٹا دیتا ہے؟" ​قبولِ اسلام کے بعد آپ نے اپنی تمام تر قابلیت، تدبر اور شجاعت کو اسلام کی سربلندی کے لیے وقف کر دیا۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب اسلامی فتوحات کا دائرہ وسیع ہوا، تو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے مصر کی فتح کا منصوبہ پیش کیا۔ آپ نے اپنی عسکری حکمتِ عملی سے روم کی عظیم الشان فوج کو شکست دی اور مصر کو اسلامی سلطنت کا حصہ بنا دیا، جس پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپ کو مصر کا گورنر مقرر فرمایا۔ ​حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں ایک ایسا تاریخی واقعہ پیش آیا جو اسلامی عدل و انصاف کا شاہکار ہے۔ ​ایک مرتبہ مصر میں گھوڑ دوڑ کا مقابلہ ہوا۔ اس مقابلے میں گورنر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے کا گھوڑا بھی دوڑ رہا تھا اور ایک عام قبطی (مصر کے مقامی عیسائی) شہری کا گھوڑا بھی شامل تھا۔ جب دوڑ ختم ہوئی تو قبطی کا گھوڑا آگے نکل گیا۔ ​گورنر کے بیٹے سے یہ برداشت نہ ہوا اور اس نے غصے میں آ کر اس عام قبطی شہری کو کوڑا مار دیا اور غرور سے کہا: "تم نے مجھے پیچھے چھوڑ دیا؟ میں معززین کا بیٹا ہوں!" ​مظلوم قبطی شہری خاموش رہا، لیکن اس کے دل میں یہ یقین تھا کہ مدینہ منورہ میں ایک ایسا خلیفہ بیٹھا ہے جو کسی گورنر یا اس کے بیٹے کا لحاظ نہیں کرتا۔ وہ قبطی مہینوں کا سفر طے کر کے مدینہ منورہ پہنچا اور خلیفۃ المسلمین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دربار میں شکایت درج کرائی۔ ​امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فوراً مصر کے گورنر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے کو مدینہ منورہ طلب کر لیا۔ ​جب دونوں دربار میں حاضر ہوئے، تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس قبطی کو بلا کر اس کے ہاتھ میں کوڑا تھمایا اور فرمایا: "مارو اس معززین کے بیٹے کو!" ​اس مظلوم عیسائی شہری نے بھرے دربار میں گورنر کے بیٹے کو کوڑا مار کر اپنا بدلہ لیا۔ اس کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے وہ تاریخی اور زریں جملہ ارشاد فرمایا جو دنیا کی تاریخ میں انسانی حقوق کا سب سے بڑا منشور بن گیا! ​آپ نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: "اے عمرو! تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنا لیا، جبکہ ان کی ماؤں نے تو انہیں آزاد پیدا کیا تھا؟" ​حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اس حکم کے سامنے سر تسلیمِ خم کیا اور اسلام کے اس عدل کی پاسداری کی۔ آپ کی قیادت میں مصر میں ایسی ترقی اور عدل قائم ہوا کہ وہاں کے عام غیر مسلم بھی اسلامی حکومت کو اپنے لیے نعمت سمجھتے تھے۔ ​واقعے کا حاصل و سبق: حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی زندگی اور یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اسلام میں تمام انسان برابر ہیں، اور حاکم وقت کی اصل ذمہ داری اقتدار نہیں بلکہ عدل و انصاف کی فراہمی اور بلا تفریقِ مذہب مظلوم کی داد رسی کرنا ہے۔ ​📚 حوالہ جات: حیاتِ صحابہ / تاریخِ طبری / الفتوح (ابن اعثم)۔ ایمان افروز اور تاریخی واقعات کے لیے ہمارے پیج "حکایت بصیرت" کو فالو کریں اور اس تحریر کو شیئر کر کے صدقہ جاریہ میں حصہ لیں۔ 🌿 #AmrBinAlAas #SeeratSahaba #IslamicHistory #TikTokIslamic#DailyIslamicReminders

About