@paygham_e_sarosh: شیرازہ ہُوا ملتِ مرحوم کا اَبتر اب تو ہی بتا، تیرا مسلمان کدھر جائے اے روح محمد ﷺ وہ ملت جو کبھی زندہ و تابندہ تھی آزاد و حکمران تھی ۔ آج اس کا شیرازہ بکھر چکا ہے اور اس میں ہر قسم کا نظم و ضبط ختم ہو چکا ہے ۔ ایسی حالت میں آپ ہی بتائیں کہ آپ کا امتی آپ کا مسلمان کیا صورت اختیار کرے کیا قدم اٹھائے، کدھر جائے ۔ وہ لذتِ آشوب نہیں بحرِ عرب میں پوشیدہ جو ہے مجھ میں ، وہ طوفان کدھر جائے مطلب: میں دیکھ رہا ہوں کہ عرب کے سمندر میں کوئی شورش اور کوئی طوفان نہیں ہے ۔ یہ عرب قوم جو کل تک ساری دنیا پر چھائی ہوئی تھی آج مردہ و افسردہ ہے اور لذت شورش سے محروم ہے ۔ میرے سینے میں طوفان بھرے جو جذبات ہیں وہ میں ان تک کیوں پہنچاؤں ۔ وہ تو اس حد تک بے شور ہو چکے ہیں کہ میرا طوفان بھی ان میں کوئی حرکت پیدا نہیں کرے گا ۔ میں اپنے طوفان کو کہاں لے جاؤں ۔ ہر چند ہے بے قافلہ و راحلہ و زاد اس کوہ بیاباں سے حُدی خوان کدھر جائے اگرچہ میرے پاس نہ کوئی قافلہ (ساتھ دینے والی قوم) ہے، نہ سواری ہے اور نہ ہی سفر کا کوئی سامان ہے۔ پھر بھی میں، جو اس سوئی ہوئی قوم کو جگانے کے لیے بیداری کے گیت (حُدی) گا رہا ہوں، ان سنسان پہاڑوں اور صحراؤں میں تنہا رہ گیا ہوں۔ میں اس ویرانے سے نکل کر کہاں جاؤں؟ (مراد یہ ہے کہ قوم میرا ساتھ نہیں دے رہی مگر میرا ضمیر مجھے خاموش بھی نہیں بیٹھنے دیتا)۔ اس راز کو اب فاش کر اے روحِ محمد آیاتِ الہٰی کا نگہبان کدھر جائے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روحِ مبارک! اب آپؐ ہی اس راز سے پردہ اٹھائیے اور ہماری رہنمائی فرمائیے کہ وہ مسلمان جو کبھی اللہ کے پیغام اور اس کی کتاب کا محافظ اور علمبردار تھا، آج کی اس زوال پذیر اور بے بسی کی حالت میں اپنا دین اور ایمان بچانے کے لیے کدھر جائے؟ اقبال بارگاہِ رسالتؐ میں فریاد کر رہے ہیں کہ امت کو اس بھنور سے نکالنے کا راستہ دکھایا جائے۔ #allamaiqbal #ziamohyeddin #allamaiqbalpoetry