@ehsaas11211: شکر ہے زندگی دوبارہ نہیں ملے گی۔ یہ جملہ خوشی سے نہیں نکلا تھا۔ یہ اُن آنکھوں سے نکلا تھا جو بہت کچھ دیکھ کر بھی رویا نہیں کرتیں۔ زندگی نے بھی عجیب طریقے سے آدمی کو آدمی بنایا ہے۔ پہلے خواب دکھائے، پھر اُن کی قیمت بتائی۔ لوگ دیے، پھر اُن کے بدل جانے کا ہنر دکھایا۔ کچھ راستے دیے، کچھ راستوں پر دھکے دیے، اور کچھ منزلیں ایسی دیں جہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ ہم تو راستے ہی میں کہیں رہ گئے تھے۔ کبھی وقت نے توڑا، کبھی اپنوں نے۔ کبھی حالات نے ہاتھ پکڑ کر زمین پر بٹھا دیا، کبھی اپنی ہی غلطیوں نے آئینہ دکھا دیا۔ اور آدمی؟ وہ ہر بار اٹھا۔ کبھی یقین کے ساتھ، کبھی صرف عادت کے ساتھ۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب جسم تھکن سے چور ہوتا ہے، دل ویران، اور آنکھیں خستہ حال مکان کی آخری کھڑکی کی طرح… جن میں روشنی تو ہوتی ہے، مگر رہنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ تب آدمی زندگی سے ناراض نہیں ہوتا۔ بس اسے دوبارہ مانگنے سے انکار کر دیتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ ہر سانس نعمت ضرور ہے، مگر ہر نعمت آسان نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ زندگی بھر جینے کی دعا کرتے ہیں، اور کچھ اتنا جی لیتے ہیں کہ انہیں صرف یہ اطمینان کافی لگتا ہے کہ یہی امتحان دوبارہ نہیں ہوگا۔ شاید اسی لیے میں کہتا ہوں: شکر ہے زندگی دوبارہ نہیں ملے گی۔ ورنہ ذرا سوچو… جس زمین پر حضرت آدمؑ کو جنت سے اتار کر، سزا اور آزمائش کے طور پر بھیجا گیا تھا، وہ زمین آخر اتنی پُرسکون کیسے ہو سکتی ہے کہ آدمی یہاں دوبارہ آنے کی خواہش کرے؟ یہ وہی زمین ہے جہاں خوشی کے ساتھ خوف بھی ملا، محبت کے ساتھ جدائی بھی، اپنوں کے ساتھ اجنبیت بھی، کامیابی کے ساتھ اس کا خالی پن بھی۔ یہاں آدمی کو سب کچھ مل سکتا ہے، بس بےفکری نہیں۔ یہاں زخم بھر بھی جائیں تو نشان رہتے ہیں، اور کچھ نشان ایسے ہوتے ہیں جو جلد پر نہیں، انسان کے لہجے پر آتے ہیں۔ پھر ایک دن آدمی لوگوں سے نہیں، اپنی پرانی ذات سے بھی نظریں چرانے لگتا ہے۔ وہ سوچتا ہے: میں پہلے جیسا کیوں نہیں رہا؟ پھر اندر سے کوئی آہستہ سے جواب دیتا ہے: کیونکہ تم پہلے جیسی زندگی سے گزرے ہی کہاں ہو۔ بس یہی تو زندگی کی اصل چبھن ہے۔ ہم کہتے رہے، "وقت بدل جائے گا۔" وقت بدلتا رہا، اور ہم۔ ہمیں لگا تھا حالات گزر جائیں گے، مگر کچھ حالات گزرنے کے بعد بھی انسان کے اندر رہ جاتے ہیں۔ اس لیے اب کوئی پوچھے کہ زندگی کیسی گزری؟ تو شاید جواب اتنا سا ہو: گزر گئی۔ نہ کامیابی کا جشن، نہ ناکامی کا ماتم۔ بس ایک خاموش سا شخص، جس کی آنکھیں اب بھی نم ہیں مگر زبان شکر کہہ رہی ہے۔ کیونکہ کچھ زندگیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں آدمی برا نہیں کہتا… بس دوبارہ نہیں جینا چاہتا۔ اور شاید یہی سب سے خاموش اعتراف ہے کہ ہم نے زندگی کو ہارا نہیں، بس زندگی نے ہمیں دوبارہ زندگی مانگنے کے قابل نہیں چھوڑا۔
شاید سب سے بڑی تھکن موت نہیں، یہ خیال ہے کہ جو کچھ ایک بار سہہ چکے ہیں، کہیں دوبارہ نہ سہنا پڑ جائے.......
2026-09-28 18:41:25
8
chaurangzeb42 :
جب انسان زندگی سے ہار جائے تو یہی سوچتا ہے 😭😭😭
2026-09-29 13:25:01
2
🇵🇰🦋🥀Ŧă𝑦𝑦ăв ᴀʀᴀɪɴ🥀🦋🇦🇪 :
بھائی شکوہ زندگی سے نہیں ہے
شکوہ تو اپنے اپ سے ہے
جو ہم بے وفا لوگوں کو عزت دیتے ہیں
2026-09-28 18:52:04
2
ch Ilyas Saqi786 :
زندگی نام ہے مر مر کے جیے جانے کا
مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں 💕
2026-09-29 06:32:04
4
✌️BALI✌️ DON💪 :
زندگی آزمائشوں کا دوسرا نام ہے
اور ہر مشکل اور آزمائش کے بعد آسانی ہے ان آزمائشوں اور تکلیفوں کے بدلے اللہ تعالٰی انسان کے گناہ معاف فرماتا ہے اور اس کے درجات بلند کرتا ہے مومن کبھی ناامید نہیں ہوتا[Red heart]
2026-10-04 20:41:47
1
celestialwhisper :
مرنے کے بعد ہم نے اس زندگی کا حساب دینا ہے جو ہم نے اپنی مرضی سے گزاری ہی نہیں۔دوسروں کے لیے جیتے رہے۔
وہ کسی نے کیا خوب کہا ہے
اے زندگی تیرے راس آنے تک
ہم تجھے گزار چکے ہوں گے 💔
2026-09-28 19:16:00
5
☾𓂃 ₣₳łⱤɎ 𓂃☽ :
ya bs alfaz ni os insane ka guzra Huwa kl ha Jo ya drd byn kr rha ha
2026-09-28 17:57:53
2
waseem chandio :
2026-09-29 13:37:07
1
چوھدری وسیم شہزاد طور 💯 :
hy kamal ❤️
2026-09-29 06:54:01
1
Fayyaz Ahmad :
Haye
2026-09-28 18:11:44
1
Beshak :
شاید سب سے بڑی تھکن موت نہیں، یہ خیال ہے کہ جو کچھ ایک بار سہہ چکے ہیں، کہیں دوبارہ نہ سہنا پڑ جائے.......
2026-09-28 21:26:47
4
Idrees Ahmad :
Zindagi do bara mile gi
2026-10-01 10:39:37
1
D-COMPANY :
dard Ka ik hi maddawa Hai
dard Ka Laazwaal hojana
2026-10-04 03:00:41
0
tomato :
2026-09-30 15:45:10
1
ali_.79072 :
: مجھ پہ گزری میں نے گزار دی۔
2026-10-03 14:08:45
0
Amjad Ali 587 :
واه یار کیا بات ھے واه
2026-10-02 08:42:40
0
Mujtbah Butt :
2026-10-01 19:59:28
0
(musa shah) :
kea kahny wawawa[Like]
2026-09-29 21:06:01
0
ببلى باجى :
@Bilal @Maلik:✿:. جب میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا، تو تم صرف نظر نہیں آئے تھے... تم سیدھا میری روح میں اتر گئے تھے۔ اُس ایک لمحے کے بعد جیسے سب کچھ بدل سا گیا تھا، ہر خیال تم پر آ کر رک جاتا تھا، ہر سوچ تمہارے گرد گھومنے لگتی تھی۔ کئی دنوں تک میں بس تمہارے بارے میں ہی سوچتا رہا، تمہیں محسوس کرتا رہا جیسے تم کہیں دور نہیں بلکہ میرے اندر ہی بسے ہو۔ عجیب سی کشش تھی تم میں... جو سمجھ بھی نہیں آتی تھی اور ختم بھی نہیں ہوتی تھی اور شاید وہی لمحہ تھا جب مجھے احساس ہوا کہ کچھ لوگ زندگی میں آ کر صرف ملتے نہیں... انسان کے اندر ہمیشہ کے لیے رہ جاتے ہیں۔ اور دیکھو... تم آج بھی میرے دل میں اسی طرحسمائے ہوئے ہو، جیسے پہلی بار ہوئے تھے... وقت بدلا، حالات بدلے فاصلے بھی بڑھ گئے ... مگر تم نہیں بدلے، تم آج بھی میری سانسوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہو۔ شاید سانسیں ایک لمحے کو رک بھی جائیں مگر تیری یادیں نہیں رک سکتیں وہ تو ہر لمحہ میرے اندر زندہ رہتی ہیں، میرے ہر خیال بر احساس میں بسی ہوئی۔ تم اب میرے ساتھ نہیں ہو ... مگر سچ تو یہ ہے کہ تم کبھی گئے ہی نہیں... تم تو بس میرے اندر اتر گئے ہو، اس حد تک کہ اب تمہیں بھولنا ممکن نہیں.... کیونکہ کچھ لوگ یاد نہیں رہتے... وہ انسان کی زندگی بن جاتے ہیں۔
2026-09-30 18:24:15
1
sardar Amanullah jhang alla :
right 👍
2026-09-30 10:01:11
0
Ghulam Haider :
exilant
2026-10-05 17:33:40
0
Haji Atif Ch :
alhamdulillah ❤️❤️❤️
2026-09-30 04:07:00
0
Haider Butt :
wah
2026-10-03 22:28:27
0
Aamir Sohail :
marr tu gaye hein dafnaein pata nahi kab jaein ge.
2026-10-01 01:48:36
1
🇵🇰🦋🥀Ŧă𝑦𝑦ăв ᴀʀᴀɪɴ🥀🦋🇦🇪 :
مجھے کسی سے نہیں ہے شکوہ میں خود ہی برباد ہو رہا ہو
یہ میرے دل ہی کی خواہش ہے جو میرے دل کو جلا رہی ہیں ۔
2026-09-28 19:02:47
2
To see more videos from user @ehsaas11211, please go to the Tikwm
homepage.