حضرت عمر فاروق راضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت کیلئے یہی کافی ہے کہ ان کو حضور نے مانگا تھا اللہ تعالیٰ سے اور آج روضہ رسول میں ہیں
2026-09-29 04:05:29
16
(javed) ملغانی ۔& :
Qari shab bhut bari Jung min sar dia he AP ne AP 5 tan pak k wakeel he Allah pak AP ko slamat rkhe
2026-09-29 05:52:56
13
shahnaz_fatima0 :
مولا پاک حسین علیہ السلام آپ کو سلامت رکھے آمین جیو جیو آپ صدا جیو حق بات کر دی
2026-09-29 02:20:55
23
Ahmad :
Ehle bait ka siphahi , Allama Sb Zindabad!
2026-09-29 03:29:17
7
Zayn Ali :
geoooooooo ya seen sb 🥰🤲
2026-09-29 10:12:59
0
Levi :
kia bat ha allama sahib 🌹🌹🌹
2026-09-29 11:03:27
1
nargisnargis1585o :
jeoo Allama sahab
2026-09-29 08:19:17
4
💫✨MUBEEN UL HASSAN AHEER ✨💫 :
Geo qadri shbbb[Exclaim heart]
2026-09-29 10:10:12
0
Zubair Ali kamoka :
3۔ غزوہ خندق / احزاب (5 ہجری)
غزوہ خندق کے دوران مدینہ کا ایک طویل اور اعصاب شکن محاصرہ کیا گیا تھا:
خندق کے حساس ترین مقام کی پہرے داری: حضرت عمرؓ خندق کے ان مقامات پر پہرہ دینے پر مامور تھے جہاں سے دشمن کے گھڑ سواروں کی طرف سے خندق پار کرنے کا سب سے زیادہ خطرہ تھا۔ انہوں نے شدید سردی، بھوک اور ناموافق حالات میں راتوں کو جاگ کر مدینہ کی سرحدوں کی حفاظت کی。
نمازِ عصر کی قضا پر شدید افسوس: اس جنگ میں ایک دن دشمن کے مسلسل تیر برسانے اور شدید حملوں کی وجہ سے حضرت عمرؓ اور رسول اللہ ﷺ کی نمازِ عصر قضا ہو گئی۔ حضرت عمرؓ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور کافروں پر اس رکاوٹ کی وجہ سے شدید غصے اور افسوس کا اظہار کیا، جس پر حضور ﷺ نے کافروں کے لیے بددعا فرمائی۔ یہ واقعہ ان کے دل میں نماز اور دین کی تڑپ کی ایک بڑی مثال ہے۔
ان تمام معرکوں میں حضرت عمر فاروقؓ نے ثابت کیا کہ وہ نہ صرف ایک نڈر اور جری جنگجو تھے بلکہ کفر کے خلاف رسول اللہ ﷺ کے سب سے مضبوط اور وفادار دستِ راست تھے۔
2026-09-28 19:56:46
2
🥀𝘼𝙎𝙂𝙃𝘼𝙍 𝘼𝙇𝙄🥀 :
Allah Pak apke zindagi main barkat daly ameen.[Rose]
2026-09-29 02:24:04
6
Ashiq Ali✨ :
mashallah daer[Red heart]
2026-09-29 04:53:59
0
Innoxent Syed :
Wah Wah kia khny Masha Allah 🥰
2026-09-28 19:17:48
9
لوٹ آئو در رسول ﷺ کی طرف :
یار ہم اپنے اعمال کیوں نہیں دیکھتے کسی دوسرے پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا بہت ضروری ہے کیوں ہر کوئی اپنے اعمال کا جوابدہ ہے کسی دوسرے کے نہیں ۔
آپ خلفائے راشدین کے ایمان پر شک کرتے ہیں یار اگر بروز محشر نبی پاک ﷺ نے اور اہلبیت اطہار علیہ السلام نے انھیں معاف کردیا اور آپ کی پکڑ ہوگئی تو کیا کرو گے ۔
اگر انھوں نے کوئی نعوذبااللّٰہ کوئی ظلم کیا ہے تو اسکا جواب وہ خود دیں گے ان کے اعمال ان کے ساتھ ہیں آپ اپنا آپ دیکھیں یار کیوں عوام کو اسی چیز میں الجھا کر رکھ دیا ہے ایک طبقہ کہتا ہے کہ مظلوم تھے ایک طبقہ کہتا ہے کہ ظالم تھے ۔
تو بھائی دین کہاں گیا ۔۔۔۔
2026-09-29 08:18:59
0
👑 ولایت علی علیہ السلام👑 :
Salam ho Mera aap ki❤️❤️
2026-09-29 10:03:27
1
Noshad Ali Hakim 💖 :
سب سے افضل گھرانہ پنجتن پاک کا ھے [Red heart][Red heart] بس
2026-09-29 12:01:39
2
Arham cheema :
good qadri good ❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️🫠❤️❤️
2026-09-29 05:02:13
1
Zubair Ali kamoka :
جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو ہجرت کی اجازت اور ساتھ چلنے کی خوشخبری سنائی، تو انہوں نے کسی قسم کی مہلت نہیں مانگی اور نہ ہی یہ کہا کہ "میں دو دریاں (یا سامان) بیچ کر آتا ہوں"۔
اس کے برعکس، حضرت ابوبکر صدیقؓ تو ہجرت کے لیے مہینوں سے بالکل تیار بیٹھے تھے۔ مستند تاریخی اور احادیث کی کتب (جیسے صحیح بخاری) کے مطابق ہجرت کا اصل واقعہ یوں ہے:
پہلے سے مکمل تیاری: حضرت ابوبکر صدیقؓ اس انتظار میں تھے کہ کب حضور ﷺ کو ہجرت کا حکم ہو اور وہ آپ ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوں۔ انہوں نے اس خاص سفر کے لیے دو اونٹنیاں خرید رکھی تھیں اور چار ماہ سے انہیں ببول کی پتیاں کھلا کر خاص طور پر تیار کر رہے تھے۔
فوری روانگی: جیسے ہی رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے دن مڈ ڈے (سخت دوپہر) کے وقت ان کے گھر آ کر فرمایا کہ "مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے"، تو حضرت ابوبکرؓ نے فوراً روتے ہوئے خوشی سے عرض کیا: "یا رسول اللہ! میری رفاقت (ساتھ چلنے) کا کیا بنا؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "ہاں، تم ساتھ چلو گے"۔
سب کچھ چھوڑ کر نکلنا: انہوں نے کوئی چیز بیچنے یا دنیاوی کام سمیٹنے کا نہیں سوچا، بلکہ فوراً اپنی دونوں اونٹنیاں پیش کر دیں۔ حضور ﷺ نے مفت سواری لینے سے انکار فرمایا اور اس کی قیمت ادا کر کے ایک اونٹنی قبول کی۔
سارا مال ساتھ لے گئے: حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس اس وقت جو کچھ بھی نقد رقم (تقریباً 5,000 سے 6,000 درہم) بچی ہوئی تھی، وہ انہوں نے کسی کاروبار میں لگانے یا رکھنے کے بجائے چپ چاپ ایک تھیلی میں ڈالی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غارِ ثور کی طرف نکل کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ اپنے گھر والوں کے لیے بھی کچھ پیچھے نہ چھوڑا۔
لہٰذا، "دو دریاں بیچنے" کی بات تاریخی حقائق اور صحیح احادیث کے بالکل خلاف ہے۔ وہ تو اپنا سب کچھ بارگاہِ رسالت میں پیش کر کے ہر لمحہ روانگی کے لیے تیار رہتے تھے۔
2026-09-28 20:04:00
1
Fidak Zara :
👍👍👍👍👍👍👍👍👍👍👍👍👍👍
2026-09-29 02:43:33
1
sarddarnawaf :
geo beshaq
2026-09-28 20:47:59
3
Ali Abbas 804As :
ya Ali madadaà
2026-09-28 23:06:17
3
Syed Muddasar Hussain 110 :
اللّٰہ پاک آپ کو ہمیشہ ڈھیروں خوشیاں عطا فرمائے آمین
2026-09-29 01:52:47
2
Royal Syed 👑 :
♥️🌹جیو یا سین قادری صاحب سلامت رھو ♥️🌹🌹
2026-09-29 08:51:48
1
Azhar rasheead khokhar :
Very good
2026-09-29 01:14:38
1
To see more videos from user @alamayaseenqadri, please go to the Tikwm
homepage.