@mathology9207: مدینہ میں انصار کا ایک اُونٹ غصے میں پاگل اور دیوانہ ہو گیا تھا۔ وہ اتنا خطرناک ہو چکا تھا کہ جو کوئی بھی باغ میں اس کے قریب جانے کی کوشش کرتا، وہ اسے کاٹنے اور مارنے دوڑتا تھا، جس کی وجہ سے لوگوں نے ڈر کے مارے باغ کا دروازہ ہی بند کر دیا تھا۔ جب صحابہ کرام نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سارا ماجرا عرض کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ چلو مجھے اس باغ میں لے چلو۔ جب آپ ﷺ باغ میں تشریف لے گئے تو صحابہ نے اونٹ کے حملے کے ڈر سے آپ ﷺ کو آگے جانے سے روکا، لیکن آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اس سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔جیسے ہی اس اونٹ نے رسول اللہ ﷺ کے نورانی چہرے کو دیکھا، تو اس کا سارا غصہ اور پاگل پن سیکنڈوں میں ختم ہو گیا۔ وہ فوراً دوڑتا ہوا آیا اور آپ ﷺ کے مبارک قدموں میں اپنا سر رکھ کر سجدہ ریز ہو گیا۔ وہ اونٹ حضور ﷺ کے قریب آ کر ایسی آوازیں نکالنے لگا جیسے کوئی رو رو کر اپنی فریاد سنا رہا ہو۔ نبی کریم ﷺ نے نہایت شفقت سے اس کے سر اور کانوں پر ہاتھ پھیرا تو وہ بالکل پرسکون ہو گیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے صحابہ کی طرف رخ کیا اور فرمایا کہ اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ اس کے مالک اس سے کام بہت زیادہ لیتے ہیں، اسے بھوکا رکھتے ہیں اور اب انہوں نے اسے ذبح کرنے کا ارادہ کر لیا ہے، اسی لیے یہ بھاگ کر میری بارگاہ میں فریاد لے کر آیا ہے۔جب اونٹ کے مالک وہاں آئے، تو آپ ﷺ نے انہیں بلا کر فرمایا کہ کیا تم ان بے زبان جانوروں کے معاملے میں اللہ سے نہیں ڈرتے جن کا اللہ نے تمہیں مالک بنایا ہے؟ مالک نے اپنی غلطی تسلیم کی، حضور ﷺ سے معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ وہ آئندہ اس اونٹ کا پورا خیال رکھیں گے اور اسے پورا آرام دیں گے۔ اس واقعے کے بعد حضور ﷺ نے صحابہ کرام سے فرمایا تھا کہ آسمان و زمین کی ہر مخلوق، سوائے سرکش انسانوں اور جنوں کے، یہ اچھی طرح جانتی ہے کہ میں اللہ کا سچا رسول ہوں، اور یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمارے نبی ﷺ صرف انسانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ کل کائنات کے لیے رحمت اللعالمین ہیں