@defendersofpakistan92: قائداعظم کی ہدایت کے جوابمیں یہ تاریخی الفاظ پاکستان کے پہلے کمانڈر ان چیف، جنرل سر فرینک میسروی (General Sir Frank Messervy) یا بعد میں آنے والے جنرل سر ڈگلس گریسی (General Sir Douglas Gracey) سے منسوب کیے جاتے ہیں، جنہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کے بعض احکامات کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اس وقت پاکستانی فوج کے اعلیٰ عہدیدار انگریز تھے جو تکنیکی طور پر ابھی بھی برطانوی تاج (Crown) کے وفادار تھے۔ آپ کے اٹھائے گئے نکات کی روشنی میں اس پورے تناظر اور پاکستانی تاریخ کی حقیقت کا ایک غیر جانبدارانہ جائزہ نیچے دیا گیا ہے: 1. برطانوی کمانڈرز اور قائد اعظم کا حکم تفصیلات کے مطابق، 1947-1948 میں جب کشمیر کی صورتحال خراب ہوئی تو قائد اعظم محمد علی جناح نے پاک فوج کو پیش قدمی کا حکم دیا۔ تاہم، اس وقت کے انگریز جنرلز نے یہ کہہ کر ان کا حکم ماننے سے معذرت کر لی کہ وہ برطانوی بادشاہ کے وفادار ہیں اور دونوں ڈومینینز (پاکستان اور بھارت) کے درمیان براہ راست جنگ کی صورت میں وہ اپنے دستے نہیں بھیج سکتے۔ 2. سول ملٹری تعلقات کی تاریخ پاکستان کی تاریخ میں سول حکومتوں اور عسکری قیادت کے درمیان اختیارات کا توازن ہمیشہ ایک بڑا بحث کا موضوع رہا ہے۔ سیاسی مداخلت: پاکستان کی تاریخ میں 4 مرتبہ براہ راست مارشل لاء لگا اور طویل عرصے تک فوجی حکومتیں رہیں۔ وزیر اعظم کے احکامات: یہ تاثر مکمل طور پر غلط نہیں ہے کہ کئی مواقع پر وزرائے اعظم کے فیصلوں کو سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی کے معاملات میں چیلنج کیا گیا یا انہیں تسلیم نہیں کیا گیا۔ 3. کیا آج بھی پاکستان اس اثر سے نہیں نکل سکا؟ دفاعی اور سیاسی ماہرین کے مطابق، پاکستان نے 1951 میں اپنا پہلا مقامی کمانڈر ان چیف (جنرل ایوب خان) مقرر کر کے برطانوی کمانڈ سے مکمل آزادی حاصل کر لی تھی۔ لیکن ملکی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا اثر و رسوخ آج بھی ایک حقیقت ہے، جس کی وجہ سے یہ بحث اب بھی زندہ ہے کہ ملک کا اصل کنٹرول کس کے پاس ہے۔ میں گریسی نے فوری طور پر فوج کو کشمیر بھیجنے کا حکم جاری نہیں کیا۔ تاریخی بیان کے مطابق، انہوں نے کہا کہ وہ سپریم کمانڈر فیلڈ مارشل کلاڈ آکنلک کی منظوری کے بغیر ایسا حکم جاری نہیں کریں گے۔ آکنلک اس وقت تقسیمِ ہند کے بعد دونوں ملکوں کی افواج سے متعلق معاملات کی نگرانی کر رہے تھے۔ انہیں خدشہ تھا کہ اگر برطانوی افسر پاکستانی فوج کی جانب سے بھارتی فوج کے خلاف جنگ میں شریک ہوئے تو برطانوی افسران کو دونوں طرف سے ایک دوسرے کے خلاف لڑنا پڑ سکتا ہے۔ آکنلک لاہور پہنچے اور قائداعظم کو بتایا کہ پاکستانی فوج کے اس اقدام کے نتیجے میں پاکستان کی فوج میں خدمات انجام دینے والے برطانوی افسران کو واپس بلایا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد فوج بھیجنے کا حکم واپس لے لیا گیا۔ ایک اہم تاریخی وضاحت: جنرل گریسی کو اکثر پاکستان کا پہلا آرمی چیف کہا جاتا ہے، لیکن یہ درست نہیں۔ اکتوبر 1947ء میں پاکستان کے پہلے کمانڈر انچیف جنرل سر فرینک میسروی تھے۔ گریسی اس وقت ان کی عارضی غیر موجودگی میں قائم مقام کمانڈر انچیف کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ گریسی بعد میں 1948ء میں باقاعدہ کمانڈر انچیف بنے۔ #PakistanPoliticalCrisis #PakistanPolitics #foryou
same till now. this is the heritage from the beginning of Pakistan
2026-10-17 03:26:56
0
طارق اعوان 🇵🇰78WB :
جب انڈیا تقسیم کے بعد اپنا فوجی چیف رکھ سکتا تھا تو بابے کو کس نے بولا تھا کہ وہ انگریزوں کے فوجی چیف سمیت علیحدہ ملک قبول کرے😂 بابے کا کام بنتا تھا فوری اپنا آرمی چیف لگاتا
2026-09-29 07:33:12
6
Saqib 3:16 :
پاکستانی فوج آج بھی امریکی اور برطانوی زیرے کنٹرول ہے
2026-09-29 05:06:34
12
Adv Ch Umair Mehmood Rajput :
Pakistan 1947 sy 1956 tak British crown ky under tha matlab Pakistan 1947 nahi 1956 main British Empire sy alag howa or 1947 main sirf or sirf India sy alag howa tha British crown ny 1956 tak Pakistan par hakomat ki thi
2026-09-30 10:17:08
0
Ayesha butt :
well he was on a mission he could tell you nothing about it
2026-09-29 11:49:12
0
GhaziTradingServices :
سیدھی سادی سی بات ہے کہ پاکستان صرف نام ہے ایک آزاد ملک ہے ہی نہیں سرے سے بات ختم
2026-09-30 18:40:14
0
Adnan Baig526 :
that's the Ai mentality.
2026-09-29 17:08:20
0
S a m a d :
I also work under Britain don't be confuse😂
2026-09-29 07:59:55
0
شاه زمان گورچانی☝️٧٣ :
💚💚💚
2026-09-29 02:00:07
0
Adv Ch Umair Mehmood Rajput :
1956
Pakistan was an independent dominion under the British Commonwealth rather than a direct colony until March 23, 1956, when it adopted its first constitution and became a republic.
The Dominion Period (1947–1956)
• Independence and Status: Pakistan gained independence on August 14, 1947, through the Indian Independence Act 1947 passed by the British Parliament. Instead of a full republic immediately, it became a dominion (or Commonwealth realm).
• Head of State: The British monarch—King George VI (until 1952) and later Queen Elizabeth II (until 1956)—remained the official head of state of Pakistan, represented locally by a Governor-General.
• Governance: The country operated under an interim arrangement using an amended version of the Government of India Act 1935 while its Constituent Assembly drafted a permanent constitution.
Transition to a Republic
• Constitutional Adoption: On March 23, 1956, the Constituent Assembly successfully adopted the Constitution of Pakistan, changing the state's status from a dominion to an Islamic Republic and ending the monarchy's formal role.
2026-09-30 10:20:29
0
AK 👑 :
Yes then he left or per pakistan k chief musalman bany
2026-10-09 10:41:16
0
To see more videos from user @defendersofpakistan92, please go to the Tikwm
homepage.