@kang.yana61: Adzan Versi KH Muammar Za

Kang Yana✔️
Kang Yana✔️
Open In TikTok:
Region: ID
Monday 28 September 2026 22:05:04 GMT
7952
248
6
5

Music

Download

Comments

mozidannn
mzdnn :
tone suaranya juga mirip banget
2026-09-29 02:48:07
2
muhamadjo711
muhamadjo711 :
allahuakbar
2026-09-29 07:47:07
1
tomatocerry98
kuntilanakmerah :
tenang + nafas panjang indah banget guru 🥺
2026-09-30 08:10:54
0
junet.caselo
Junet caselo :
🥰🥰🥰
2026-09-29 01:09:44
1
user3821428283010
មូស ស្លឹម :
🥰🥰🥰
2026-09-29 01:57:48
1
wenherman2
Hermansyah :
👍👍👍
2026-09-29 02:17:14
1
To see more videos from user @kang.yana61, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

جھوٹی تہمت ہی سہی، زلیخا کی سنی جاتی ہے۔ دامنِ یوسف پر تہمت لگی، مگر مصر میں آج بھی یوسف کا دامن پاک یاد کیا جاتا ہے۔ الزام جھوٹا تھا، مگر زلیخا کی بات سنی گئی۔ شاید یہی دنیا کی سب سے کڑوی حقیقت ہے کہ لوگ سچ دیکھنے سے پہلے کہانی سن لیتے ہیں، اور پھر ایک بے قصور انسان اپنی بے گناہی ثابت کرتے کرتے اُن لوگوں سے بھی تھک جاتا ہے جنہیں اُس کی حقیقت کا ذرا سا بھی علم نہیں ہوتا۔ یاد رکھنا، ہر سنی ہوئی بات سچ نہیں ہوتی، اور ہر خاموش انسان قصوروار نہیں ہوتا۔ کبھی کسی کے خلاف صرف ایک جملہ کافی ہوتا ہے، لوگ تحقیق نہیں کرتے، بس یقین کر لیتے ہیں۔ کچھ لوگ صفائی اس لیے نہیں دیتے کہ اُن کے پاس جواب نہیں ہوتا، بلکہ اس لیے خاموش رہتے ہیں کہ اُن کا رب اُن کی حقیقت جانتا ہے۔ سو اگر کبھی تم پر تہمت لگے اور تم بے قصور ہو، تو ہر زبان کو جواب مت دینا۔ اپنے رب کو گواہ بنا لینا۔ کیونکہ دنیا آج بھی زلیخا کی بات سن سکتی ہے، مگر وقت گزرنے کے بعد یاد ہمیشہ یوسف کی پاکیزگی ہی رہتی ہے۔ دنیا زلیخا کی بات سنتی رہے، تم یوسف کی طرح اپنے دامن کو دیکھنا۔ اگر وہاں کوئی داغ نہیں، تو پھر لوگوں کی انگلیاں تمہاری حقیقت نہیں بدل سکتیں۔ کیونکہ تہمت کے پاس آواز ہوتی ہے، مگر سچ کے پاس صبر ہوتا ہے۔ اور صبر کی ایک عادت ہے، وہ دیر سے آتا ہے، مگر جب آتا ہے تو جھوٹ کے سارے پردے چاک کر دیتا ہے۔
جھوٹی تہمت ہی سہی، زلیخا کی سنی جاتی ہے۔ دامنِ یوسف پر تہمت لگی، مگر مصر میں آج بھی یوسف کا دامن پاک یاد کیا جاتا ہے۔ الزام جھوٹا تھا، مگر زلیخا کی بات سنی گئی۔ شاید یہی دنیا کی سب سے کڑوی حقیقت ہے کہ لوگ سچ دیکھنے سے پہلے کہانی سن لیتے ہیں، اور پھر ایک بے قصور انسان اپنی بے گناہی ثابت کرتے کرتے اُن لوگوں سے بھی تھک جاتا ہے جنہیں اُس کی حقیقت کا ذرا سا بھی علم نہیں ہوتا۔ یاد رکھنا، ہر سنی ہوئی بات سچ نہیں ہوتی، اور ہر خاموش انسان قصوروار نہیں ہوتا۔ کبھی کسی کے خلاف صرف ایک جملہ کافی ہوتا ہے، لوگ تحقیق نہیں کرتے، بس یقین کر لیتے ہیں۔ کچھ لوگ صفائی اس لیے نہیں دیتے کہ اُن کے پاس جواب نہیں ہوتا، بلکہ اس لیے خاموش رہتے ہیں کہ اُن کا رب اُن کی حقیقت جانتا ہے۔ سو اگر کبھی تم پر تہمت لگے اور تم بے قصور ہو، تو ہر زبان کو جواب مت دینا۔ اپنے رب کو گواہ بنا لینا۔ کیونکہ دنیا آج بھی زلیخا کی بات سن سکتی ہے، مگر وقت گزرنے کے بعد یاد ہمیشہ یوسف کی پاکیزگی ہی رہتی ہے۔ دنیا زلیخا کی بات سنتی رہے، تم یوسف کی طرح اپنے دامن کو دیکھنا۔ اگر وہاں کوئی داغ نہیں، تو پھر لوگوں کی انگلیاں تمہاری حقیقت نہیں بدل سکتیں۔ کیونکہ تہمت کے پاس آواز ہوتی ہے، مگر سچ کے پاس صبر ہوتا ہے۔ اور صبر کی ایک عادت ہے، وہ دیر سے آتا ہے، مگر جب آتا ہے تو جھوٹ کے سارے پردے چاک کر دیتا ہے۔

About