@prettyvoid_: زندگی میں کچھ آزمائشیں ایسی آتی ہیں جو صرف آپ کو نہیں توڑتیں، بلکہ آپ کے اندر بنے ہوئے پورے جہان کو مٹا دیتی ہیں۔ سالوں کی محنت، دعائیں، خواب، رشتے، یقین سب کچھ ایک لمحے میں بے معنی سا لگنے لگتا ہے۔ پھر انسان کے سامنے بظاہر دو ہی راستے رہ جاتے ہیں- خود کو ختم کر دینا، یا پھر خود کو چُن لینا۔ ختم کر دینا شاید آسان لگتا ہے، مگر خود کو چُننا ایسا ہے جیسے ایک سمندر کے سامنے کھڑے ہو کر، کشتی کے بغیر اسے پار کرنے کا فیصلہ کرنا۔ ابتدا میں اپنے آپ پر یقین نہیں ہوتا۔ آگے کا راستہ نظر نہیں آتا۔ بس کہیں بہت اندر اللہ پر یقین کی ایک چھوٹی سی روشنی باقی رہ جاتی ہے۔ اُس اللہ پر جس نے تمہیں پیدا کیا، تمہیں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت دی، اپنے آپ پر ظلم کرنے سے روکا، اور تمہیں یہ شعور دیا کہ تم اپنے لیے ایک بہتر زندگی کا انتخاب کر سکتی ہو۔ کبھی کبھی دوسری زندگی کسی معجزے سے نہیں ملتی، بلکہ اُس دن شروع ہوتی ہے جب انسان ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ بھی خود کو چُن لیتا ہے۔ شاید اللہ ہمیں اُس زندگی تک لے جانے کے لیے پہلے اُس زندگی سے نکالتا ہے جسے ہم اپنا سب کچھ سمجھ بیٹھے تھے۔ آپ نہیں جانتےآگےزندگی کیسی ہوگی۔ یہ نہیں معلوم کون سے خواب دوبارہ پورے ہوں گے، کون سے رشتے دوبارہ ملیں گے، اور کون سی کمی ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے گی۔ مگر اتنا ضرور جانتے ہو کہ جو کچھ آپ کے ساتھ ہوا، وہ آپکی پوری کہانی نہیں ہو سکتا۔ زندگی کسی ایک واقعے، کسی ایک رشتے یا کسی ایک نقصان پر ختم نہیں ہوتی۔ کچھ چیزیں پیچھے رہ جاتی ہیں، کچھ سبق ساتھ چلتے ہیں، اور انسان خود کو ایک نئے راستے پر دوبارہ کھڑا کر لیتا ہے.کبھی کبھی آگے بڑھنے کے لیے کسی دوسرے کے سہارے یا توثیق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بس اللہ پر یقین، خود پر بھروسا، اور ایک قدم آگے بڑھانے کی ہمت کافی ہوتی ہے. وہ اگلا قدم ہمیشہ تمہارا ہونا چاہیے، تمہاری مرضی کا، تمہاری ضرورت کے مطابق، اور تمہارے یقین کے مطابق. #fyp