@darvesh_013: کبھی کبھی انسان اندر سے اتنا ٹوٹ جاتا ہے کہ اسے لگتا ہے اس کی ساری دعائیں، ساری نیکیاں اور سارا صبر رائیگاں گیا۔ جب آس پاس کوئی درد بانٹنے والا نہ ہو اور دنیا آپ کی نیت پر شک کرے، تو رات کے اندھیرے میں بہنے والے وہ خاموش آنسو بھی بے معنی لگنے لگتے ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ اس اوپر والے کے ہاں ہمارا کچھ بھی ضائع نہیں ہوتا۔ وہ رات کے اندھیرے میں بہنے والا ایک آنسو بھی گنتا ہے اور وہ نیکی بھی جو ہم نے کسی کو بتائے بغیر کی تھی۔ ہمیں بس لگتا ہے کہ وہ ہماری سن نہیں رہا، مگر وہ دراصل ہمارے لیے ایک 'بہترین وقت' چن رہا ہوتا ہے۔ اگر آج آپ کا دل اداس ہے اور لگ رہا ہے کہ آپ کی کسی قربانی کی کوئی قدر نہیں ہوئی، تو بس اتنا یاد رکھیں کہ جس رب کی طرف آپ دیکھ رہے ہیں، اس کے ہاں آپ کے ہر دکھ کا حساب اور ہر آنسو کی قدر ہے۔ وہ جب دے گا، تو آپ پچھلے سارے دکھ بھول جائیں گے۔ اپنے دل کو تسلی دیں، اور یقین رکھیں۔ . . .