@murugaa_1: 📍Tiruvnnamalai | Annamalaiyar | Arunachalarts✨ #thiruvannamalai #girivalam2026 #viralvideo #fyp #1111

✨LORD MURUGAN🧿
✨LORD MURUGAN🧿
Open In TikTok:
Region: LK
Tuesday 29 September 2026 15:49:20 GMT
2461
555
15
16

Music

Download

Comments

bharathy19
Bharathy19 :
Om namah sivaya namaha Appa Tunai 🙏🙏🙏
2026-10-01 15:44:15
0
thiru5224
thiru :
om namasivayaa 🙏🙏🙏
2026-09-30 01:58:32
0
davepathz
davepathz :
🙏🙏🙏Om Namah Shivaya 🙏🙏🙏
2026-09-29 23:06:06
0
luckshiloki
*H፝֟͢ᴏ⃨ɴ፝֟͢ɛ⃨ʏ⃨ ɢ፝֟͢ɪ⃨ʀ፝֟͢ʟ⃨* :
ஓம் நமசிவாய💖💖🙏
2026-09-30 06:02:28
0
ruvanddkrishnan
𝑹𝒖𝒗𝒂𝒏𝒅𝒅𝑲𝒓𝒊𝒔𝒉𝒏𝒂𝒏 :
Om Namashivaya 🙏🙏🙏
2026-09-29 16:06:52
0
jayen9154
Coumaren951 :
om Namah shivaya 🙏
2026-09-29 15:51:26
0
vkr838
VickY8388 :
Om namashivaya Annamalaiyar AROGARA
2026-10-02 08:57:49
0
yathu20020111
Yathu 🇨🇦 :
🙏🙏🙏
2026-09-30 03:49:40
0
malathi5980
malathi :
🙏🙏🙏
2026-09-29 18:39:30
0
nageswaryperiyasa
nageswaryperiyasa :
🙏🏻🙏🏻🙏🏻
2026-09-29 21:25:55
0
venusanvenu1
🇱🇰K丹尺∪ㄗㄗ丹れ🇨🇵 :
🙏🙏🙏
2026-09-29 20:38:57
0
siyansan14
Siya 2005 :
[Pray][Pray][Pray]
2026-09-29 19:26:39
0
candik_1006
C@nd!K 🐦 :
🙏🏻🙏🏻🙏🏻
2026-09-29 22:29:37
0
ajajaj989
Ajay :
🙏🏻🙏🏻🙏🏻
2026-09-29 15:57:16
0
nagarajannagaraja405
காக்கும் சிவனே போற்றி :
🙏🙏🙏
2026-09-30 17:17:44
0
To see more videos from user @murugaa_1, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#نانا پاٹیکر کی زندگی اور وفات تک کا سفر نانا پاٹیکر بھارتی فلمی دنیا کے ان منفرد فنکاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی غیر معمولی اداکاری، مضبوط مکالمہ نگاری اور حقیقت سے قریب کرداروں کے ذریعے لاکھوں لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔ ان کا اصل نام وشواناتھ پاٹیکر تھا۔ وہ یکم جنوری 1951ء کو مہاراشٹرا کے علاقے مروڈ-جنجیرہ میں پیدا ہوئے۔ بعد میں انہوں نے ہندی اور مراٹھی سینما میں اداکار، ہدایت کار اور مصنف کی حیثیت سے اپنی الگ پہچان بنائی۔ ابتدائی زندگی نانا پاٹیکر کا بچپن آسان نہیں تھا۔ ان کا تعلق ایک مراٹھی خاندان سے تھا اور کم عمری میں ہی انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہی حالات نے ان کی شخصیت میں محنت، سادگی اور زندگی کی حقیقتوں کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کی۔ انہوں نے ممبئی کے Sir J. J. Institute of Applied Art سے تعلیم حاصل کی۔ نانا نے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے تھیٹر سے وابستگی اختیار کی۔ اسٹیج نے انہیں اداکاری کے بنیادی اصول سکھائے اور بعد میں یہی تجربہ ان کے فلمی کیریئر کی مضبوط بنیاد بنا۔ فلمی سفر کا آغاز نانا پاٹیکر نے 1978ء کی فلم گمن (Gaman) سے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ ابتدائی دور میں انہیں بہت زیادہ شہرت نہیں ملی، لیکن وہ مسلسل مختلف فلموں میں کام کرتے رہے اور اپنی اداکاری کا لوہا منواتے گئے۔ 1980ء کی دہائی کے آخر میں ان کا کیریئر تیزی سے آگے بڑھا۔ 1988ء کی فلم سلام بمبئی! نے انہیں مزید نمایاں کیا، جبکہ 1989ء کی فلم پرِندا (Parinda) میں ان کی اداکاری کو زبردست پذیرائی ملی۔ اس فلم پر انہیں نیشنل فلم ایوارڈ اور فلم فیئر ایوارڈ ملا۔ کامیابی اور شہرت 1990ء کی دہائی نانا پاٹیکر کے فلمی کیریئر کا اہم ترین دور ثابت ہوئی۔ انہوں نے انگار، ترنگا، کرانتی ویر، اگنی ساکشی اور دیگر فلموں میں مختلف اور یادگار کردار ادا کیے۔ فلم کرانتی ویر (1994) میں ان کی اداکاری کو خاص طور پر سراہا گیا اور انہیں بہترین اداکار کا نیشنل فلم ایوارڈ ملا۔ اگنی ساکشی (1996) کے لیے بھی انہیں نیشنل فلم ایوارڈ ملا۔ اس طرح وہ اپنی اداکاری کے لیے مجموعی طور پر تین نیشنل فلم ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکاروں میں شامل ہوئے۔ نانا پاٹیکر کی خاص بات یہ تھی کہ وہ صرف ایک ہی قسم کے کردار تک محدود نہیں رہے۔ انہوں نے پولیس افسر، جرائم پیشہ شخص، سیاست دان، عام آدمی، فوجی اور مزاحیہ کردار سمیت مختلف نوعیت کے کردار ادا کیے۔ ہدایت کاری اور دیگر صلاحیتیں نانا پاٹیکر صرف اداکار ہی نہیں بلکہ مصنف اور ہدایت کار بھی تھے۔ انہوں نے پراہار: دی فائنل اٹیک (Prahaar: The Final Attack) کی ہدایت کاری کی اور اس میں اداکاری بھی کی۔ بعد کے برسوں میں بھی ان کی اداکاری کا سفر جاری رہا۔ اب تک چھپن، اپہارَن، ویلکم، راج نیتی، نٹسمراٹ اور دیگر فلموں میں انہوں نے یادگار کردار ادا کیے۔ خاص طور پر فلم ویلکم (2007) میں اودے شیٹی کا مزاحیہ کردار ان کے سنجیدہ اور سخت کرداروں سے بالکل مختلف تھا۔ اس کردار نے نئی نسل کے ناظرین میں بھی انہیں بے حد مقبول کیا۔ 2016ء کی مراٹھی فلم نٹسمراٹ میں ان کی اداکاری کو بھی بہت سراہا گیا۔ فوج سے وابستگی نانا پاٹیکر نے بھارتی ٹیریٹوریل آرمی سے بھی وابستگی رکھی۔ 1999ء کی کارگل جنگ کے دوران انہوں نے فوج کے ساتھ خدمات انجام دیں۔ بعد میں انہیں اعزازی لیفٹیننٹ کرنل کا رینک بھی حاصل ہوا۔ یہ پہلو ان کی شخصیت کا ایک نسبتاً کم معروف مگر اہم حصہ تھا، کیونکہ وہ صرف فلمی دنیا تک محدود شخصیت نہیں تھے۔ سماجی خدمت نانا پاٹیکر نے اپنی شہرت کو سماجی خدمت کے لیے بھی استعمال کیا۔ وہ کسانوں اور خشک سالی سے متاثرہ خاندانوں کی مدد کے کاموں سے وابستہ رہے۔ انہوں نے اداکار مکرند انسپرے کے ساتھ مل کر Naam Foundation کے ذریعے کسانوں اور ضرورت مند خاندانوں کی مدد کے لیے کام کیا۔ ان کی زندگی کا یہ پہلو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ سماجی مسائل کے بارے میں بھی حساس تھے۔ اعزازات نانا پاٹیکر کو ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں متعدد بڑے اعزازات ملے۔ ان میں تین نیشنل فلم ایوارڈز، فلم فیئر ایوارڈز اور دیگر اعزازات شامل ہیں۔ حکومتِ ہند نے 2013ء میں انہیں پدم شری سے بھی نوازا۔ آخری برس اور وفات نانا پاٹیکر نے عمر کے آخری حصے تک فلموں اور دیگر تخلیقی سرگرمیوں میں کام جاری رکھا۔ وہ ہندی کے ساتھ ساتھ مراٹھی سینما میں بھی فعال رہے اور اپنی مخصوص آواز، مکالمہ بولنے کے انداز اور جذباتی اداکاری کے باعث اپنی الگ شناخت برقرار رکھی۔ 8 اکتوبر 2026ء کو 75 سال کی عمر میں گوا میں ان کا انتقال ہوگیا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق انہیں گھر میں طبی ایمرجنسی پیش آئی، جس کے بعد انہیں اسپتال لے جایا گیا جہاں انہیں مردہ قرار دیا گیا۔ ابتدائی رپورٹس میں دل کا دورہ/کارڈیک اریسٹ بتایا گیا ہے، جبکہ طبی قانونی کارروائی بھی کی گئی۔ ان کے بیٹے ملہار پاٹیکر
#نانا پاٹیکر کی زندگی اور وفات تک کا سفر نانا پاٹیکر بھارتی فلمی دنیا کے ان منفرد فنکاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی غیر معمولی اداکاری، مضبوط مکالمہ نگاری اور حقیقت سے قریب کرداروں کے ذریعے لاکھوں لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔ ان کا اصل نام وشواناتھ پاٹیکر تھا۔ وہ یکم جنوری 1951ء کو مہاراشٹرا کے علاقے مروڈ-جنجیرہ میں پیدا ہوئے۔ بعد میں انہوں نے ہندی اور مراٹھی سینما میں اداکار، ہدایت کار اور مصنف کی حیثیت سے اپنی الگ پہچان بنائی۔ ابتدائی زندگی نانا پاٹیکر کا بچپن آسان نہیں تھا۔ ان کا تعلق ایک مراٹھی خاندان سے تھا اور کم عمری میں ہی انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہی حالات نے ان کی شخصیت میں محنت، سادگی اور زندگی کی حقیقتوں کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کی۔ انہوں نے ممبئی کے Sir J. J. Institute of Applied Art سے تعلیم حاصل کی۔ نانا نے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے تھیٹر سے وابستگی اختیار کی۔ اسٹیج نے انہیں اداکاری کے بنیادی اصول سکھائے اور بعد میں یہی تجربہ ان کے فلمی کیریئر کی مضبوط بنیاد بنا۔ فلمی سفر کا آغاز نانا پاٹیکر نے 1978ء کی فلم گمن (Gaman) سے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ ابتدائی دور میں انہیں بہت زیادہ شہرت نہیں ملی، لیکن وہ مسلسل مختلف فلموں میں کام کرتے رہے اور اپنی اداکاری کا لوہا منواتے گئے۔ 1980ء کی دہائی کے آخر میں ان کا کیریئر تیزی سے آگے بڑھا۔ 1988ء کی فلم سلام بمبئی! نے انہیں مزید نمایاں کیا، جبکہ 1989ء کی فلم پرِندا (Parinda) میں ان کی اداکاری کو زبردست پذیرائی ملی۔ اس فلم پر انہیں نیشنل فلم ایوارڈ اور فلم فیئر ایوارڈ ملا۔ کامیابی اور شہرت 1990ء کی دہائی نانا پاٹیکر کے فلمی کیریئر کا اہم ترین دور ثابت ہوئی۔ انہوں نے انگار، ترنگا، کرانتی ویر، اگنی ساکشی اور دیگر فلموں میں مختلف اور یادگار کردار ادا کیے۔ فلم کرانتی ویر (1994) میں ان کی اداکاری کو خاص طور پر سراہا گیا اور انہیں بہترین اداکار کا نیشنل فلم ایوارڈ ملا۔ اگنی ساکشی (1996) کے لیے بھی انہیں نیشنل فلم ایوارڈ ملا۔ اس طرح وہ اپنی اداکاری کے لیے مجموعی طور پر تین نیشنل فلم ایوارڈ حاصل کرنے والے فنکاروں میں شامل ہوئے۔ نانا پاٹیکر کی خاص بات یہ تھی کہ وہ صرف ایک ہی قسم کے کردار تک محدود نہیں رہے۔ انہوں نے پولیس افسر، جرائم پیشہ شخص، سیاست دان، عام آدمی، فوجی اور مزاحیہ کردار سمیت مختلف نوعیت کے کردار ادا کیے۔ ہدایت کاری اور دیگر صلاحیتیں نانا پاٹیکر صرف اداکار ہی نہیں بلکہ مصنف اور ہدایت کار بھی تھے۔ انہوں نے پراہار: دی فائنل اٹیک (Prahaar: The Final Attack) کی ہدایت کاری کی اور اس میں اداکاری بھی کی۔ بعد کے برسوں میں بھی ان کی اداکاری کا سفر جاری رہا۔ اب تک چھپن، اپہارَن، ویلکم، راج نیتی، نٹسمراٹ اور دیگر فلموں میں انہوں نے یادگار کردار ادا کیے۔ خاص طور پر فلم ویلکم (2007) میں اودے شیٹی کا مزاحیہ کردار ان کے سنجیدہ اور سخت کرداروں سے بالکل مختلف تھا۔ اس کردار نے نئی نسل کے ناظرین میں بھی انہیں بے حد مقبول کیا۔ 2016ء کی مراٹھی فلم نٹسمراٹ میں ان کی اداکاری کو بھی بہت سراہا گیا۔ فوج سے وابستگی نانا پاٹیکر نے بھارتی ٹیریٹوریل آرمی سے بھی وابستگی رکھی۔ 1999ء کی کارگل جنگ کے دوران انہوں نے فوج کے ساتھ خدمات انجام دیں۔ بعد میں انہیں اعزازی لیفٹیننٹ کرنل کا رینک بھی حاصل ہوا۔ یہ پہلو ان کی شخصیت کا ایک نسبتاً کم معروف مگر اہم حصہ تھا، کیونکہ وہ صرف فلمی دنیا تک محدود شخصیت نہیں تھے۔ سماجی خدمت نانا پاٹیکر نے اپنی شہرت کو سماجی خدمت کے لیے بھی استعمال کیا۔ وہ کسانوں اور خشک سالی سے متاثرہ خاندانوں کی مدد کے کاموں سے وابستہ رہے۔ انہوں نے اداکار مکرند انسپرے کے ساتھ مل کر Naam Foundation کے ذریعے کسانوں اور ضرورت مند خاندانوں کی مدد کے لیے کام کیا۔ ان کی زندگی کا یہ پہلو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ سماجی مسائل کے بارے میں بھی حساس تھے۔ اعزازات نانا پاٹیکر کو ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں متعدد بڑے اعزازات ملے۔ ان میں تین نیشنل فلم ایوارڈز، فلم فیئر ایوارڈز اور دیگر اعزازات شامل ہیں۔ حکومتِ ہند نے 2013ء میں انہیں پدم شری سے بھی نوازا۔ آخری برس اور وفات نانا پاٹیکر نے عمر کے آخری حصے تک فلموں اور دیگر تخلیقی سرگرمیوں میں کام جاری رکھا۔ وہ ہندی کے ساتھ ساتھ مراٹھی سینما میں بھی فعال رہے اور اپنی مخصوص آواز، مکالمہ بولنے کے انداز اور جذباتی اداکاری کے باعث اپنی الگ شناخت برقرار رکھی۔ 8 اکتوبر 2026ء کو 75 سال کی عمر میں گوا میں ان کا انتقال ہوگیا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق انہیں گھر میں طبی ایمرجنسی پیش آئی، جس کے بعد انہیں اسپتال لے جایا گیا جہاں انہیں مردہ قرار دیا گیا۔ ابتدائی رپورٹس میں دل کا دورہ/کارڈیک اریسٹ بتایا گیا ہے، جبکہ طبی قانونی کارروائی بھی کی گئی۔ ان کے بیٹے ملہار پاٹیکر

About