@javedhashmiofficial: آج سمجھانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟ بنگالیوں کے لیے پاکستان کیا تھا؟ ہماری فوج کے لیے پاکستان کیا تھا، کیا ہے اور کیا ہوگا؟ ہمارا دس لوگوں کا وفد مشرقی پاکستان بھیجا گیا۔ ہمارے وفد میں سے ابھی کافی لوگ زندہ ہیں۔ ہمیں پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ حفیظ خان صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے۔ وہ بھی شاید اب کینیڈا میں رہتے ہیں۔ صلو درانی بھی ہمارے ساتھ تھے۔ جو کچھ ہم نے وہاں دیکھا، کاش نا دیکھتے۔ ہمارے ساتھ حامد میر کے والد، ڈاکٹر وارث میر، بھی تھے۔ انڈیا کی پابندی کی وجہ سے ہم پہلے سری لنکا گئے، وہاں سے پھر ڈھاکہ پہنچے۔ ہمارا قیام ڈھاکہ یونیورسٹی کے ہوسٹل میں تھا۔ جہاں ہم رہ رہے تھے، وہیں مکتی باہنی کا گڑھ بھی تھا۔ وہاں ہمارے سروں کی قیمتیں طے ہو چکی تھیں۔ ہمیں پتا چلا کہ ہمارے سروں کا سودا ہو چکا ہے۔ ہم مشکل سے وہاں سے بھاگ کر ڈھاکہ ایئرپورٹ پہنچے، جہاں سے آخری جہاز نکل رہا تھا۔ ہم پاکستان آئے اور سارا ماجرا بتایا۔ جو پاکستان کا شکار وہاں ہوا، وہ میں نے اکیلے نہیں بلکہ ہم سب نے دیکھا۔ وہاں بنگالی کی لاش کو کتے اور گدھ کھا رہے تھے، جو شتولاک دریا کے کنارے پڑی تھی۔ ہم نے فوجیوں سے پوچھا کہ یہ کس کی لاش ہے، تو جو جواب ملا، وہ بہت خطرناک تھا۔ انہوں نے کہا: ’’ہم نے اسے مارا۔ یہ بہت چالاک تھا۔ ایک گولی چلائی تو یہ دریا میں چلا گیا۔ چھ گولیاں چلائیں تو یہ بچ گیا۔ ساتویں گولی سے یہ مارا گیا۔‘‘ وہ بیچارہ کہیں سے مشکوک نہیں لگ رہا تھا۔ اپنی روزی روٹی کمانے نکلا ہوگا۔ انہوں نے عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر عورتوں کو مکتی باہنی کا حصہ قرار دے کر ان کے ساتھ زیادتیاں کیں۔ یہ آج خیبر پختونخوا میں بھی یہی کر رہے ہیں اور بلوچستان میں بھی یہی کر رہے ہیں۔ کشمیر اور پنجاب میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ یہ وہاں تحریک انصاف کے لوگوں کو غائب کر رہے ہیں۔ اختر مینگل کے بھائی کی لاش کو کتے کھا رہے تھے، لیکن وہ آج بھی پاکستان کے ساتھ ہیں۔ سردار عطاء اللہ مینگل وزیر اعلیٰ تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان ٹوٹا تو بلوچستان کا نام پاکستان ہوگا اور قومی زبان بھی اردو ہوگی۔ تم نے اسلام آباد کو کنٹینرستان بنا دیا ہے۔ تم نے ہر عہد میں پاکستان کو توڑا ہے۔ آج بھی توڑنے کی سازش کر رہے ہو۔ عاصم منیر! تم نے اپنا محاصرہ خود کر لیا ہے۔ عاصم منیر! تم پاکستان کا تو کبھی نہیں سوچو گے، تم خود کو تو بچا لو۔ مشرقی پاکستان میں جو دیکھا اسکو بارے میں 2011 میں گفتگو۔
یہ شحض پہلے بھی سچ بتاتا تھا مگر اسکی سمجھ بہت دیر سے آئی ہے
2026-09-29 16:05:22
193
ملک شعیب دانش 🌺 :
Allah apko salamat rakhy
2026-09-29 16:03:17
44
Fatima Niazi PTI :
I hate army
I hate army
2026-09-30 02:54:12
44
عاقب راجپوت🇧🇭 :
ہاشمی صاحب اپ کی جرات اور حوصلے کو سلام 🫡
2026-09-29 16:50:28
73
Manzoor ahmad durrani🇵🇰🇬🇧 :
The most principled politician in Pakistan history.. long live sir ..
2026-09-29 21:02:33
6
ARSHAD TANHA 804 :
اللہ تعالی اپ کو لمبی زندگی دے 🤲🤲
2026-09-29 16:05:43
57
ꌗ𝕙ά𝕙Ꭵ𝒹𐌑ₑ𝕙Ӎʘʘ𝒹 :
بہت دیر کے بعد آپکی سمجھ آنے لگی
2026-09-29 16:56:37
79
Dani :
ap NY humasha Sach bola waqai AP hashmi khandan k hain
2026-09-30 02:16:19
23
Warraich 🖤 :
Great sir 👍
2026-09-29 16:06:46
5
CH JunaiD :
Hashmi sab Ap ki azmat ko salam
2026-09-29 16:41:51
20
Moeen Khurram :
کیسا ظلم کیا ھے انہوں نے
2026-09-29 16:55:01
18
Muhammad Abbas :
i love you Imran khan
2026-09-30 15:41:46
4
irfan shah :
یا اللہ اِس عام عوام پر رحم کر ہماراِس فوج کے ظلم زیادتیوں سے کوئی لینا دینا نہیں اِس فوج کے ظلم و زیادتیوں کی سزا ہمیں مت دے ۔۔
2026-09-29 16:23:47
17
AMEER baz :
ہاشمی صاحب اپ کی جرات اور حوصلے کو سلام 🫡
2026-09-29 22:29:35
33
Pakhtoon Afridi :
Nothing to say
2026-09-29 16:01:29
6
Khan-Murshad :
سلام ہے آپکی بہادری کو 🤲🤲🤲
2026-09-30 06:50:25
9
Talha Zia Abbasi :
Hashmi Great Man
2026-09-29 16:07:35
9
عمران علی :
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
2026-09-30 08:58:05
5
🆂🅷🅰🅼🆁🅰🅸🆉 :
❤️
2026-09-29 17:06:18
13
ꌗ𝕙ά𝕙Ꭵ𝒹𐌑ₑ𝕙Ӎʘʘ𝒹 :
میں صدقے مرشد😭
2026-09-29 16:55:59
12
Ahmad 💲saab :
fakhar hai ap pakistan ka
2026-09-29 22:06:17
8
thrishomike :
تاریخ آپ کو یاد رکھے گا۔۔ہم پاکستانی جوان آپ کو سلوٹ کرتے ہیں۔۔میں خود فاٹا سے ہو اور یہ سب ظلم میں نے اپنے آنکھوں سے دیکھا ہے۔۔پاکستان کو آپ جیسے لوگوں کی بہت ضرورت ہے،اللہ آپ کو لمبی عمر دیں۔۔۔
2026-09-30 08:15:18
9
M Hamza :
عوامی مفاد اور جرنیلی مفاد دونوں ایک دوسرے سے متصادم ہیں ۔
2026-09-30 08:50:59
5
Khizar Mehmood :
Beshak ap such bol rahny hny😢
2026-09-29 17:54:58
10
To see more videos from user @javedhashmiofficial, please go to the Tikwm
homepage.