منزل نظر آئی دھندلی سی مگر،
باقی ہے سفر، راستہ دشوار مگر۔
تھک کر بھی قدموں نے رکنا نہیں سیکھا،
دل میں امید کا اک چراغ روشن ہے مگر۔
کبھی دھوپ نے روکا، کبھی سایہ نہ ملا،
ہم چلتے رہے، موسم بھی ناساز تھا مگر۔
کچھ خواب بکھرے، کچھ خواہشیں رہ گئیں ادھوری،
آنکھوں میں اب بھی خوابوں کا اثر باقی مگر۔
جو لوگ چھوڑ گئے، ان کا گلہ کیا کرنا،
تنہائی میں بھی دل کو تیرا انتظار ہے مگر
سحرؔ حوصلہ رکھ، یہ رات بھی گزر جائے گی،
سفر طویل سہی، صبح کا امکان ہے مگر۔
2026-09-29 17:41:13
0
To see more videos from user @non.of.ur.business11, please go to the Tikwm
homepage.