@immuhammadsohailafridi: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا وزیراعلیٰ ہاؤس میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب 4 اکتوبر کا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا اور پرامن ہوگا، عوام کی توجہ ہٹانے کی تمام کوششیں ناکام ہوں گی۔ وفاقی حکومت کی ناقص کارکردگی اور کرپشن سے توجہ ہٹانے کے لیے عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ عمران خان کے دور میں جی ڈی پی گروتھ 6.1 فیصد تھی، موجودہ حکومت میں یہ 2.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ عمران خان کے دور میں فی کس آمدنی 1700 ڈالر تھی، موجودہ حکومت آج بھی اس سطح تک نہیں پہنچ سکی۔ گزشتہ چار سالوں میں ملک کا قرضہ 43 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 99 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گیا۔ 44.5 فیصد آبادی یعنی تقریباً 12 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں، جبکہ دوسری جانب 11 ارب روپے کا جہاز خریدا گیا۔ ہماری برآمدات 30 ارب ڈالر جبکہ درآمدات 70 ارب ڈالر ہیں۔ نوجوان ملک چھوڑ رہے ہیں اور حکمران برین ڈرین کے مسئلے سے غافل ہیں۔ 4 اکتوبر کو عوام بڑی تعداد میں نکلیں گے، کسی ایڈونچر کی کوشش کی گئی تو عوام کا ردعمل آئے گا۔ 4 اکتوبر کو کارکنان نہتے اور پرامن طریقے سے احتجاج کریں۔ کسی کے ہاتھ میں نقصان پہنچانے والی چیز ہوئی تو اسے پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔ خیبرپختونخوا کی حکومت عوام کی طاقت سے آئی ہے، کسی کی بیساکھیوں پر نہیں۔ 4 اکتوبر کا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا اور پرامن ہوگا۔