@jasim_ik: چھ نقصان ایسے ہوتے ہیں جن کے بعد معافی تو مانگی جا سکتی ہے، مگر پہلے جیسا سب کچھ واپس نہیں لایا جا سکتا۔ جیسے ہوا اگر کسی درخت کی ٹہنی توڑ دے اور پھر اُس سے معذرت بھی کر لے، تو کیا وہ ٹہنی دوبارہ اُسی جگہ جڑ جائے گی؟ شاید نہیں۔ انسان کے دل بھی کچھ ایسے ہی ہوتے ہیں؛ ایک لفظ، ایک رویہ، ایک دھوکا یا ایک بے اعتنائی کبھی کبھی ایسا زخم دے جاتی ہے جس کا نشان بہت دیر تک باقی رہتا ہے۔ ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ غلطی کے بعد معذرت کر لینا کافی ہے، مگر ہر زخم صرف لفظوں سے نہیں بھرتا۔ کچھ لوگ معاف تو کر دیتے ہیں، مگر پہلے جیسا اعتماد نہیں کر پاتے، کچھ رشتے قائم تو رہتے ہیں مگر اُن میں وہ پہلے والی گرمی باقی نہیں رہتی، اور کچھ فاصلے ایسے پیدا ہو جاتے ہیں جنہیں چاہ کر بھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے کسی کے دل کو توڑنے سے پہلے سوچ لیا کرو، کیونکہ بعد کی معذرت شاید تمہارے دل کا بوجھ ہلکا کر دے، مگر ضروری نہیں کہ سامنے والے کے دل میں پیدا ہونے والی ٹوٹ پھوٹ بھی ختم ہو جائے۔ محبت صرف یہ نہیں کہ غلطی کے بعد معافی مانگ لی جائے، اصل محبت تو یہ ہے کہ انسان اپنی زبان، اپنے رویّے اور اپنے فیصلوں میں اتنی احتیاط کرے کہ کسی اپنے کو اُس مقام تک پہنچنے ہی نہ دے جہاں معافی بھی ٹوٹی ہوئی چیز کو پہلے جیسا نہ کر سکے۔ 🍂🤍 #foryoupage