@ubaid.typist70: خون خاندانی اور اوقات خود کی ہونی چاہئے، کیونکہ انسان کی اصل پہچان اس کے خاندان، دولت یا ظاہری شان سے نہیں بلکہ اس کے کردار سے ہوتی ہے۔ کسی دوسرے کا کردار خراب کر کے اپنے کردار کو بلند ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ دوسروں کی عزت اچھالنے سے اپنی عزت میں اضافہ نہیں ہوتا، بلکہ انسان کی اپنی تربیت اور سوچ سامنے آتی ہے۔ زندگی میں ہر انسان کو اپنی جگہ مشکلات، کمزوریاں اور غلطیاں ہوتی ہیں۔ سمجھدار انسان دوسروں کی کمزوریوں کو اچھالنے کے بجائے اپنے کردار کو بہتر بنانے پر توجہ دیتا ہے۔ اگر کسی کے بارے میں کچھ کہنا بھی ہو تو سچ، انصاف اور عزت کے دائرے میں رہ کر بات کرنی چاہیے۔ یاد رکھیں، وقت بہت بڑا منصف ہے۔ آج جو شخص دوسروں کے بارے میں غلط باتیں کر کے خود کو بہتر ثابت کر رہا ہے، کل وقت اس کے اپنے کردار کی حقیقت بھی لوگوں کے سامنے لے آ سکتا ہے۔ اس لیے اپنی زبان پر قابو رکھیں، اپنی نیت صاف رکھیں اور اپنے عمل کو بہتر بنائیں۔ اصل بڑائی یہ نہیں کہ آپ کسی کو نیچا دکھا دیں، بلکہ اصل بڑائی یہ ہے کہ آپ کسی کو نیچا دکھائے بغیر بھی اپنی جگہ بلند رہیں۔ عزت مانگنے سے نہیں، کردار سے حاصل ہوتی ہے۔ اپنی اوقات ثابت کرنے کے لیے کسی دوسرے کو بدنام کرنے کی ضرورت نہیں۔ خاموشی، صبر، اچھا اخلاق اور صاف کردار خود بولتے ہیں۔ کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ الفاظ بھلا دیے جاتے ہیں، مگر انسان کا کردار ہمیشہ یاد رہتا ہے۔ #ubaidtypist70 #foryoupage