@m4441625: آپ نے دیکھا ہے کبھی چاند سے گرتا ہوا پانی ؟ میں نے دیکھا ہے یہ منظر محترم کو منہ دھوتے ہوئے آپ نے دیکھا ہے کبھی صبح کی پہلی کرن کو شب کی زلفوں سے نکلتے ہوئے آہستہ آہستہ ؟ میں نے دیکھا ہے وہ منظر بھی بڑی حیرت سے جب وہ آئینے کے سامنے ٹھہرے تھے مسکراتے ہوئے۔ آپ نے سنا ہے کبھی پھولوں کی خاموش زبان؟ ، جو ہوا کے لبوں پر اپنا پیام رکھتی ہے میں نے وہ راز بھی جانا ہے کسی خوشبو سے جو بکھر جاتی تھی ان کے قریب آتے ہوئے۔ آپ نے دیکھا ہے کبھی چاند کو دریا میں اترتے ؟ یا ستاروں کو کسی جھیل میں لرزتے ہوئے ؟ میں نے دیکھا ہے یہ سب ایک ہی لمحے میں مگر محترم کو سر صبح منہ دھوتے ہوئے۔ پانی کی بوندیں تھیں یا موتی کسی خزانے کے داڑھی پہ ٹھہری تھیں چمکتی ہوئی دعاؤں کی طرحاور جب ہاتھ کی جنبش سے وہ بہنے لگیں یوں لگا وقت بھی رکتا ہے گزر جاتے ہوئے۔ ان کی پیشانی پہ بکھرے ہوئے چند نرم سے بال بادلوں جیسے کسی کوہ پہ اتر آئے ہوں اور وہ سادگی کہ جس کا کوئی ثانی ہی نہیں دل کو مجبور کرے خود سے گزر جاتے ہوئے۔ میں نے سوچا کہ یہ حسن نظر کا دھوکا ہے یا کوئی خواب ہے جو آنکھ میں زندہ ہے ابھی پھر وہ اک بار ہنسے، اور یقیں آ ہی گیا چاند بھی شرم سے چھپ جاتا ہے یہ منظر دیکھتے ہوئے۔ کون کہتا ہے کہ معجزے فقط قصوں میں ہیں؟ کون کہتا ہے کہ جنت کی جھلک ممکن نہیں؟ میں نے ہر بار حقیقت کو بدلتے دیکھا ان کی ادا پر نظر ٹھہرتے ہوئے۔ آپ نے دیکھا ہے کبھی چاند سے گرتا ہوا پانی ؟