@vnn.ng46:

Quốc nguyên
Quốc nguyên
Open In TikTok:
Region: VN
Wednesday 30 September 2026 06:23:49 GMT
318
12
0
1

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @vnn.ng46, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

یا اللہ! تیری بارگاہ میں کھڑا ہوں، ٹوٹا ہوا، تھکا ہوا، مگر پھر بھی کھڑا ہوں، کیونکہ جانتا ہوں کہ گرنے کے بعد اٹھنے کی جگہ بھی تُو ہی ہے۔ میں کیا منہ لے کر آیا ہوں؟ وہی وعدے جو باندھے اور توڑ دیے۔ وہی نمازیں جو قضا کر دیں۔ وہی راتیں جو گناہ میں گزار دیں اور پھر صبح تیرے سامنے کھڑا ہو کر رو دیا۔ ایک وہی بندہ ہوں جو رات کو بھٹکتا ہے اور فجر کو لوٹ آتا ہے، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ حیرت اسی بات پر ہے: تُو نے کبھی دروازہ بند نہیں کیا۔ اے وہ ذات جس نے آگ کو ابراہیمؑ پر گلزار بنا دیا، جس شعلے نے جلانا تھا، اُسے تُو نے ٹھنڈک کا لباس پہنا دیا۔ میرے اندر بھی ایک آگ ہے، جو میرے گناہوں نے سلگائی ہے۔ وہی آگ جو رات کو سونے نہیں دیتی، جو اندر ہی اندر جلاتی رہتی ہے۔ یا رب، وہی کر جو تُو نے نمرود کی آگ کے ساتھ کیا تھا۔ جلا نہیں، بجھا دے۔ راکھ نہیں، سلامتی بنا دے۔ اے وہ رب جس نے یوسفؑ کو کنویں کی تنہائی میں تنہا نہیں چھوڑا، سن، میں بھی کبھی اپنے ہی اندر ایک کنویں میں گرا ہوں۔ چاروں طرف اندھیرا، اوپر سے دنیا کی آوازیں، اور نیچے صرف میں اور میری بےبسی۔ کسی نے دھکا نہیں دیا، میں خود اپنے نفس کے ہاتھوں دھکیلا گیا۔ مگر تُو نے یوسفؑ کو دیکھا تھا اُس اندھیرے میں بھی۔ مجھے بھی دیکھ، یا رب، اُس کنویں کی تہہ میں جہاں میں خود کو کھو چکا ہوں۔ اے وہ ذات جس نے نوحؑ کی کشتی کو طوفان میں بھی ڈوبنے نہ دیا، جب چاروں طرف پانی تھا اور کنارہ کہیں نظر نہیں آتا تھا، میری کشتی بھی اسی حال میں ہے۔ اندر سے پانی آ رہا ہے، اور میں خود ہی اپنے سوراخ بھرنے کی کوشش میں تھکا جا رہا ہوں۔ تُو نے وہ کشتی ڈبویا نہیں جس میں امید بھی سوار تھی۔ میری امید بھی ابھی سوار ہے، یا رب، اسے بھی ڈبو مت۔ میں جانتا ہوں میں نیک بندہ نہیں۔ نہ میری عبادت مکمل، نہ میرا سجدہ خالص، نہ میری زبان ہر وقت تیرے ذکر میں۔ مگر ایک بات مکمل ہے: میرا لوٹنا۔ جتنی بار بھٹکا، اتنی بار لوٹا۔ اور شاید یہی وہ دھاگا ہے جو مجھے تجھ سے جوڑے رکھتا ہے، ٹوٹا ہوا، کمزور، مگر جڑا ہوا۔ یا اللہ، تُو نے کہا پکارو مجھے، میں سنوں گا۔ میں پکارتا ہوں، لرزتی آواز کے ساتھ، بھرائی ہوئی آنکھوں کے ساتھ، جھکے ہوئے سر کے ساتھ۔ میری زبان قاصر ہے، میرے الفاظ ٹوٹے ہوئے ہیں، مگر میرا دل جانتا ہے کہ تُو ٹوٹے ہوئے الفاظ بھی سنتا ہے، شاید انہیں زیادہ غور سے سنتا ہے۔ اے رگِ جان سے زیادہ قریب رہنے والے، میں دور بھاگا، تُو دور نہیں ہوا۔ میں نے بھلایا، تُو نے یاد رکھا۔ میں نے چھوڑا، تُو نے تھاما۔ یہی وہ بات ہے جس پر میری آنکھ بھر آتی ہے، اور میرا سر جھک جاتا ہے، اور میری زبان صرف اتنا کہہ پاتی ہے: معاف کر دے۔ میں تجھ سے یہ نہیں مانگتا کہ آزمائش اٹھا لے۔ میں یہ مانگتا ہوں کہ جب آزمائش دے تو صبر بھی ہاتھ میں دے۔ جب نفس کھینچے گناہ کی طرف، تو تُو ہی کھینچ لے اپنی طرف۔ جب دل بھٹکنے لگے، تو تُو ہی اُسے موڑ دے سیدھی راہ پر۔ قبول کر لے، یا رب، ایک ادھورے، ٹوٹے، بار بار گرنے والے بندے کی پوری امید کو۔ مجھے اُس سے پہلے سنبھال لے جس سے پہلے میں خود کو مکمل گم پاؤں۔ میں گناہ گار ہوں، مگر تیرا گناہ گار ہوں، اور یہی سب سے بڑا سہارا ہے۔
یا اللہ! تیری بارگاہ میں کھڑا ہوں، ٹوٹا ہوا، تھکا ہوا، مگر پھر بھی کھڑا ہوں، کیونکہ جانتا ہوں کہ گرنے کے بعد اٹھنے کی جگہ بھی تُو ہی ہے۔ میں کیا منہ لے کر آیا ہوں؟ وہی وعدے جو باندھے اور توڑ دیے۔ وہی نمازیں جو قضا کر دیں۔ وہی راتیں جو گناہ میں گزار دیں اور پھر صبح تیرے سامنے کھڑا ہو کر رو دیا۔ ایک وہی بندہ ہوں جو رات کو بھٹکتا ہے اور فجر کو لوٹ آتا ہے، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ حیرت اسی بات پر ہے: تُو نے کبھی دروازہ بند نہیں کیا۔ اے وہ ذات جس نے آگ کو ابراہیمؑ پر گلزار بنا دیا، جس شعلے نے جلانا تھا، اُسے تُو نے ٹھنڈک کا لباس پہنا دیا۔ میرے اندر بھی ایک آگ ہے، جو میرے گناہوں نے سلگائی ہے۔ وہی آگ جو رات کو سونے نہیں دیتی، جو اندر ہی اندر جلاتی رہتی ہے۔ یا رب، وہی کر جو تُو نے نمرود کی آگ کے ساتھ کیا تھا۔ جلا نہیں، بجھا دے۔ راکھ نہیں، سلامتی بنا دے۔ اے وہ رب جس نے یوسفؑ کو کنویں کی تنہائی میں تنہا نہیں چھوڑا، سن، میں بھی کبھی اپنے ہی اندر ایک کنویں میں گرا ہوں۔ چاروں طرف اندھیرا، اوپر سے دنیا کی آوازیں، اور نیچے صرف میں اور میری بےبسی۔ کسی نے دھکا نہیں دیا، میں خود اپنے نفس کے ہاتھوں دھکیلا گیا۔ مگر تُو نے یوسفؑ کو دیکھا تھا اُس اندھیرے میں بھی۔ مجھے بھی دیکھ، یا رب، اُس کنویں کی تہہ میں جہاں میں خود کو کھو چکا ہوں۔ اے وہ ذات جس نے نوحؑ کی کشتی کو طوفان میں بھی ڈوبنے نہ دیا، جب چاروں طرف پانی تھا اور کنارہ کہیں نظر نہیں آتا تھا، میری کشتی بھی اسی حال میں ہے۔ اندر سے پانی آ رہا ہے، اور میں خود ہی اپنے سوراخ بھرنے کی کوشش میں تھکا جا رہا ہوں۔ تُو نے وہ کشتی ڈبویا نہیں جس میں امید بھی سوار تھی۔ میری امید بھی ابھی سوار ہے، یا رب، اسے بھی ڈبو مت۔ میں جانتا ہوں میں نیک بندہ نہیں۔ نہ میری عبادت مکمل، نہ میرا سجدہ خالص، نہ میری زبان ہر وقت تیرے ذکر میں۔ مگر ایک بات مکمل ہے: میرا لوٹنا۔ جتنی بار بھٹکا، اتنی بار لوٹا۔ اور شاید یہی وہ دھاگا ہے جو مجھے تجھ سے جوڑے رکھتا ہے، ٹوٹا ہوا، کمزور، مگر جڑا ہوا۔ یا اللہ، تُو نے کہا پکارو مجھے، میں سنوں گا۔ میں پکارتا ہوں، لرزتی آواز کے ساتھ، بھرائی ہوئی آنکھوں کے ساتھ، جھکے ہوئے سر کے ساتھ۔ میری زبان قاصر ہے، میرے الفاظ ٹوٹے ہوئے ہیں، مگر میرا دل جانتا ہے کہ تُو ٹوٹے ہوئے الفاظ بھی سنتا ہے، شاید انہیں زیادہ غور سے سنتا ہے۔ اے رگِ جان سے زیادہ قریب رہنے والے، میں دور بھاگا، تُو دور نہیں ہوا۔ میں نے بھلایا، تُو نے یاد رکھا۔ میں نے چھوڑا، تُو نے تھاما۔ یہی وہ بات ہے جس پر میری آنکھ بھر آتی ہے، اور میرا سر جھک جاتا ہے، اور میری زبان صرف اتنا کہہ پاتی ہے: معاف کر دے۔ میں تجھ سے یہ نہیں مانگتا کہ آزمائش اٹھا لے۔ میں یہ مانگتا ہوں کہ جب آزمائش دے تو صبر بھی ہاتھ میں دے۔ جب نفس کھینچے گناہ کی طرف، تو تُو ہی کھینچ لے اپنی طرف۔ جب دل بھٹکنے لگے، تو تُو ہی اُسے موڑ دے سیدھی راہ پر۔ قبول کر لے، یا رب، ایک ادھورے، ٹوٹے، بار بار گرنے والے بندے کی پوری امید کو۔ مجھے اُس سے پہلے سنبھال لے جس سے پہلے میں خود کو مکمل گم پاؤں۔ میں گناہ گار ہوں، مگر تیرا گناہ گار ہوں، اور یہی سب سے بڑا سہارا ہے۔

About