@permenkaretzx: cuss bestie🤩🏁#wardahcolourcircuit #wardahbeauty #wardah

hr
hr
Open In TikTok:
Region: ID
Wednesday 30 September 2026 09:32:36 GMT
224
8
0
1

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @permenkaretzx, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

حضرت شاہ حبیب رح  نے اولاد  ہونے کی خاطر تین شادیاں کیں مگر پھر بھی اولاد نہ ہوئی تو وہ ایک کامل بزرگ کے پاس حاضر ہوئے اور اپنا مُدعا بیان کیا۔ اُنہوں نے  فرمایا کہ آپ کو اولاد ہوگی مگر اُس کا نام میرے نام پہ رکھنا ، وہ اپنے زمانے کا بزرگ اور عالم ہو گا۔لہذا جب اُن کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو “ عبداللطیف “ نام رکھا گیا۔ سیر نگار لکھتے ہیں کہ یہ بچہ شاہ حبیب رح کی پہلی بیوی سے ہوا جب کہ بچے کے نہ ہونے پر وہ دو اور شادیاں کر چکے تھے۔ مگر قدرت خدا کی کہ یہ بچہ فوت ہو گیا۔ مگر کچھ عرصہ بعد ایک اور بچہ پیدا ہوا جس کا نام بھی “ عبداللطیف” رکھا گیا۔ اور یہ تھے سندھ  کے عارفِ باللّٰہ بالحق حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی رح جن کا عُرس مبارک ماہ صفر کے پہلے ہفتے میں بِھٹ شاہ میں منایا جاتا ہے۔ جب آپ کچھ بڑے ہوئے تو آپ کے والدِ محترم آپ کو ایک مدرسہ میں لے گئے۔ اُستاد صاحب نے کہا کہ کہو “ الِف “۔ آپ نے دُہرا دیا کہ الِف۔ اب اُستاد صاحب آگے بڑھے اور کہا کہ کہو “ب “۔بس یہاں وہ واقعہ پیش آیا جس نے مستقبل کے ایک بہت بڑے صوفی ، روحانیت و وحدانیت کے عَلم بردار اور سندھی زبان کے فقیدالمثال شاعر کی آمد کی پیش بندی کا  مُژدہ  سُنا دیا۔جب اُستاد صاحب نے “ب” کا کہا تو أپ نے جواب نہیں دیا بلکہ “ الف” پر مُصر رہے۔ حضرت شاہ حبیب رح اِن اسرار و رموز سے أشنا تھے اور آپ کے اس مقام کی قبل از  پیدائش خبر بھی پا چکے تھے۔ لہذا وہ آپ کو اُس وقت گھر لے آئے۔ یوں پھر زمانے نے آنے والے سالوں میں ان کے علم، شانِ ولایت اور اشاعتِ کلمہِ توحید کے جلوے دیکھے ۔ اُن کے  فرامین کا فیض اورفضل اب  دُنیا میں پھیلتا ہی جا رہا ہے۔ اللّٰہ کے “الف” کی یہ داستان ہر  دور کے لیے قلوب اور اذہان کو نُور دینے کے لیے موجود بھی ہے اور کافی بھی۔  ہمارے صوفیائے کرام  کی Terminology میں “ ب “ سب غیر اللّٰہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ حضرت بابا بلّھے شاہ کا اس “ الف “ کے بارے میں یہ شعر اس حقیقت کو نہایت خوبصورت انداز میں واضح کرتا ہے عِلموں بس کریں او یار! اِکّو الف ترے درکار —————————————— ( مخدوم محمد حسین ) 🌸#عشق_حقیقی #تصوف_شریعت_طریقت_حقیقت #foryouofficialpage #foryoupage #fyp
حضرت شاہ حبیب رح نے اولاد ہونے کی خاطر تین شادیاں کیں مگر پھر بھی اولاد نہ ہوئی تو وہ ایک کامل بزرگ کے پاس حاضر ہوئے اور اپنا مُدعا بیان کیا۔ اُنہوں نے فرمایا کہ آپ کو اولاد ہوگی مگر اُس کا نام میرے نام پہ رکھنا ، وہ اپنے زمانے کا بزرگ اور عالم ہو گا۔لہذا جب اُن کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو “ عبداللطیف “ نام رکھا گیا۔ سیر نگار لکھتے ہیں کہ یہ بچہ شاہ حبیب رح کی پہلی بیوی سے ہوا جب کہ بچے کے نہ ہونے پر وہ دو اور شادیاں کر چکے تھے۔ مگر قدرت خدا کی کہ یہ بچہ فوت ہو گیا۔ مگر کچھ عرصہ بعد ایک اور بچہ پیدا ہوا جس کا نام بھی “ عبداللطیف” رکھا گیا۔ اور یہ تھے سندھ کے عارفِ باللّٰہ بالحق حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی رح جن کا عُرس مبارک ماہ صفر کے پہلے ہفتے میں بِھٹ شاہ میں منایا جاتا ہے۔ جب آپ کچھ بڑے ہوئے تو آپ کے والدِ محترم آپ کو ایک مدرسہ میں لے گئے۔ اُستاد صاحب نے کہا کہ کہو “ الِف “۔ آپ نے دُہرا دیا کہ الِف۔ اب اُستاد صاحب آگے بڑھے اور کہا کہ کہو “ب “۔بس یہاں وہ واقعہ پیش آیا جس نے مستقبل کے ایک بہت بڑے صوفی ، روحانیت و وحدانیت کے عَلم بردار اور سندھی زبان کے فقیدالمثال شاعر کی آمد کی پیش بندی کا مُژدہ سُنا دیا۔جب اُستاد صاحب نے “ب” کا کہا تو أپ نے جواب نہیں دیا بلکہ “ الف” پر مُصر رہے۔ حضرت شاہ حبیب رح اِن اسرار و رموز سے أشنا تھے اور آپ کے اس مقام کی قبل از پیدائش خبر بھی پا چکے تھے۔ لہذا وہ آپ کو اُس وقت گھر لے آئے۔ یوں پھر زمانے نے آنے والے سالوں میں ان کے علم، شانِ ولایت اور اشاعتِ کلمہِ توحید کے جلوے دیکھے ۔ اُن کے فرامین کا فیض اورفضل اب دُنیا میں پھیلتا ہی جا رہا ہے۔ اللّٰہ کے “الف” کی یہ داستان ہر دور کے لیے قلوب اور اذہان کو نُور دینے کے لیے موجود بھی ہے اور کافی بھی۔ ہمارے صوفیائے کرام کی Terminology میں “ ب “ سب غیر اللّٰہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ حضرت بابا بلّھے شاہ کا اس “ الف “ کے بارے میں یہ شعر اس حقیقت کو نہایت خوبصورت انداز میں واضح کرتا ہے عِلموں بس کریں او یار! اِکّو الف ترے درکار —————————————— ( مخدوم محمد حسین ) 🌸#عشق_حقیقی #تصوف_شریعت_طریقت_حقیقت #foryouofficialpage #foryoupage #fyp

About