@dw_urdu: مکہ دفاعی اتحاد کے قیام کے بعد حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر حملوں کی وجہ سے اس اتحاد میں شامل ترکی اور پاکستان کے کردار پر بحث جاری ہے۔ اسی دوران مکہ پر حوثیوں کے مبینہ حملے کو خاص طور پر سعودی عرب کے دفاع سے متعلق پاکستان کے عزم کے ایک امتحان کے طور پر دیکھا گیا۔ Following the establishment of the Mecca Defense Alliance, debate has intensified over the role of Turkey and Pakistan, both members of the alliance, after Houthi rebel attacks on Saudi Arabia. Against this backdrop, the Houthis' alleged attack on Mecca was widely viewed as a test of Pakistan's commitment to Saudi Arabia's defense, particularly in light of its obligations under the alliance. #dwurdu #fyp #geoboard #dwgeopolitics #Houthiattack
پاکستان اپنے محسن برادر مملکت سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور کھڑا ہونا چاہیے بھی سعودی عرب ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا
ایران نے تو ہمیشہ پاکستان کو دھوکہ دھشت گردی فرقہ واریت کی بدامنی جیسے مسائل سے دوچار کیا ہے
کبھی پاکستان کی مدد نہیں کی
کشمیر کے معاملے میں بھارت کے ساتھ دیتا ہے
گوادر پورٹ کے مقابل چابہار بندر گاہ بھارت کے حوالے کیا تاکہ گوادر کامیاب نہ ہو سکے
2026-09-30 15:18:03
0
Younis :
بطور صحافی اس پر میرا تجزیہ یہ ہے کہ مکہ معاہدے کی بنیاد اور اس کی تزویراتی ساخت کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس دفاعی و سیاسی تعاون کا بنیادی محور مشترکہ دشمن اسرائیل کے خلاف ایک دفاعی حصار قائم کرنا ہے۔ معاہدے کے نکات کے مطابق، اگر اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت یا پیش قدمی ہوتی ہے، تو یہ معاہدہ سکیورٹی گارنٹی کے طور پر فوری فعال ہو جائے گا۔ تاہم، جہاں تک بات مسلم دنیا کے اندرونی تنازعات یا یمنی حوثیوں جیسے غیر ریاستی و مسلح عناصر کے خلاف کارروائی کی ہے، تو یہاں پاکستان اور ترکیہ کی پالیسی انتہائی محتاط اور متوازن نظر آتی ہے۔پاکستان اور ترکیہ فی الوقت فوجی تصادم کے بجائے سفارتی ذرائع اور مذاکرات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ دونوں ممالک کی خواہش ہے کہ مسلم دنیا کے اندرونی بگاڑ کو ڈائیلاگ کے ذریعے حل کیا جائے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور بڑا محاذ نہ کھلے۔حوثیوں کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی مہم میں پاکستان اور ترکیہ کی جانب سے اپنی زمینی افواج بھیجنے کا امکان نا ہونے کے برابر ہے۔ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے، دونوں ممالک عرب دنیا میں براہِ راست زمینی جنگ کا حصہ بننے سے پرہیز کریں گے۔ اگر حالات نے مجبور کیا اور دفاعی معاہدے کے تحت کارروائی لازم ٹھہری، تو دونوں ممالک کا کردار زمینی جنگ کے بجائے پردے کے پیچھے ہوگا۔ جیسے فضائی اور زمینی نگرانی کے لیے سیٹلائٹ و فضائی ڈیٹا فراہم کرنا۔ حوثیوں کی تحرکات اور خطرات سے متعلق فوری انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ۔ دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے تیکنیکی رہنمائی، ڈرون و سائبر صلاحیتوں کا تبادلہ اور مشاورت شامل ہو سکتا ہے۔
2026-09-30 16:41:48
0
SHAFIQ_Khan :
2026-09-30 14:10:03
0
M Umarashraf :
pakistan 🤣🤣🤣
2026-09-30 11:59:02
0
shah :
Pakistan apny provinces ki fikar karey pehly es NY ussr ka war laya ta per USA ka aur ab middle east ka war la taj hy
2026-09-30 13:44:09
0
👉💚Soft heart 💚👈 :
hahaha
2026-09-30 12:05:10
1
azharrizwan :
tel becha Saudi Arab Hi fayda tha Ham Karen hamen kya fayda
2026-09-30 16:55:11
0
سرکار ✌️ :
first
2026-09-30 11:44:38
0
user4227163610793 :
🥰🥰🥰
2026-09-30 13:42:13
0
Nazar Hussain :
🇹🇷❤️🇵🇰❤️🇸🇦
2026-09-30 15:30:21
0
Asfand Yar :
😭😭😭
2026-09-30 12:13:59
0
محمدشریف۔میو :
[Rose][Rose][Rose]
2026-09-30 11:47:21
0
Muhammad Tanveer ✅ :
🥰🥰🥰
2026-09-30 12:10:08
0
N🌹 O ❤️🔥V 💫a❤️🔥 ziad :
🌹🌹🌹
2026-09-30 17:51:24
0
🐅LEO🐅 :
chorrrrr commender
American dog
Asim MUNIR
🐕🦺
2026-09-30 11:46:12
1
To see more videos from user @dw_urdu, please go to the Tikwm
homepage.