@h.tothe.a: #CapCut có thể đi bao nhiêu lần Hà Giang vẫn cứ mê ý

hay dỗiiii 🌻🌊
hay dỗiiii 🌻🌊
Open In TikTok:
Region: VN
Wednesday 30 September 2026 14:13:49 GMT
421
13
0
3

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @h.tothe.a, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

یہ ہیں انگلینڈ کے 80 سالہ جیسن، جو خصوصی طور پر کرکٹ میچز دیکھنے انگلینڈ سے پاکستان آئے ہیں۔ انہوں نے اپنے لیے ایک منفرد جرسی تیار کی ہے، جو 1992 کے ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والی پاکستان اور انگلینڈ کی جرسیوں کو ملا کر بنائی گئی ہے۔ اسکائی سپورٹس کو انٹرویو دیتے ہوئے جیسن کا کہنا تھا: 'میں نے 1992 کا ورلڈ کپ فائنل اسٹیڈیم میں دیکھا تھا، اور اب جب انگلش ٹیم پاکستان آ رہی تھی تو میں بھی یہاں چلا آیا۔ لیکن یہاں آ کر مجھے حقیقت معلوم ہوئی کہ پاکستان کو دنیا بھر میں مہمان نوازی کا گھر کیوں کہا جاتا ہے! میچ کے دوران پاکستانی شائقین نے مجھے جو پیار دیا، اسے بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ مجھے پاکستان آئے چار دن ہو چکے ہیں اور آج تک میں نے ایک بھی پاکستانی روپیہ خرچ نہیں کیا، کیونکہ ہوٹل میں کوئی نہ کوئی پاکستانی آ کر مجھے اپنی طرف سے لنچ یا ڈنر کرا دیتا ہے۔ میں اس سے پہلے اپنی ٹیم کے ساتھ بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ بھی میچ دیکھنے جا چکا ہوں، لیکن جو عزت اور محبت مجھے پاکستان میں ملی، وہ دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں ملی۔ یہ میری زندگی کا سب سے یادگار لمحہ ہے اور میں اسے کبھی نہیں بھولوں گا
یہ ہیں انگلینڈ کے 80 سالہ جیسن، جو خصوصی طور پر کرکٹ میچز دیکھنے انگلینڈ سے پاکستان آئے ہیں۔ انہوں نے اپنے لیے ایک منفرد جرسی تیار کی ہے، جو 1992 کے ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والی پاکستان اور انگلینڈ کی جرسیوں کو ملا کر بنائی گئی ہے۔ اسکائی سپورٹس کو انٹرویو دیتے ہوئے جیسن کا کہنا تھا: 'میں نے 1992 کا ورلڈ کپ فائنل اسٹیڈیم میں دیکھا تھا، اور اب جب انگلش ٹیم پاکستان آ رہی تھی تو میں بھی یہاں چلا آیا۔ لیکن یہاں آ کر مجھے حقیقت معلوم ہوئی کہ پاکستان کو دنیا بھر میں مہمان نوازی کا گھر کیوں کہا جاتا ہے! میچ کے دوران پاکستانی شائقین نے مجھے جو پیار دیا، اسے بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ مجھے پاکستان آئے چار دن ہو چکے ہیں اور آج تک میں نے ایک بھی پاکستانی روپیہ خرچ نہیں کیا، کیونکہ ہوٹل میں کوئی نہ کوئی پاکستانی آ کر مجھے اپنی طرف سے لنچ یا ڈنر کرا دیتا ہے۔ میں اس سے پہلے اپنی ٹیم کے ساتھ بھارت، سری لنکا، بنگلہ دیش، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ بھی میچ دیکھنے جا چکا ہوں، لیکن جو عزت اور محبت مجھے پاکستان میں ملی، وہ دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں ملی۔ یہ میری زندگی کا سب سے یادگار لمحہ ہے اور میں اسے کبھی نہیں بھولوں گا

About