@arbad17: مولانا رومی علیہ رحمہ لکھتے ہیں کہ ایک بادشاہ اپنے درباریوں کے ساتھ شکار کرنے کی غرض سے نکلا ۔ دن بھر جنگل میں شکار ڈھونڈنے میں مصروف رہے اور جب شام کو واپسی کا ارادہ کیا تو رستے میں ایک قافلہ نظر آیا جس میں ایک بے حد حسین لونڈی موجود تھی ۔ گزرتے وقت بادشاہ کی نظر لونڈی پر پڑی تو دل دے بیٹھا اور عاشق ہو گیا ۔ رک کر قافلے کے سربراہ سے لونڈی کی قیمت پوچھی تو سردار نے بیچنے سے انکار کر دیا جس پر بادشاہ نے پانچ گنا زیادہ رقم دینے کی پیش کش کی ۔ اب کی بار سردار راضی ہو گیا اور لونڈی کو بادشاہ کے سپرد کر دیا ۔ بادشاہ بے حد خوش ہوا اور لونڈی کو ساتھ لے کر محل کی طرف چل پڑا ۔ اللہ کی کرنی ایسی ہوئی کہ محل پہنچنے سے پہلے ہی لونڈی بیمار ہو گئی ۔ بادشاہ اس قدر عاشق ہو گیا کہ اس کی جان اُس لو لونڈی میں اٹک گئی اور ریاست کے سب سے اعلیٰ طبیب بلوائے اور کہا اس میں میری جان بسی ہے میں تم سب کو سونے چاندی میں تول دوں گا بس کچھ بھی کر کے اسے بچا لو ۔ طبیبوں نے کہا ہم ضرور اسے بچا لے گے آپ پریشان نہ ہوں ۔ لیکن اللہ نہ چاہے تو کوئی کیا کر سکتا ہے طبیبوں کے علاج کی وجہ سے لونڈی کی طبیعت اور زیادہ بگڑ گئی ۔ اب بادشاہ کی جان حلق میں آ گئی اور وہ مسجد کی طرف دوڑا اور سر سجدے میں رکھ دیا ۔ آنکھوں سے آنسوں جاری تھے اور حالت یہ ہو گئی کہ سجدے کی ساری جگہ بھیگ گئی اور رب سے فریاد کرنے لگا میں تیرے آگے جھک گیا ہوں بے شک تیرے سوا کوئی نہیں جو میری جھولی بھر دے ۔ میں نے سب کچھ کر لیا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا اب تو میرا رب ہے میرے محبوب کو مجھ سے جدا نہ کر ۔ مولانا رومی علیہ رحمہ فرماتے ہیں کہ اُس کی تڑپ اور محبت دیکھ کر رب کی رحمت جوش میں آ گئی اور بادشاہ کو وہی نیند آ گئی ۔ خواب میں دیکھتا ہے کہ کوئی بزرگ بادشاہ سے کہتا ہے کہ تیری فریاد سن لی گئی ہے کل تیرے دربار میں ایک اللہ کا مقبول بندہ حاضر ہو گا اور تیری پریشانی کا حل اُس کے پاس موجود ہو گا ۔ بادشاہ کی آنکھ کھلی تو محل کی طرف چل دیا رات مشکل سے کاٹی اگلی صبح بے تابی کی حالت میں چکر لگا رہا ہوتا ہے کہ ایک نورانی چہرے والا بزرگ حاضر ہوتا ہے جب بادشاہ دیکھتا ہے تو دل سے صدا آتی ہے ہو نہ ہو یہ وہی بزرگ ہیں ۔ بادشاہ دوڑ کر استقبال کرتا ہے اور سارہ ماجرہ کہہ سناتا ہے ۔ پھر وہ بزرگ اُس لونڈی کا علاج تجویز کرتے ہیں اور لونڈی بچ جاتی ہے جس کے ساتھ ہی بادشاہ سکھ کا سانس لیتا ہے ۔ مولانا رومی علیہ رحمہ فرماتے ہیں ہمارا حال بھی اُسی بادشاہ کی طرح ہے اول تو ہمیں رب یاد نہیں آتا اور اگر آتا بھی ہے تو صرف اپنے مطلب تک ۔ اور وہ رب العالمین اس قدر کریم ہے کہ جانتا بھی ہے کہ ہم اپنے مطلب کے لیے اس کے آگے جھکے ہیں پھر بھی وہ رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے ۔ آخر وہ رب العزت ہے ۔ رب کو اُس کی شان کے مطابق یاد کرنا اپنے مطلب میں یاد کرنے سے کہیں زیادہ معتبر عمل ہے ۔ #foryoupage #islam #صلي_علي_النبي #duet #for