@semutjingkrak: Viral, curhatan suami yang ngerasa udah ngasih istri uang bulanan besar, namun nyatanya tak sebanding.. - SpeedCash #berita #info #fyp #videoviral #speedcash

semutjingkrak
semutjingkrak
Open In TikTok:
Region: ID
Thursday 01 October 2026 06:00:00 GMT
379
6
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @semutjingkrak, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کہروڑ پکا: ڈاکٹر نورین مقبول سرجیکل ہسپتال میں مبینہ غفلت کا الزام، غریب مکینک کی داستان نے کئی سوالات کھڑے کر دیے کہروڑ پکا کے ایک موٹر سائیکل مکینک نے اپنی اہلیہ کے علاج کے حوالے سے مقامی سرجیکل ہسپتال کے بارے میں سنگین شکایات سامنے لاتے ہوئے کہا ہے کہ علاج کے دوران اسے نہ صرف خون کے انتظام کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ اضافی علاج اور دیگر اخراجات نے بھی اس کی مالی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔ متاثرہ شخص کے مطابق وہ مسلسل اسی ہسپتال سے اپنی اہلیہ کا چیک اپ کروا رہا تھا اور جب حمل آٹھویں ماہ میں پہنچا تو ڈاکٹرز کی جانب سے اسے خون کا انتظام کرنے کے لیے کہا گیا۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے تین بوتلیں خون کا بندوبست کرنے کا کہا گیا،کہ آج آپریشن کرنا ہو گا بچہ ٹھیک نہیں  جس کے بعد اس نے کئی لوگوں سے منت سماجت کرکے خون جمع کیا۔ متاثرہ شخص کا دعویٰ ہے کہ خون کا انتظام کرنے کے بعد اسے بتایا گیا کہ اس کی اہلیہ کا آپریشن مذکورہ ہسپتال میں نہیں ہو سکتا کیونکہ وہاں اس نوعیت کی مطلوبہ سہولت موجود نہیں، لہٰذا اسے بہاولپور لے جانے کا کہا گیا۔ مریضہ کا شوہر مزید بتاتا ہے کہ وہ خون لے کر بہاولپور پہنچا، جہاں مبینہ طور پر اسے خون ہسپتال سے باہر رکھنے/واپس کرنے کا کہا گیا۔ چیک اپ کے بعد اسے بتایا گیا کہ آپریشن فوری طور پر نہیں بلکہ تقریباً ایک ماہ بعد ہوگا۔ مریضہ کے شوہر کے مطابق: ’’میں موٹر سائیکل مکینک ہوں اور روزانہ کی مزدوری سے گھر چلاتا ہوں۔ اپنی استطاعت کے مطابق خون کا انتظام کیا، جس میں میری جمع پونجی خرچ ہوگئی۔ اس کے علاوہ علاج اور آنے جانے سمیت دیگر اضافی اخراجات بھی برداشت کرنا پڑے۔ اگر آپریشن فوری نہیں ہونا تھا تو مجھے پہلے ہی خون کے انتظام کے لیے کیوں کہا گیا؟‘‘ یہ معاملہ صرف ایک خاندان کی مالی پریشانی کا نہیں بلکہ مریضوں اور ان کے لواحقین کی آگاہی اور ہسپتالوں میں علاج کے اخراجات کے شفاف نظام سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ بعض مریض اور غریب خاندان طبی اصطلاحات، خون کے انتظام، آپریشن کی ضرورت اور علاج کے متبادل طریقوں سے پوری طرح واقف نہیں ہوتے، جس کے باعث وہ مالی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس شخص نے  پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن اسکا نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا
کہروڑ پکا: ڈاکٹر نورین مقبول سرجیکل ہسپتال میں مبینہ غفلت کا الزام، غریب مکینک کی داستان نے کئی سوالات کھڑے کر دیے کہروڑ پکا کے ایک موٹر سائیکل مکینک نے اپنی اہلیہ کے علاج کے حوالے سے مقامی سرجیکل ہسپتال کے بارے میں سنگین شکایات سامنے لاتے ہوئے کہا ہے کہ علاج کے دوران اسے نہ صرف خون کے انتظام کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ اضافی علاج اور دیگر اخراجات نے بھی اس کی مالی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔ متاثرہ شخص کے مطابق وہ مسلسل اسی ہسپتال سے اپنی اہلیہ کا چیک اپ کروا رہا تھا اور جب حمل آٹھویں ماہ میں پہنچا تو ڈاکٹرز کی جانب سے اسے خون کا انتظام کرنے کے لیے کہا گیا۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے تین بوتلیں خون کا بندوبست کرنے کا کہا گیا،کہ آج آپریشن کرنا ہو گا بچہ ٹھیک نہیں جس کے بعد اس نے کئی لوگوں سے منت سماجت کرکے خون جمع کیا۔ متاثرہ شخص کا دعویٰ ہے کہ خون کا انتظام کرنے کے بعد اسے بتایا گیا کہ اس کی اہلیہ کا آپریشن مذکورہ ہسپتال میں نہیں ہو سکتا کیونکہ وہاں اس نوعیت کی مطلوبہ سہولت موجود نہیں، لہٰذا اسے بہاولپور لے جانے کا کہا گیا۔ مریضہ کا شوہر مزید بتاتا ہے کہ وہ خون لے کر بہاولپور پہنچا، جہاں مبینہ طور پر اسے خون ہسپتال سے باہر رکھنے/واپس کرنے کا کہا گیا۔ چیک اپ کے بعد اسے بتایا گیا کہ آپریشن فوری طور پر نہیں بلکہ تقریباً ایک ماہ بعد ہوگا۔ مریضہ کے شوہر کے مطابق: ’’میں موٹر سائیکل مکینک ہوں اور روزانہ کی مزدوری سے گھر چلاتا ہوں۔ اپنی استطاعت کے مطابق خون کا انتظام کیا، جس میں میری جمع پونجی خرچ ہوگئی۔ اس کے علاوہ علاج اور آنے جانے سمیت دیگر اضافی اخراجات بھی برداشت کرنا پڑے۔ اگر آپریشن فوری نہیں ہونا تھا تو مجھے پہلے ہی خون کے انتظام کے لیے کیوں کہا گیا؟‘‘ یہ معاملہ صرف ایک خاندان کی مالی پریشانی کا نہیں بلکہ مریضوں اور ان کے لواحقین کی آگاہی اور ہسپتالوں میں علاج کے اخراجات کے شفاف نظام سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ بعض مریض اور غریب خاندان طبی اصطلاحات، خون کے انتظام، آپریشن کی ضرورت اور علاج کے متبادل طریقوں سے پوری طرح واقف نہیں ہوتے، جس کے باعث وہ مالی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس شخص نے پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن اسکا نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا

About