@saimtanvir0: حدیث کا مفہوم حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آپ ﷺ کو جہنم دکھائی گئی تو اس میں عورتیں زیادہ نظر آئیں۔ پوچھا گیا: کیا وہ اللہ کا انکار کرتی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں، بلکہ وہ شوہر کی ناشکری اور احسان فراموشی کرتی ہیں؛ مثلاً شوہر طویل عرصے تک اچھا سلوک کرے، پھر کوئی ایک بات پسند نہ آئے تو کہہ دیں: "میں نے تم سے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔" � Wikisource اہم وضاحت یہاں "کفر" سے مراد اللہ تعالیٰ کا کافر ہونا نہیں بلکہ شوہر کی نعمت، محبت اور احسان کی ناقدری/ناشکری ہے۔ شارحین نے بھی اسی معنی کی وضاحت کی ہے۔ � bukhari.lna.io +1 اس حدیث کا مقصد تمام عورتوں کو برا کہنا نہیں بلکہ ناشکری اور احسان فراموشی سے سختی سے بچانا ہے۔ مردوں کے لیے بھی دوسروں کے احسانات کی قدر کرنا اور اچھا برتاؤ کرنا ضروری ہے۔ حوالہ: صحیح بخاری، حدیث 29؛ صحیح مسلم، حدیث 907