@crypt0.expert: كيفية تحديد السيولة في الأسواق المالية من خلال تحليل هيكل السوق، حيث نشرح الفرق بين القمم الداخلية والخارجية وكيفية اختيار القمة المناسبة لاصطياد السيولة بناءً على كسر الهياكل السعرية #ictconcepts #تعلم_التداول #propfirmtrader #تداول #xauusdtrader

Crypto Expert | Adem OnChain
Crypto Expert | Adem OnChain
Open In TikTok:
Region: DZ
Thursday 01 October 2026 12:12:33 GMT
927
31
1
16

Music

Download

Comments

trfh.now
وائل :
جميل
2026-10-24 19:09:28
1
To see more videos from user @crypt0.expert, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ایک اللہ والے سے جب پوچھا گیا کہ تسبیح پڑھنے کا انداز کیا ہونا چاہیے؟ کچھ لوگ تسبیح کرتے ہوئے دانے اپنی جھولی میں ڈالتے ہیں اور کچھ لوگ تسبیح کرتے ہوئے دانے باہر کی جانب ڈالتے ہیں، تو اس سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: اگر آپ اللہ تعالیٰ سے برکت چاہتے ہیں، آپ اللہ تعالیٰ سے رحمت چاہتے ہیں، آپ اللہ تعالیٰ سے نعمتیں، برکت، کرم اور فضل چاہتے ہیں، اور اس حوالے سے آپ تسبیح کر رہے ہیں، درود شریف پڑھ رہے ہیں، اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ رہے ہیں، سورۂ فاتحہ پڑھ رہے ہیں یا سورۂ اخلاص پڑھ رہے ہیں،اولاد رزق کے لیے آیت دعا سورت پڑھ رہے ہیں تو اس صورت میں آپ تسبیح کے دانے اپنی جھولی میں ڈالیں گے۔ اس کی علامت یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے مانگ رہے ہیں اور عطا ہو رہا ہے، اور آپ اپنی جھولی میں ان نعمتوں کو سمیٹ رہے ہیں۔ لیکن اگر آپ کسی بیماری سے جان چھڑانا چاہتے ہیں، کسی مصیبت سے نجات چاہتے ہیں، اور اسی نیت سے تسبیح کر رہے ہیں، ذکر کر رہے ہیں، یا جادو، نظرِ بد اور بری چیزوں سے نجات کے لیے عمل کر رہے ہیں، تو اس صورت میں تسبیح کے دانے باہر کی جانب ڈالتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ آپ اس مصیبت، اس پریشانی، اس بیماری، جادو، جنات اور نظرِ بد سے چھٹکارا چاہتے ہیں، لہٰذا آپ ان دانوں کو باہر کی جانب ڈالتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ اس انداز کے اندر ایک راز پوشیدہ ہے۔ اگر تسبیح کرتے وقت اس کیفیت اور اس تصور کو اپنایا جائے تو عمل میں نفع پیدا ہوتا ہے، توجہ بڑھتی ہے اور دل کی یکسوئی میں اضافہ ہوتا ہے۔ یوں ذکر و تسبیح محض الفاظ کی تکرار نہیں رہتی بلکہ بندے کی نیت، طلب اور مقصد کے ساتھ ایک زندہ تعلق بن جاتی ہے۔ محمد تنویراقبال
ایک اللہ والے سے جب پوچھا گیا کہ تسبیح پڑھنے کا انداز کیا ہونا چاہیے؟ کچھ لوگ تسبیح کرتے ہوئے دانے اپنی جھولی میں ڈالتے ہیں اور کچھ لوگ تسبیح کرتے ہوئے دانے باہر کی جانب ڈالتے ہیں، تو اس سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: اگر آپ اللہ تعالیٰ سے برکت چاہتے ہیں، آپ اللہ تعالیٰ سے رحمت چاہتے ہیں، آپ اللہ تعالیٰ سے نعمتیں، برکت، کرم اور فضل چاہتے ہیں، اور اس حوالے سے آپ تسبیح کر رہے ہیں، درود شریف پڑھ رہے ہیں، اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ رہے ہیں، سورۂ فاتحہ پڑھ رہے ہیں یا سورۂ اخلاص پڑھ رہے ہیں،اولاد رزق کے لیے آیت دعا سورت پڑھ رہے ہیں تو اس صورت میں آپ تسبیح کے دانے اپنی جھولی میں ڈالیں گے۔ اس کی علامت یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے مانگ رہے ہیں اور عطا ہو رہا ہے، اور آپ اپنی جھولی میں ان نعمتوں کو سمیٹ رہے ہیں۔ لیکن اگر آپ کسی بیماری سے جان چھڑانا چاہتے ہیں، کسی مصیبت سے نجات چاہتے ہیں، اور اسی نیت سے تسبیح کر رہے ہیں، ذکر کر رہے ہیں، یا جادو، نظرِ بد اور بری چیزوں سے نجات کے لیے عمل کر رہے ہیں، تو اس صورت میں تسبیح کے دانے باہر کی جانب ڈالتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ آپ اس مصیبت، اس پریشانی، اس بیماری، جادو، جنات اور نظرِ بد سے چھٹکارا چاہتے ہیں، لہٰذا آپ ان دانوں کو باہر کی جانب ڈالتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ اس انداز کے اندر ایک راز پوشیدہ ہے۔ اگر تسبیح کرتے وقت اس کیفیت اور اس تصور کو اپنایا جائے تو عمل میں نفع پیدا ہوتا ہے، توجہ بڑھتی ہے اور دل کی یکسوئی میں اضافہ ہوتا ہے۔ یوں ذکر و تسبیح محض الفاظ کی تکرار نہیں رہتی بلکہ بندے کی نیت، طلب اور مقصد کے ساتھ ایک زندہ تعلق بن جاتی ہے۔ محمد تنویراقبال

About