@thegioithuvi_: Vì sao? #hoathinh #learnontiktok #hoathinh3d #kinhdi #giaitri

Thế Giới 3D
Thế Giới 3D
Open In TikTok:
Region: VN
Thursday 01 October 2026 13:01:38 GMT
2211
49
6
6

Music

Download

Comments

niku_cute.toxic
🎀ni_ku🎀 bell(toxic)🐰 :
Đầu :3
2026-10-01 13:10:45
2
ngc.giu0435
ngọc giàu🤯 :
somm
2026-10-01 13:31:32
0
thgbinto6
THE IT :
là j vậy ae dep zai
2026-10-01 14:11:05
0
baodepzai266215
bảo 2 k15 :
sớm
2026-10-01 13:15:54
0
ai.hi9546
.... :
[Ấm lòng][Ấm lòng][Ấm lòng]
2026-10-02 15:07:44
0
aido916
Bup Be Sai Gon :
🥰🥰🥰
2026-10-03 11:04:51
0
To see more videos from user @thegioithuvi_, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

السلام علیکم پیارے دوستو گناہ کا خوف اور ندامت کا وہ درجہ جو انسان کی جان لے  لے  کیا آپ نے کبھی ایسی توبہ کے بارے میں سنا ہے؟ یہ ‎ایک نوجوان صحابی کا واقعہ ہے جسکی شدید ندامت آج بھی دلوں کو لرزا دیتی ہے، اور جس کی تلاش میں خود دو عظیم صحابہ جنگل کی طرف نکلے۔ ‎ ‎مرحلہ 1 - پس منظر مشہور روایات میں آتا ہے کہ ثعلبہ بن عبدالرحمن نام کا ایک انصاری نوجوان تھا جو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں رہتا اور آپ ﷺ کے کام کاج کرتا تھا۔ ‎ آپ ﷺ کی مجلس میں بیٹھتا اور دین سیکھتا۔ ان کا دل اللہ کی محبت اور خوف سے لبریز تھا، اور وہ اپنے اعمال کے بارے میں نہایت حساس طبیعت کا مالک تھا۔ ‎ ‎ایک دن ایسا ہوا کہ ثعلبہ کسی کام سے کسی گھر کے قریب سے گزرے، اور نادانستہ طور پر ان کی نظر گھر کے اندر موجود ایک اجنبی عورت پر پڑ گئی جو غسل کر رہی تھی  یہ کوئی جان بوجھ کر کیا گیا گناہ نہ تھا، محض ایک بے اختیار لمحہ تھا جو پلک جھپکتے میں گزر گیا مگر اس کا دل لرز اٹھا۔ ‎ثعلبہ کا دل اس قدر نازک اور حساس تھا کہ اسی وقت ندامت نے ان کے پورے وجود کو جکڑ لیا۔ انہیں یہ خوف لاحق ہو گیا کہ کہیں اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے ان کی یہ لغزش پوری امت کے سامنے ظاہر نہ کر دے، اور مدینہ میں ان کا سر شرم سے جھک نہ جائے۔ ‎ ‎مرحلہ 2 - مرکزی موڑ ‎ ‎ اسی خوف اور شرمندگی میں ثعلبہ نے مدینہ منورہ کو چھوڑ دیا اور پہاڑوں اور بیابان کی طرف نکل گئے۔ وہاں انہوں نے چالیس دن روتے گڑگڑاتے اور اللہ سے معافی مانگتے گزارے۔ نہ کھانے کی فکر نہ آرام کی خواہش - بس ایک ہی دھن تھی کہ رب راضی ہو جائے۔ ‎ ‎کچھ دن ایسے گزرے کہ صحابہ کرام کو ثعلبہ کی غیر حاضری محسوس ہونے لگی۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا تو معلوم ہوا کہ وہ مدینہ چھوڑ کر کہیں چلے گئے ہیں۔ آپ کو وحی کے ذریعے ان کی حالت اور ٹھکانے کی خبر دی گئی، تو رحمت للعالمین ﷺ نے فوراً حضرت عمر اور حضرت سلمان فارسی جیسے جلیل القدر صحابہ کو حکم دیا کہ جاؤ ثعلبہ کو ڈھونڈ کر لے آؤ۔ ‎  ‎جب یہ دونوں عظیم صحابہ پہاڑوں اور بیابان میں پہنچے تو انہیں  راستے میں  ایک چرواہا ملا، جس نے بتایا کہ ایک نوجوان ہے جو روز آدھی رات کو پہاڑ کی اوٹ سے نکلتا ہے، پیشانی پر ہاتھ رکھ کر روتا ہوا چیختا ہے:
السلام علیکم پیارے دوستو گناہ کا خوف اور ندامت کا وہ درجہ جو انسان کی جان لے لے کیا آپ نے کبھی ایسی توبہ کے بارے میں سنا ہے؟ یہ ‎ایک نوجوان صحابی کا واقعہ ہے جسکی شدید ندامت آج بھی دلوں کو لرزا دیتی ہے، اور جس کی تلاش میں خود دو عظیم صحابہ جنگل کی طرف نکلے۔ ‎ ‎مرحلہ 1 - پس منظر مشہور روایات میں آتا ہے کہ ثعلبہ بن عبدالرحمن نام کا ایک انصاری نوجوان تھا جو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں رہتا اور آپ ﷺ کے کام کاج کرتا تھا۔ ‎ آپ ﷺ کی مجلس میں بیٹھتا اور دین سیکھتا۔ ان کا دل اللہ کی محبت اور خوف سے لبریز تھا، اور وہ اپنے اعمال کے بارے میں نہایت حساس طبیعت کا مالک تھا۔ ‎ ‎ایک دن ایسا ہوا کہ ثعلبہ کسی کام سے کسی گھر کے قریب سے گزرے، اور نادانستہ طور پر ان کی نظر گھر کے اندر موجود ایک اجنبی عورت پر پڑ گئی جو غسل کر رہی تھی یہ کوئی جان بوجھ کر کیا گیا گناہ نہ تھا، محض ایک بے اختیار لمحہ تھا جو پلک جھپکتے میں گزر گیا مگر اس کا دل لرز اٹھا۔ ‎ثعلبہ کا دل اس قدر نازک اور حساس تھا کہ اسی وقت ندامت نے ان کے پورے وجود کو جکڑ لیا۔ انہیں یہ خوف لاحق ہو گیا کہ کہیں اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے ان کی یہ لغزش پوری امت کے سامنے ظاہر نہ کر دے، اور مدینہ میں ان کا سر شرم سے جھک نہ جائے۔ ‎ ‎مرحلہ 2 - مرکزی موڑ ‎ ‎ اسی خوف اور شرمندگی میں ثعلبہ نے مدینہ منورہ کو چھوڑ دیا اور پہاڑوں اور بیابان کی طرف نکل گئے۔ وہاں انہوں نے چالیس دن روتے گڑگڑاتے اور اللہ سے معافی مانگتے گزارے۔ نہ کھانے کی فکر نہ آرام کی خواہش - بس ایک ہی دھن تھی کہ رب راضی ہو جائے۔ ‎ ‎کچھ دن ایسے گزرے کہ صحابہ کرام کو ثعلبہ کی غیر حاضری محسوس ہونے لگی۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا تو معلوم ہوا کہ وہ مدینہ چھوڑ کر کہیں چلے گئے ہیں۔ آپ کو وحی کے ذریعے ان کی حالت اور ٹھکانے کی خبر دی گئی، تو رحمت للعالمین ﷺ نے فوراً حضرت عمر اور حضرت سلمان فارسی جیسے جلیل القدر صحابہ کو حکم دیا کہ جاؤ ثعلبہ کو ڈھونڈ کر لے آؤ۔ ‎ ‎جب یہ دونوں عظیم صحابہ پہاڑوں اور بیابان میں پہنچے تو انہیں راستے میں ایک چرواہا ملا، جس نے بتایا کہ ایک نوجوان ہے جو روز آدھی رات کو پہاڑ کی اوٹ سے نکلتا ہے، پیشانی پر ہاتھ رکھ کر روتا ہوا چیختا ہے: "اے کاش! تو میری روح کو روحوں کے ساتھ قبض کر لیتا اور مجھے قیامت کے دن کے لیے باقی نہ رکھتا۔ قریب گئے تو دیکھا، ثعلبہ ریت پر بیٹھے، آنکھیں سوجی ہوئیں، جسم لاغر مگر زبان پر مسلسل استغفار جاری تھی۔ سوچیں جب حضرت عمر جيسا رعب والا صحابی بھی یہ منظر دیکھ کر خاموش رہ گیا ہو، تو وہ کیفیت کتنی شدید ہوگی ‎ مرحله 3 - انجام و اثرات دونوں صحابہ نے ثعلبہ کو نبی کریم ﷺ کے پاس واپس لانے کی کوشش کی اور بالآخر جبرائیل امین نے آپ ﷺ کو ان کی توبہ کی قبولیت کی خوشخبری سنا دی۔ روایت میں ہے کہ وہ نبی ﷺ کے سامنے آیا تو رحمۃ للعالمین ﷺ نے پوچھا: "ثعلبہ! تو مجھ سے کیوں چھپ گیا تھا؟" عرض کیا: "اے اللہ کے رسول! میرے گناہ نے۔" نبی ﷺ نے فرمایا: "کیا میں تمہیں ایسی آیت نہ بتاؤں جو گناہوں کو مٹا دیتی ہے؟" اور اسے دعا سکھائی: "ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الآخرۃ حسنۃ و قنا عذاب النار" (اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی دے، آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے)۔ وہ بولا: "اے اللہ کے رسول! میرا گناہ تو اس سے بہت بڑا ہے۔" نبی ﷺ نے فرمایا: "نہیں، اللہ کا کلام اس سے بھی بڑا ہے۔" روایت کے مطابق وہ جلد ہی بیمار ہوا اور بیماری میں نبی ﷺ اس کے پاس تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے اس کا سر اپنی گود میں رکھا۔ اس نے عرض کیا کہ میرے گناہ بہت ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "اللہ کی بخشش ان سے بھی بڑی ہے۔" اسی حالت میں اس کی روح پرواز کر گئی۔ نبی ﷺ نے خود اس کی نمازِ جنازہ پڑھی اور تدفین میں شریک ہوئے۔ (روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ نبی ﷺ پنجوں کے بل چل رہے تھے کہ فرشتے اتنے زیادہ ہیں۔ ‎ آپ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ ان کا خوف الہی اتنا شدید تھا کہ اسی خوف نے ان کا جگر پھاڑ دیا۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ سچی ندامت اور اللہ کا خوف انسان کے دل کو کس حد تک بدل سکتا ہے، اور یہ کہ نیک لوگوں کی محبت اللہ کے ہاں کبھی رائیگاں نہیں جاتی حوالہ جات طبرانی (المعجم الکبیر)، تفسیر ابن کثیر، تفسیر قرطبی (سورۂ آل عمران آیت 135)، الاصابہ (ابن حجر) #tiktokyou #fyp #foryouofficialpage #trending

About