یہ اس معاشرتی المیے کی عکاسی کرتی ہے جہاں ظاہری رسومات اور علامات کی محبت تو دلوں میں بستی ہے، مگر اس اصل غرض و غایت کو فراموش کر دیا جاتا ہے جس کے لیے وہ احکام آئے تھے۔
اسلامی تعلیمات میں انسان بالخصوص ایک مومن کی حرمت اور احترام کو بہت اونچا مقام دیا گیا ہے۔ احادیث مبارکہ میں آتا ہے کہ کعبے کی بنیادیں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام نے رکھیں، لیکن مومن کا دل اور اس کی عزت اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ محترم قرار دی گئی ہے۔
جب انسان پتھروں کی دیواروں سے تو عقیدت رکھے مگر اپنے ہی بھائی کے حقوق، اس کی عزت، اور اس کے احساسات کو پامال کرے، تو یہ روحِ دین سے دوری کی علامت بن جاتا ہے۔ اصل بندگی یہی ہے کہ انسان اللہ کی مخلوق کے ساتھ محبت، احترام اور خیر خواہی کا معاملہ کرے، کیونکہ کسی کا دل توڑنا یا کسی مومن کی تذلیل کرنا اللہ کے نزدیک ایک بہت بڑا گناہ ہے۔