اس تصویر میں پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کا ایک بہت ہی اہم اور گہرا فرمان درج ہے، آئیے اسے آسان الفاظ میں سمجھ لیتے ہیں:
* **تصویر کی تحریر:**
> "رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قبر کا ایک بھینچنا (دبانا) برحق ہے، اگر اس سے کوئی بچ سکتا تو سعد بن معاذؓ بچ جاتے۔" (مسند احمد، حدیث نمبر: ۲۳۲۸۳)
>
### **اس کا مطلب کیا ہے؟**
1. **قبر کا دباؤ ایک حقیقت ہے:**
حضور ﷺ نے بتایا کہ جب انسان کو قبر میں اتارا جاتا ہے، تو قبر ہر انسان کو (کم یا زیادہ) ایک بار سختی سے بھینچتی یا دباتی ہے۔ یہ ایک اٹل سچائی (*برحق*) ہے۔
2. **حضرت سعد بن معاذؓ کی مثال:**
اس کی شدت کو سمجھانے کے لیے آپ ﷺ نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا۔ یہ وہ جلیل القدر صحابی ہیں جن کی موت پر اللہ کا عرش بھی ہل گیا تھا اور ان کے جنازے میں ستر ہزار فرشتے شریک ہوئے تھے۔
3. **حاصلِ مطلب:**
پیارے نبی ﷺ یہ سمجھانا چاہ رہے ہیں کہ جب اتنے اونچے مرتبے والے اور اللہ کے مقرب صحابی بھی قبر کے اس دباؤ سے نہیں بچ سکے، تو عام انسانوں کے لیے یہ کتنی بڑی اور غور کرنے والی بات ہے۔
یہ ہم سب کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ ہم اپنی دنیا کی زندگی میں غافل نہ ہوں اور قبر و آخرت کی تیاری کریں۔ 🤍