یہ دراصل اردو کے مشہور صوفی شاعر عالمگیر بابا (مست توکلی) یا بعض مقامات پر روایتی صوفیانہ کلام کے طور پر پڑھا جاتا ہے، تاہم یہ عام طور پر منسوب کلام کی ذیل میں آتا ہے۔
"ملا! فرق یہی ہے تیری اور میری نماز میں
تیری حرم کے سامنے، میری صنم کے سامنے"
شعر کی تشریح و مفہوم
یہ شعر تصوف کے رمز "عشقِ حقیقی" اور ظاہری عبادت پر طنز کی ایک خوبصورت مثال ہے:
• •√ملا سے خطاب: یہاں شاعر روایتی یا ظاہری عبادت کرنے والے (ملا/زاہد) کو مخاطب کر کے کہہ رہا ہے کہ تمہاری اور میری عبادت میں نیت اور جذبے کا بنیادی فرق ہے۔
• •√حرم اور صنم کا تضاد: ملا کی نماز کعبہ (حرم) کے رخ پر محض ایک ظاہری سجدہ یا فرض کی ادائیگی ہے، جبکہ صوفی یا سچے عاشق کی نماز اس کے "صنم" (جو کہ تصوف کی اصطلاح میں ذاتِ باری تعالیٰ یا محبوبِ حقیقی کی علامت ہے) کے تصور اور کامل ڈوب کر ادا کی جاتی ہے۔
••√ حقیقی مدعا: شعر کا مقصد بت پرستی کی ترغیب دینا نہیں، بلکہ یہ بتانا ہے کہ سچی عبادت وہی ہے جس میں دل اپنے محبوب (خدا) کی محبت میں اس طرح محو ہو جائے جیسے کوئی سچا عاشق اپنے صنم کے سامنے ہوتا ہے۔
2026-10-02 15:06:56
1
To see more videos from user @zoeali4747, please go to the Tikwm
homepage.