@b90.q: #jaxteller #sonsofanarchy @whachplay1

basil
basil
Open In TikTok:
Region: SA
Friday 02 October 2026 15:30:57 GMT
2629
192
13
19

Music

Download

Comments

.r_yx
₂₅ :
تاريخي
2026-10-02 16:00:15
1
_r.r71
Faisal :
اووولل
2026-10-02 15:35:14
1
ali_2008_13
علي هروبي :
ملكعي
2026-10-02 17:17:19
1
r.iz.9
𝐃-𝐖𝐂 :
مبدعيي
2026-10-02 15:39:47
1
_r.r71
Faisal :
ياتااارييخيي يابااسللل
2026-10-02 15:35:21
1
_r.r71
Faisal :
فناان والله
2026-10-02 15:35:34
1
.r_yx
₂₅ :
فنانيي
2026-10-02 16:00:12
1
r.iz.9
𝐃-𝐖𝐂 :
رهييب
2026-10-02 15:39:51
1
anie_lovevitolo
anie_lovevitolo :
[Like][Perfekte Punktzahl]
2026-10-02 18:07:33
0
To see more videos from user @b90.q, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

شہید ریحان زیب خان — ایک نام، ایک جدوجہد، ایک خواب کچھ لوگ دنیا میں بہت کم عرصہ رہتے ہیں، مگر اپنی زندگی میں ایسے نقوش چھوڑ جاتے ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود مٹتے نہیں۔ شہید ریحان زیب خان بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھے۔ وہ صرف ایک سیاسی کارکن نہیں تھے بلکہ حافظِ قرآن، طالب علم رہنما، انجینئر، سماجی کارکن، نوجوانوں کی آواز، امن کے داعی اور اپنے لوگوں کے بہتر مستقبل کا خواب دیکھنے والے باہمت نوجوان تھے۔ ریحان زیب خان یکم جولائی 1994 کو ضلع باجوڑ کی تحصیل سالارزئی کے علاقے نارووبو/حیاسرئی میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں سے حاصل کی اور مدرسہ معارف القرآن نارووبو میں بھی تعلیم حاصل کی۔ 2008 میں حفظِ قرآن مکمل کیا۔ 2011 میں گورنمنٹ ڈگری کالج باجوڑ خار سے F.Sc پری انجینئرنگ مکمل کیا، HEC اسکالرشپ ٹیسٹ پاس کیا اور بعد ازاں Pir Mehr Ali Shah Arid Agriculture University Rawalpindi سے Agricultural Engineering کی تعلیم حاصل کی۔ لیکن ریحان زیب کی اصل پہچان صرف ان کی ڈگری نہیں تھی؛ ان کی اصل پہچان ان کی جدوجہد تھی۔ طالب علمی کے دور ہی سے انہوں نے قبائلی طلبہ اور نوجوانوں کے مسائل کے لیے آواز اٹھانا شروع کی۔ FATA Students Forum Pakistan قائم کیا اور بعد میں Tribal Youth Forum Pakistan کے ذریعے نوجوانوں کی تعلیم، حقوق اور تربیت کے لیے کام کیا۔ ان کی جدوجہد تعلیم، نوجوانوں کے حقوق، FATA کے عوام کے مسائل، FCR کے خاتمے، امن، تنازعات کے حل، کرپشن کے خلاف آگاہی، پانی، ماحولیات اور غریب خاندانوں کی مدد تک پھیلی ہوئی تھی۔ ان کی محنت انہیں قومی اور عالمی سطح تک لے گئی۔ National Youth Council Pakistan میں کردار ادا کیا اور Commonwealth Youth Forum، OIC Youth Forum اور World Bank Youth Summit جیسے پلیٹ فارمز پر پاکستان کے نوجوانوں کی نمائندگی کی۔ کورونا وبا کے دوران باجوڑ میں آگاہی مہم اور ضرورت مند خاندانوں تک خوراک پہنچانے کی کوششوں میں بھی کردار ادا کیا۔ بعد میں وہ پاکستان تحریکِ انصاف سے وابستہ ہوئے اور باجوڑ کے نوجوانوں میں ایک نمایاں سیاسی رہنما بن کر سامنے آئے۔ 2024 کے عام انتخابات میں انہوں نے NA-8 باجوڑ اور PK-22 سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔ وہ PTI سے وابستہ تھے، تاہم انتخابی میدان میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے موجود تھے۔ پھر آیا 31 جنوری 2024۔ باجوڑ کے صدیق آباد میں نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ ریحان زیب خان شدید زخمی ہوئے۔ انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا، مگر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے صرف 29 سال کی عمر میں شہید ہوگئے۔ مگر یاد رکھیں: گولی ایک انسان کے جسم کو خاموش کر سکتی ہے، اس کے خوابوں کو نہیں۔ ریحان زیب آج ہمارے درمیان نہیں، مگر ان کی جدوجہد آج بھی زندہ ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سوال دیتی ہے: کیا ہمارے نوجوانوں کو اپنے خواب پورے کرنے کے لیے محفوظ ماحول ملے گا؟ کیا باجوڑ کے نوجوان کو تعلیم، امن، عزت اور بہتر مستقبل کا حق ملے گا؟ اور ریحان زیب خان کے خون کو انصاف کب ملے گا؟ شہید کو خراجِ عقیدت صرف الفاظ سے نہیں بلکہ اس کے خوابوں کو زندہ رکھ کر دیا جاتا ہے۔ اگر ریحان زیب تعلیم چاہتے تھے تو ہمیں تعلیم کے لیے آواز اٹھانی ہوگی۔ اگر وہ نوجوانوں کے حقوق چاہتے تھے تو ہمیں نوجوانوں کے لیے کھڑا ہونا ہوگا۔ اگر وہ امن چاہتے تھے تو ہمیں امن کی بات کرنی ہوگی۔ اگر وہ اپنے لوگوں کی خدمت کرتے تھے تو ہمیں بھی ضرورت مندوں کا سہارا بننا ہوگا۔ ریحان زیب خان ایک شخص نہیں، ایک سوچ تھے۔ ایک نام نہیں، ایک جدوجہد تھے۔ ایک زندگی نہیں، ایک خواب تھے۔ وہ باجوڑ کی مٹی سے اٹھے، اپنے لوگوں کے لیے جئے اور اسی سرزمین پر شہید ہوگئے۔ وہ چلے گئے، مگر ان کا خواب باقی ہے۔ ان کی آواز خاموش ہوئی، مگر ان کا پیغام باقی ہے۔ ان کی زندگی ختم ہوئی، مگر ان کی جدوجہد باقی ہے۔ جب تک باجوڑ کا کوئی نوجوان کتاب اٹھا کر اپنے مستقبل کا خواب دیکھتا رہے گا، جب تک کوئی نوجوان اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتا رہے گا، اور جب تک امن و انصاف کی جدوجہد جاری رہے گی— ریحان زیب خان زندہ رہیں گے۔ شہید ریحان زیب خان کو سلام۔ باجوڑ کے اس بہادر بیٹے کو سلام۔ ان کی جدوجہد کو سلام۔ اور انصاف کی اس امید کو سلام جو آج بھی زندہ ہے۔ ریحان زیب خان شہید — تمہیں بھولا نہیں جائے گا، تمہارا خواب دفن نہیں ہوگا۔ 🕊️❤️‍🩹 منجانب: اسامہ خانزادہ
شہید ریحان زیب خان — ایک نام، ایک جدوجہد، ایک خواب کچھ لوگ دنیا میں بہت کم عرصہ رہتے ہیں، مگر اپنی زندگی میں ایسے نقوش چھوڑ جاتے ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود مٹتے نہیں۔ شہید ریحان زیب خان بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھے۔ وہ صرف ایک سیاسی کارکن نہیں تھے بلکہ حافظِ قرآن، طالب علم رہنما، انجینئر، سماجی کارکن، نوجوانوں کی آواز، امن کے داعی اور اپنے لوگوں کے بہتر مستقبل کا خواب دیکھنے والے باہمت نوجوان تھے۔ ریحان زیب خان یکم جولائی 1994 کو ضلع باجوڑ کی تحصیل سالارزئی کے علاقے نارووبو/حیاسرئی میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں سے حاصل کی اور مدرسہ معارف القرآن نارووبو میں بھی تعلیم حاصل کی۔ 2008 میں حفظِ قرآن مکمل کیا۔ 2011 میں گورنمنٹ ڈگری کالج باجوڑ خار سے F.Sc پری انجینئرنگ مکمل کیا، HEC اسکالرشپ ٹیسٹ پاس کیا اور بعد ازاں Pir Mehr Ali Shah Arid Agriculture University Rawalpindi سے Agricultural Engineering کی تعلیم حاصل کی۔ لیکن ریحان زیب کی اصل پہچان صرف ان کی ڈگری نہیں تھی؛ ان کی اصل پہچان ان کی جدوجہد تھی۔ طالب علمی کے دور ہی سے انہوں نے قبائلی طلبہ اور نوجوانوں کے مسائل کے لیے آواز اٹھانا شروع کی۔ FATA Students Forum Pakistan قائم کیا اور بعد میں Tribal Youth Forum Pakistan کے ذریعے نوجوانوں کی تعلیم، حقوق اور تربیت کے لیے کام کیا۔ ان کی جدوجہد تعلیم، نوجوانوں کے حقوق، FATA کے عوام کے مسائل، FCR کے خاتمے، امن، تنازعات کے حل، کرپشن کے خلاف آگاہی، پانی، ماحولیات اور غریب خاندانوں کی مدد تک پھیلی ہوئی تھی۔ ان کی محنت انہیں قومی اور عالمی سطح تک لے گئی۔ National Youth Council Pakistan میں کردار ادا کیا اور Commonwealth Youth Forum، OIC Youth Forum اور World Bank Youth Summit جیسے پلیٹ فارمز پر پاکستان کے نوجوانوں کی نمائندگی کی۔ کورونا وبا کے دوران باجوڑ میں آگاہی مہم اور ضرورت مند خاندانوں تک خوراک پہنچانے کی کوششوں میں بھی کردار ادا کیا۔ بعد میں وہ پاکستان تحریکِ انصاف سے وابستہ ہوئے اور باجوڑ کے نوجوانوں میں ایک نمایاں سیاسی رہنما بن کر سامنے آئے۔ 2024 کے عام انتخابات میں انہوں نے NA-8 باجوڑ اور PK-22 سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔ وہ PTI سے وابستہ تھے، تاہم انتخابی میدان میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے موجود تھے۔ پھر آیا 31 جنوری 2024۔ باجوڑ کے صدیق آباد میں نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ ریحان زیب خان شدید زخمی ہوئے۔ انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا، مگر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے صرف 29 سال کی عمر میں شہید ہوگئے۔ مگر یاد رکھیں: گولی ایک انسان کے جسم کو خاموش کر سکتی ہے، اس کے خوابوں کو نہیں۔ ریحان زیب آج ہمارے درمیان نہیں، مگر ان کی جدوجہد آج بھی زندہ ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سوال دیتی ہے: کیا ہمارے نوجوانوں کو اپنے خواب پورے کرنے کے لیے محفوظ ماحول ملے گا؟ کیا باجوڑ کے نوجوان کو تعلیم، امن، عزت اور بہتر مستقبل کا حق ملے گا؟ اور ریحان زیب خان کے خون کو انصاف کب ملے گا؟ شہید کو خراجِ عقیدت صرف الفاظ سے نہیں بلکہ اس کے خوابوں کو زندہ رکھ کر دیا جاتا ہے۔ اگر ریحان زیب تعلیم چاہتے تھے تو ہمیں تعلیم کے لیے آواز اٹھانی ہوگی۔ اگر وہ نوجوانوں کے حقوق چاہتے تھے تو ہمیں نوجوانوں کے لیے کھڑا ہونا ہوگا۔ اگر وہ امن چاہتے تھے تو ہمیں امن کی بات کرنی ہوگی۔ اگر وہ اپنے لوگوں کی خدمت کرتے تھے تو ہمیں بھی ضرورت مندوں کا سہارا بننا ہوگا۔ ریحان زیب خان ایک شخص نہیں، ایک سوچ تھے۔ ایک نام نہیں، ایک جدوجہد تھے۔ ایک زندگی نہیں، ایک خواب تھے۔ وہ باجوڑ کی مٹی سے اٹھے، اپنے لوگوں کے لیے جئے اور اسی سرزمین پر شہید ہوگئے۔ وہ چلے گئے، مگر ان کا خواب باقی ہے۔ ان کی آواز خاموش ہوئی، مگر ان کا پیغام باقی ہے۔ ان کی زندگی ختم ہوئی، مگر ان کی جدوجہد باقی ہے۔ جب تک باجوڑ کا کوئی نوجوان کتاب اٹھا کر اپنے مستقبل کا خواب دیکھتا رہے گا، جب تک کوئی نوجوان اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتا رہے گا، اور جب تک امن و انصاف کی جدوجہد جاری رہے گی— ریحان زیب خان زندہ رہیں گے۔ شہید ریحان زیب خان کو سلام۔ باجوڑ کے اس بہادر بیٹے کو سلام۔ ان کی جدوجہد کو سلام۔ اور انصاف کی اس امید کو سلام جو آج بھی زندہ ہے۔ ریحان زیب خان شہید — تمہیں بھولا نہیں جائے گا، تمہارا خواب دفن نہیں ہوگا۔ 🕊️❤️‍🩹 منجانب: اسامہ خانزادہ

About