@osamaghalib2: جب اقتدار میں تھا تو ہر گلی، ہر جلسے اور ہر فورم پر عوامی نیشنل پارٹی اور اسفندیار ولی خان کے خلاف بکواس اور طعنوں کی سیاست کرتا تھا۔ آج وہی شخص تین سال سے منظرِ عام سے غائب ہے۔۔۔۔۔جب کبھی آن لائن نمودار ہوتا ہے تو پسِ منظر میں کالا پردہ لگا کر اپنی موجودگی تک چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اسفندیار ولی خان اور عوامی نیشنل پارٹی آج بھی میدان میں موجود ہیں، کارکنوں کے درمیان کھڑے ہیں اور اپنی سیاست کی قیمت میدان میں ادا کر رہے ہیں؛ جبکہ کل کے بلند بانگ دعوے دار آج پردے کے پیچھے سے سیاست کر رہے ہیں۔ اقتدار کی کرسی پر بیٹھ کر دوسروں کو للکارنا آسان ہوتا ہے، اصل امتحان تب ہوتا ہے جب کرسی، اختیار اور سرکاری پروٹوکول سب ختم ہو جائیں۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ کون میدان کا سیاسی کارکن ہے اور کون صرف اقتدار کا ترجمان تھا۔۔۔#