sahi farmaya mufti shb Masha Allah salamat rhyn sir appreciate you
for this Great knowledge
aysy hi sir islah farmaty rhyn shukriya 🥰
2026-10-03 08:36:31
0
ghulam mustfa Qadri🌹❤️ :
@Shahid Razzaq:sahi farmaya mufti shb Masha Allah salamat rhyn sir appreciate you
for this Great knowledge
aysy hi sir islah farmaty rhyn shukriya 🥰
2026-10-03 15:19:10
0
Raheel Akhtar Ali :
🌹🌹🌹
2026-10-03 10:15:39
1
IRC MCD :
باقی قیامت میں کے روز تحت الاسباب ہے اور اللہ جیسے بھی عطا کرے وہ ہمارا پابند نہیں ہم۔پابند ہیں اللہ کے ہم کیسے مانگیں؟؟ یہ امتحان ہے ہمارا۔ سوال یہ ہے کہ ہم۔کیسے مانگیں جواب یہ آتا ہے کہ اللہ ایسے دیتا ہے سوال مخلوق کا کیا جا رہا ہے جواب خالق کی مثال سے دیا جا رہا ہے اللہ کی مثال مخلوق پر نہیں دی جا سکتی
2026-10-03 16:59:28
0
Asif Khan :
محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
2026-10-03 10:32:49
0
Mohammed Farooq :
حضوراکرم ﷺ کون سے نبی کی وسیلہ سے دعا کی جو خود الله کا متاج ھو
2026-10-03 11:49:52
0
Mr Javed :
حضرت صاحب جو آپ نے حدیث سنائی ہے اس وسیلے کا لفظ دکھائیں
2026-10-03 08:59:24
0
압둘 와합구자르 :
hamein to sb Kuch hazoor se hi ata ho rha ha
2026-10-03 09:42:23
0
~SÃRDÂR~ :
لبیک یا رسول اللہ
2026-10-03 12:54:01
0
M. Kashif :
جس کے وسیلے کو حرام کہہ رھے ھیں ان کو قرآن کس کے وسیلے سے ملا ؟
شیخ البانیؒ — صریح حکم: ضعیف
امام بخاری کی الأدب المفرد، حدیث 964 کے تحت روایت:
«خَدِرَتْرِجْلُابْنِ عُمَرَ، فَقَالَلَهُرَجُلٌ: اذْكُرْأَحَبّالنّاسِ إِلَيْكَ، فَقَالَ: يَا مُحَمّدُ»
کے بارے میں شیخ البانیؒ نے ضعيف الأدب المفرد، حدیث 964 میں حکم دیا:
«ضعيف»
2026-10-03 16:55:13
0
IRC MCD :
وہ تحت الاسباب ہے اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں نہیں ہیں
2026-10-03 16:32:25
0
IRC MCD :
عبدالرحمن بن زید بن اسلم
سند:
عبدالرحمن بن زید بن اسلم → اپنے والد زید بن اسلم → اپنے دادا → حضرت عمرؓ
امام بیہقی نے اسی روایت کو دلائل النبوۃ (5/488-489) میں نقل کرنے کے بعد واضح طور پر کہا:
«تَفَرّدَبِهِ عَبْدُالرّحْمَنِ بْنُزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ... وَهُوَضَعِيفٌ»
یعنی:
"اس روایت کو عبدالرحمن بن زید بن اسلم نے اس سند سے منفرد طور پر روایت کیا ہے، اور وہ ضعیف ہے
2026-10-03 16:42:55
0
IRC MCD :
دور فاروقی اور قبر نبی سے وسیلہ:
مالک دار سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں لوگ قحط میں مبتلا ہوگئے، ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر حاضر ہوئے اور عرض کی: اللہ کے رسول! آپ اپنی امت کے لیے بارش طلب فرمائیں، کیونکہ وہ قحط سالی کے باعث تباہ ہو گئی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں اس صحابی کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: عمر کے پاس جا کر میرا سلام کہیں اور انہیں بتائیں کہ تم سیراب کیے جاو گے اور عمر سے کہہ دو کہ عقلمندی سے کام لیں۔
(مصنف ابن ابی شیبہ:356/6،دلائل النبوّہ للبیھقی:47/7، تاریخ دمشق لابن عساکر:345/44،489/56)
1۔اس روایت کی سند ضعیف ہے،کیونکہ اعمش مدلس ہیں اور عن سے روایت کر رہے ہیں، ان کے سماع کی تصریح نہیں مل سکی۔
2۔سیدنا عمر سے بیان کرنے والا مالک دار مجہول الحال ہے۔
2026-10-03 16:35:42
0
IRC MCD :
زندہ سے دعا کروانا جائز ہے
2026-10-03 16:35:59
0
IRC MCD :
آدم علیہ سلام کی دعا والی روایت
حکم
امام ذہبی نے اس روایت کو باطل قرار دیا۔ �
امام بیہقی نے راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم کو ضعیف قرار دیا۔ �
شیخ البانی نے اسے موضوع قرار دیا۔ �
2026-10-03 16:42:08
0
M a khan :
کلمہ طیبہ میں حضور صلی اللہُعلیہ وسلم کانام پڑھ کر ایمان ملتا ھے حضور صلی اللہُعلیہ وسلم کانام نکال دو پھر مسلمان بن کر دکھا دو جب ایمان حضور صلی اللہُعلیہ وسلم کے وسیلے کے بغیر نہیں ملتا تو باقی نعمتوں کا کیا ذکر
2026-10-03 16:19:54
0
IRC MCD :
زندہ سے دعا کروانا جائز ہے اور جبہ میں شفاء سے کوئی منکر نہیں
2026-10-03 16:38:02
0
user76952490836 :
kahani
2026-10-03 10:48:47
0
IRC MCD :
2026-10-03 16:31:50
0
IRC MCD :
2026-10-03 16:31:44
0
Rana Nasir Noshai :
❤️❤️❤️
2026-10-03 09:03:05
0
IRC MCD :
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور قبرنبوی سے تبرک:
ابوالجوزا، اوس بن عبداللہ تابعی سے مروی ہے:
"ایک مرتبہ اہل مدینہ سخت قحط میں مبتلا ہو گئے۔ انہوں نے سیدہ عائشہ w سے شکایت کی، سیدا عائشہ wنے فرمایا: نبی کریم ع کی قبر کے پاس جاو اور وہاں سے ایک کھڑکی آسمان کی طرف کھولو، لوگوں نے ایسا ہی کیا تو بہت بارش ہوئی، یہاں تک کہ خوب سبزہ اگ آیا اور اونٹ ایسے ہو گئے کہ جیسے وہ چربی سے پھٹ پڑیں گے۔ لہذا اس سال کا نام عام الفقق (پیٹ پھٹنے والا سال) رکھ دیا گیا۔"
(سنن دارمی: 58/1،ح:93، مشکاہ المصابیح:5950)
اس روایت کی سند ضعیف ہے،کیونکہ اس کے راوی عمرو بن مالک نکری کی حدیث ابو الجوزا سے غیر محفوظ ہوتی ہے ، یہ روایت بھی ایسی ہی ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
امام ابن عدی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کو ابو الجوزا سے عمرو بن مالک نے تقریبا دس غیر محفوظ احادیث بیان کی ہیں۔
(تھذیب التھذب:336/1)
یہ اثر بھی انہی دس روایات میں سے ایک ہے لہذا یہ منکر ہے۔
2026-10-03 16:36:33
0
To see more videos from user @muftitahir20158, please go to the Tikwm
homepage.