@mr.baloch633: تشریح یہ بات انسانی مزاج کے ایک عجیب تضاد کو بیان کرتی ہے۔ بعض لوگ اپنی غلطیوں کے باوجود نہ پچھتاوا محسوس کرتے ہیں اور نہ اپنی حرکت کو غلط مانتے ہیں، جبکہ حساس اور مخلص لوگ کبھی ایسی بات کا الزام بھی برداشت نہیں کر پاتے جو انہوں نے کی ہی نہ ہو۔ صحیح انسان کے لیے صرف یہ کافی نہیں ہوتا کہ وہ خود کو بے قصور جانتا ہے؛ اُسے اس بات کا بھی دکھ ہوتا ہے کہ کسی نے اُس کے کردار کو غلط سمجھا۔ اسی لیے کبھی ایک بے بنیاد الزام بھی اُس کے دل پر بہت گہرا اثر چھوڑ دیتا ہے۔ یہ شعر ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ ہر الزام کو اپنی حقیقت نہ سمجھ لیا جائے۔ لوگوں کی رائے ہمیشہ حقیقت نہیں ہوتی۔ انسان کو اپنے کردار، نیت اور اعمال پر نظر رکھنی چاہیے، کیونکہ آخرکار یہی چیزیں اُس کی اصل پہچان بنتی ہیں۔ مختصر مفہوم بے حس انسان اپنی غلطی پر بھی مطمئن رہتا ہے، جبکہ حساس انسان بے قصور ہوتے ہوئے بھی الزام کا بوجھ دل پر لے لیتا ہے۔ ہر الزام سچ نہیں ہوتا؛ کبھی صاف کردار بھی لوگوں کی غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہے، اس لیے اپنی حقیقت کو دوسروں کی باتوں سے مت ناپو۔ ❤️🩹🖤 #Fidaa #Baloch #poetrycommunity #urdupoetry #foryoupage