یہاں کی چائے کو “The Best Chai” کہنا شاید کچھ زیادہ ہی مبالغہ ہے۔ جس برتن میں چائے تیار کی جا رہی ہے، اس کی صفائی اور مجموعی حفظانِ صحت کا معیار دیکھ کر تو چائے پینے کا دل ہی نہیں کرتا۔ افسوس کہ ہمارے ہاں ذائقے اور شہرت کے نام پر صفائی اور معیار کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
دودھ بھی اب وہ خالص دودھ نہیں رہا جو کبھی ہوا کرتا تھا؛ پانی کی ملاوٹ، کریم نکالا ہوا دودھ اور مختلف قسم کی ملاوٹیں عام شکایات ہیں۔ اسی طرح چائے کی پتی کے معیار پر بھی سوالات اٹھتے رہتے ہیں۔ یہی صورتِ حال برفی کے معاملے میں بھی نظر آتی ہے، حالانکہ اس گاؤں کی چائے اور برفی دونوں ہی مشہور ہیں۔
بلاگرز کو صرف “The Best” کہنے کے بجائے صفائی، معیار اور اصل ذائقے کو بھی ضرور دیکھنا چاہیے۔ کسی جگہ کی شہرت اپنی جگہ، لیکن اچھی خوراک کی اصل پہچان صفائی، معیاری اجزاء اور صحت کے اصولوں کی پابندی ہے۔