@zaheer.ud.din93: ##ایک خاموش انسان کی چیخ آج سڑک کے کنارے ایک فوڈ ڈلیوری کرنے والے شخص کو دیکھا، جو اپنے ہی منہ پر بار بار تھپڑ مار رہا تھا۔ وہ منظر چند لمحوں کا تھا، مگر دل پر ایک گہرا سوال چھوڑ گیا کہ آخر ایک انسان کو ایسی حالت تک پہنچنے کے لیے کتنی تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے؟ ہم نہیں جانتے کہ اس شخص کے دل میں کیا طوفان برپا تھا۔ شاید معاشی پریشانیوں نے اسے توڑ دیا ہو، شاید کام کا دباؤ حد سے بڑھ گیا ہو، یا شاید وہ اپنے ہی گھر کے حالات سے جنگ لڑ رہا ہو۔ ممکن ہے اسے اپنوں کی طرف سے ایسے الفاظ یا رویے کا سامنا ہو جنہوں نے اسے اندر سے زخمی کر دیا ہو۔ حقیقت کیا ہے، یہ صرف وہی جانتا ہے۔ لیکن ایک بات ضرور سوچنے کی ہے: جب کوئی انسان خود کو اس طرح تکلیف پہنچانے لگے تو اسے تنقید، طعنوں اور مزید سختی کی نہیں، بلکہ سمجھنے اور سہارا دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے گھر والوں کے نام ایک گزارش ہے: اگر یہ شخص آپ کا اپنا ہے تو خدارا اس کے خاموش درد کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ ہر انسان اپنی پریشانی الفاظ میں بیان نہیں کر پاتا۔ کچھ لوگ گھر سے نکل کر سارا دن محنت کرتے ہیں، مسکراتے ہوئے لوگوں کے دروازوں تک کھانا پہنچاتے ہیں، مگر اپنے اندر ایسی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں جس کا کسی کو اندازہ نہیں ہوتا۔ گھر وہ جگہ ہونا چاہیے جہاں انسان دنیا کی تھکن اور پریشانی سے واپس آ کر سکون محسوس کرے۔ اگر کوئی اپنا پہلے ہی زندگی کی مشکلات سے لڑ رہا ہو تو اسے مزید توڑنے کے بجائے اس کا ہاتھ تھام لینا چاہیے۔ کبھی اس کے ساتھ بیٹھ کر صرف اتنا پوچھ لیجیے، “تم ٹھیک تو ہو؟ کوئی پریشانی ہے تو ہمیں بتاؤ، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔” ممکن ہے یہ چند الفاظ اس شخص کے لیے بہت بڑی امید بن جائیں۔ کسی انسان کی اصل حالت اس کے چہرے سے ہمیشہ معلوم نہیں ہوتی۔ جو شخص سارا دن دوسروں کے گھروں تک خوشی پہنچانے کے لیے محنت کرتا ہے، ضروری نہیں کہ اس کے اپنے گھر میں بھی سکون ہو۔ اس لیے اپنے لوگوں کو وقت دیں، ان کی بات سنیں، ان کی عزت کریں اور ان کے درد کو معمولی نہ سمجھیں۔ کیونکہ کبھی کبھی انسان مدد مانگ نہیں پاتا، مگر اس کی خاموشی مدد کے لیے پکار رہی ہوتی ہے۔ کسی اپنے کو ٹوٹنے سے پہلے سنبھال لینا، شاید محبت کی سب سے بڑی شکل ہے۔#trendingsong