@haider.abbasofficial: مقدس شہروں میں بجلی کی تاریخ پر ایک نظر 🕋⚡ حجاز میں بجلی کی آمد کا آغاز عثمانی دور کے آخری حصے میں سلطان عبدالحمید ثانی کے دورِ حکومت میں ہوا، جنہوں نے مقدس شہروں میں جدید بنیادی ڈھانچے کو ترجیح دی۔ مکہ مکرمہ (مسجد الحرام) میں بیسویں صدی کے اوائل میں حجاجِ کرام کی بڑھتی ہوئی تعداد کے لیے بجلی کی فراہمی میں تدریجی پیش رفت ہوئی۔ حرم میں اللہ کے مہمانوں کی آسائش، حفاظت اور عبادت کو آسان بنانے کے لیے روشنی کا بہترین انتظام کیا گیا۔ اس دور میں نظامِ حیدرآباد نے جدید پاور سسٹم کے لیے فنڈز فراہم کر کے اور اسے نصب کروا کر تاریخی کردار ادا کیا، جس سے خاص طور پر مدینہ منورہ اور حرمین شریفین سے منسلک خدمات کو زبردست تقویت ملی۔ وقت کے ساتھ ساتھ مسجد الحرام کا نظامِ برق اس جدید اور پیشترفتہ نظام میں بدل گیا جو ہم آج دیکھتے ہیں، جس سے حج اور عمرہ ادا کرنے والے لاکھوں حجاج کے لیے سہولت یقینی بنی۔ الله تعالیٰ ان تمام لوگوں کو جزائے خیر دے جنہوں نے اپنے گھر کی خدمت میں حصہ لیا۔ آمین! 🤲✨ #makkah #masjidilharam #kaaba #saudiaarabia #haiderabbasofficial
1918 میں مکہ مکرمہ کانام حجاز مقدس تھا عثمانی حکومت ختم ہونے کے بعد 1932 میں حجاز مقدس کا نام تبدیل کرکے سعودی عرب رکھ دیا
2026-10-04 04:58:06
1
Zakir Ullah Zakir :
مسجد نبوی ﷺ میں بجلی عثمانی خلیفہ *سلطان عبد الحمید ثانی* کے دور میں آئی۔
- پہلا بلب *1325ھ / 1907ء* میں لگایا گیا۔
- اور باقاعدہ طور پر *25 شعبان 1326ھ بمطابق 1 ستمبر 1908ء* کو مسجد نبوی میں بجلی سے روشنی کی گئی۔ یہ وہی دن تھا جس دن حجاز ریلوے کا افتتاح ہوا تھا۔ 0dd0
کہا جاتا ہے سلطان عبد الحمید نے اپنے محل یلدز پیلس میں اس وقت تک بجلی لگوانے سے انکار کر دیا تھا جب تک مسجد نبوی روشن نہ ہو جائے۔
اس سے پہلے مسجد نبوی میں 600 تیل کے دیئے جلتے تھے، اور اس سے بھی پہلے صحابہ کے دور میں کھجور کے پتوں سے روشنی کی جاتی تھی۔ حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ 9 ہجری میں پہلا تیل کا چراغ لائے تھے۔ 0dd01388