@aliimran_writes: ہم ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں لوگوں کو پردے پر دکھایا گیا دکھ سچا محسوس ہوتا ہے، مگر کسی انسان کی آنکھوں میں حقیقت کے آنسو نظر آئیں تو وہ اُس کے درد کو بھی اداکاری سمجھ لیتے ہیں۔ افسانوی کردار کا غم دل کو چھو جاتا ہے، لیکن سامنے بیٹھے ہوئے انسان کا خاموش دکھ اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ شاید اس لیے کہ ڈرامے کا دکھ دیکھنے میں آسان ہوتا ہے؛ اُس میں ہم صرف تماشائی ہوتے ہیں، مگر کسی حقیقی انسان کے درد کو سمجھنے کے لیے ہمیں اپنا وقت، اپنی توجہ اور اپنے احساسات دینا پڑتے ہیں۔ اور آج کی مصروف دنیا میں لوگ دوسروں کے دکھ کو سمجھنے کے بجائے اُس پر ایک لفظ کہہ کر آگے بڑھ جانا آسان سمجھتے ہیں۔ کتنے لوگ ہمارے درمیان ایسے ہیں جو ہنستے ہوئے بھی اندر سے ٹوٹ رہے ہیں، مگر اُن کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ کر کوئی نہیں پوچھتا کہ **تم واقعی ٹھیک ہو؟** کچھ لوگ مدد نہیں مانگتے، صرف چاہتے ہیں کہ کوئی اُن کے خاموش درد کو سمجھ لے۔ اس لیے کسی کے آنسو کو فوراً ڈرامہ مت سمجھو۔ ممکن ہے وہ شخص اپنی پوری زندگی میں پہلی بار اپنے دل کا بوجھ باہر نکال رہا ہو۔ ہر درد شور نہیں کرتا، کچھ تکلیفیں صرف آنکھوں سے خاموشی سے بہتی ہیں۔ **ڈرامے کے آنسو دیکھ کر رو دینا آسان ہے؛ کسی کے حقیقی آنسو سمجھ لینا انسانیت ہے۔** #foryou