@silentstrength9661: کبھی کبھی انسان کو توڑنے کے لیے زندگی کے سارے دکھ کافی نہیں ہوتے، **صرف ایک شخص کا بچھڑنا ہی کافی ہوتا ہے۔** وہ شخص جس کے سامنے ہم نے اپنی ساری کمزوریاں رکھ دیں، جسے اپنا سمجھ کر ہر خوف سے بے نیاز ہو گئے… پھر وہی جب رخصت ہوتا ہے تو ساتھ صرف اپنی یاد نہیں لے جاتا، **ہماری وہ ذات بھی لے جاتا ہے جو اُس کے ہوتے ہوئے زندہ تھی۔** میں نے بھی بہت کچھ سہا، بہت کچھ کھویا، کئی زخم وقت کے حوالے کیے… مگر یہ ایک دکھ ایسا تھا جس نے مجھے اندر سے خاموش کر دیا۔ اب نہ شکوہ ہے، نہ سوال، نہ کسی واپسی کی امید— **بس ایک عجیب سا خلا ہے، جو ہر گزرتے دن کے ساتھ اور گہرا ہوتا جا رہا ہے۔** اور شاید سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی ہے کہ **جسے میں اپنی زندگی کا ایک خوبصورت باب سمجھتی رہی، وہ میرے نصیب میں صرف ایک ایسا صفحہ تھا… جسے چاہ کر بھی دوبارہ نہیں پڑھ سکتی۔*