@kia_idn: From experiencing to choosing Kia ✨ Dari mencoba langsung hingga memilih Kia, simak pengalaman mereka di GIIAS Semarang 2026. Hari terakhir! Jangan lewatkan kesempatan untuk merasakan pengalaman berkendara bersama The all-new Seltos, The all-new Carens, dan The new Sonet. 📍 Muladi Dome UNDIP 📅 30 September – 4 October 2026 #KiaIndonesia #LeadTheStreet #DriveYouProud #KiaExperienceAtGIIAS2026

Kia Indonesia
Kia Indonesia
Open In TikTok:
Region: ID
Sunday 04 October 2026 05:23:24 GMT
3358
284
1
6

Music

Download

Comments

hanifadri0
YOU ARE MY :
2026-10-04 08:45:47
0
To see more videos from user @kia_idn, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ایک ایسا لمحہ... جب کائنات بالکل خاموش تھی۔ نہ رنگ تھے، نہ روپ۔ نہ کوئی گیت تھا، نہ کوئی دُھن۔ آدم تنہا تھا۔ ایک خاموش صحرا کی طرح۔ ایک بے صدا ساز کی طرح۔ آدم نے آنکھیں کھولیں۔ ہر طرف وسعت تھی۔ ہر طرف خوبصورتی تھی۔ پرندے چہچہا رہے تھے۔ درخت جھوم رہے تھے۔ پانی گنگنا رہا تھا۔ لیکن... آدم کا دل خالی تھا۔ اس کی روح میں ایک پیاس تھی۔ ایک عجیب سی اداسی تھی۔ ایک نہ مٹنے والی تنہائی تھی۔ وہ بولتا... تو آواز لوٹ کر واپس آ جاتی۔ وہ مسکراتا... تو کوئی سامنے مسکرانے والا نہ تھا۔ کائنات کی ہر چیز جوڑے میں تھی۔ رات کے ساتھ دن تھا۔ سورج کے ساتھ چاند تھا۔ پھول کے ساتھ خوشبو تھی۔ روشنی کے ساتھ سائے تھے۔ بس آدم... اکیلا تھا۔ پھر... قدرت کے دل میں رحم آیا۔ ایک شاہکار بنانے کا فیصلہ ہوا۔ ایک ایسا شاہکار... جو کائنات کو مکمل کر دے۔ جو آدم کی تنہائی کو مٹا دے۔ ایک رات... آدم پر گہری نیند طاری ہوئی۔ ایک میٹھی نیند۔ ایک سکون بخش نیند۔ کائنات کی سانسیں تھم گئیں۔ فرشتے حیرت سے دیکھنے لگے۔ آج کیا بننے جا رہا ہے؟ آج کون سا معجزہ ہونے والا ہے؟ خالقِ کائنات نے انتخاب کیا۔ سر کے حصے سے نہیں بنایا... تاکہ وہ حاکم نہ بن جائے۔ پاؤں کے حصے سے نہیں بنایا... تاکہ وہ پامال نہ ہو۔ بلکہ... آدم کی پسلی سے! دل کے قریب سے! بازو کے نیچے سے! تاکہ وہ ہمیشہ محفوظ رہے۔ تاکہ وہ ہمیشہ دل کے قریب رہے۔ تاکہ اس سے محبت کی جائے۔ پھر... اس تخلیق میں رنگ بھرے گئے۔ تھوڑی سی صبح کی روشنی لی گئی۔ تھوڑی سی چاندنی گھولی گئی۔ گلاب کی نرمی ملائی گئی۔ ہرن کی آنکھوں سے حیا لی گئی۔ پرندوں سے مٹھاس لی گئی۔ اور ماں کے جذبے کی گرمی شامل کی گئی۔ پھر اس میں روح پھونکی گئی۔ آدم کی آنکھ کھلی۔ سامنے ایک حُسن تھا۔ ایک مجسمۂ وفا تھا۔ ایک چمکتا ہوا روپ تھا۔ وہ عورت تھی! حوا! اس کا چہرہ صبح کا سویرا تھا۔ اس کی مسکراہٹ زندگی کا پیغام تھی۔ اس کی آنکھوں میں محبت کا سمندر تھا۔ آدم نے اسے دیکھا۔ اس کا دل دھڑک اٹھا۔ اس کی تنہائی کافور ہو گئی۔ اس کی دنیا روشن ہو گئی۔ آدم کے لبوں سے نکلا:
ایک ایسا لمحہ... جب کائنات بالکل خاموش تھی۔ نہ رنگ تھے، نہ روپ۔ نہ کوئی گیت تھا، نہ کوئی دُھن۔ آدم تنہا تھا۔ ایک خاموش صحرا کی طرح۔ ایک بے صدا ساز کی طرح۔ آدم نے آنکھیں کھولیں۔ ہر طرف وسعت تھی۔ ہر طرف خوبصورتی تھی۔ پرندے چہچہا رہے تھے۔ درخت جھوم رہے تھے۔ پانی گنگنا رہا تھا۔ لیکن... آدم کا دل خالی تھا۔ اس کی روح میں ایک پیاس تھی۔ ایک عجیب سی اداسی تھی۔ ایک نہ مٹنے والی تنہائی تھی۔ وہ بولتا... تو آواز لوٹ کر واپس آ جاتی۔ وہ مسکراتا... تو کوئی سامنے مسکرانے والا نہ تھا۔ کائنات کی ہر چیز جوڑے میں تھی۔ رات کے ساتھ دن تھا۔ سورج کے ساتھ چاند تھا۔ پھول کے ساتھ خوشبو تھی۔ روشنی کے ساتھ سائے تھے۔ بس آدم... اکیلا تھا۔ پھر... قدرت کے دل میں رحم آیا۔ ایک شاہکار بنانے کا فیصلہ ہوا۔ ایک ایسا شاہکار... جو کائنات کو مکمل کر دے۔ جو آدم کی تنہائی کو مٹا دے۔ ایک رات... آدم پر گہری نیند طاری ہوئی۔ ایک میٹھی نیند۔ ایک سکون بخش نیند۔ کائنات کی سانسیں تھم گئیں۔ فرشتے حیرت سے دیکھنے لگے۔ آج کیا بننے جا رہا ہے؟ آج کون سا معجزہ ہونے والا ہے؟ خالقِ کائنات نے انتخاب کیا۔ سر کے حصے سے نہیں بنایا... تاکہ وہ حاکم نہ بن جائے۔ پاؤں کے حصے سے نہیں بنایا... تاکہ وہ پامال نہ ہو۔ بلکہ... آدم کی پسلی سے! دل کے قریب سے! بازو کے نیچے سے! تاکہ وہ ہمیشہ محفوظ رہے۔ تاکہ وہ ہمیشہ دل کے قریب رہے۔ تاکہ اس سے محبت کی جائے۔ پھر... اس تخلیق میں رنگ بھرے گئے۔ تھوڑی سی صبح کی روشنی لی گئی۔ تھوڑی سی چاندنی گھولی گئی۔ گلاب کی نرمی ملائی گئی۔ ہرن کی آنکھوں سے حیا لی گئی۔ پرندوں سے مٹھاس لی گئی۔ اور ماں کے جذبے کی گرمی شامل کی گئی۔ پھر اس میں روح پھونکی گئی۔ آدم کی آنکھ کھلی۔ سامنے ایک حُسن تھا۔ ایک مجسمۂ وفا تھا۔ ایک چمکتا ہوا روپ تھا۔ وہ عورت تھی! حوا! اس کا چہرہ صبح کا سویرا تھا۔ اس کی مسکراہٹ زندگی کا پیغام تھی۔ اس کی آنکھوں میں محبت کا سمندر تھا۔ آدم نے اسے دیکھا۔ اس کا دل دھڑک اٹھا۔ اس کی تنہائی کافور ہو گئی۔ اس کی دنیا روشن ہو گئی۔ آدم کے لبوں سے نکلا: "تم کون ہو؟" ایک نرم، ریشمی اور دھیمی آواز آئی: "میں تمہارا سکون ہوں۔" "میں تمہاری تکمیل ہوں۔" "میں عورت ہوں۔" اور یوں... دنیا کو پہلا گیت ملا۔ کائنات کو پہلی شاعری ملی۔ زندگی کو پہلا رنگ ملا۔ عورت... نہ صرف پسلی سے بنی، بلکہ محبت کے سانچے میں ڈھالی گئی۔ وہ صبر کا روپ ہے۔ وہ ممتا کی چھاؤں ہے۔ وہ زندگی کا پہلا قدم ہے۔ اور کائنات کا سب سے خوبصورت معجزہ ہے! مگر... کچھ لوگ یہ سچ بھول گئے۔ انہوں نے عورت کو کمتر سمجھ لیا۔ انہوں نے اس کی تخلیق کے راز کو نہ سمجھا۔ وہ کہتے ہیں: "عورت تو ٹیڑھی پسلی سے بنی ہے۔" اور وہ اس کی اس ساخت کو اس کی خامی سمجھتے ہیں۔ لیکن وہ نہیں جانتے... یہ ٹیڑھا پن اس کا عیب نہیں، یہ تو اس کا حسن ہے! یہ تو اس کی حفاضت کی شکل ہے! جیسے انسان کی پسلی ٹیڑھی ہو کر دل کی حفاظت کرتی ہے، ویسے ہی عورت کا مزاج نرمی، جذبات اور محبت سے گھرا ہے۔ باز لوگ اس کی اس نازک فطرت کو نہیں سمجھتے۔ وہ اس کی "انا" یا "اکڑ" توڑنا چاہتے ہیں۔ وہ اسے زبردستی، سخت رویے اور غصے سے سیدھا کرنا چاہتے ہیں۔ مگر کائنات کا قانون کہتا ہے: اگر تم اسے سخت رویے سے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے... تو وہ سیدھی نہیں ہوگی، بلکہ ٹوٹ جائے گی! اور اس کا ٹوٹنا... رشتوں کا ٹوٹنا ہے۔ محبت کا ختم ہو جانا ہے۔ عورت کوئی لوہا نہیں جسے تپا کر سیدھا کیا جائے۔ عورت تو پھول کی پتلی ہے! عورت تو شیشے کا مجسمہ ہے! اسے تسخیر کرنا ہے؟ تو غصے سے نہیں... محبت سے کرو! اس کی عزت کرو۔ اس کی نازک طبع کا احترام کرو۔ وہ تحکم اور سختی سے بکھر جاتی ہے۔ مگر پیار اور توجہ سے موم ہو جاتی ہے۔ اسے کمتر مت سمجھو! وہ مرد کی پیروں کی خاک نہیں کہ پامال کی جائے۔ وہ سر کا تاج نہیں کہ غرور کا سبب بنے۔ وہ تو دل کے پاس کی پسلی ہے... تاکہ اسے سینے سے لگا کر رکھا جائے! تاکہ اسے حفاظت اور پیار دیا جائے! عورت کو سمجھو... اسے بدلنے کی نہیں، اسے محبت دینے کی ضرورت ہے! یاد رکھو... عورت کوئی عام مخلوق نہیں، بلکہ قدرت کا سب سے انمول تحفہ ہے۔ وہ جس روپ میں بھی تمہاری زندگی میں آئے، وہ رحمت بن کر آتی ہے۔ * ماں کے روپ میں: وہ تمہارے وجود کی وجہ ہے۔ اس کے قدموں تلے تمہاری جنت ہے۔ اس کی خدمت کرو، اس کی بات مانو اور کبھی اس کی آنکھوں میں آنسو مت آنے دو۔ * بہن کے روپ میں: وہ تمہارے گھر کی رونق اور بچپن کی میٹھی یاد ہے۔ اسے بے پناہ پیار دو، اس کی ڈھال بنو اور اس کی عزت کی حفاظت کرو۔ * بیوی کے روپ میں: وہ تمہاری شریکِ حیات اور تمہارے دل کا سکون ہے۔ اس پر بلاوجہ حکم مت چلاؤ، نہ ہی اس کی قدر کو کم سمجھو۔ اسے اپنی برابری کا درجہ دو، اس کے نازک مزاج کا احترام کرو اور اسے پیار سے سنبھالو۔

About