@ch.rashid480: ہم اس چیز سے چمٹے رہتے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے، کیونکہ ذہن اس خالی پن سے ڈرتا ہے جو اس کی رہائی کے بعد آتا ہے۔ کبھی کبھی انسان کسی ایسی وابستگی کو بھی چھوڑنے سے خوف زدہ ہوتا ہے جو اسے مسلسل اذیت دے رہی ہو، کیونکہ وہ اس تکلیف کا عادی ہو چکا ہوتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اگر اس نے اس چیز کو چھوڑ دیا تو اس کی زندگی میں ایک ایسا خلا پیدا ہو جائے گا جسے پُر کرنا شاید ممکن نہ ہو۔ حالانکہ بعض اوقات سکون حاصل کرنے کے لیے اسی چیز سے دست بردار ہونا پڑتا ہے جسے ہم اپنی زندگی کا لازمی حصہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔